قصّۂ داؤد اور اسرائیلی خرافات
اشاعت: 1938ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مضمون سورۂ ص کے دوسرے رکوع میں مذکور حضرت داؤد علیہ السلام کے قصے کے بارے میں ایک قاری کے شکوک کے جواب میں لکھا گیا ہے۔ مولانا مودودی وضاحت کرتے ہیں کہ اس قصے کی روایتی تفسیروں میں اسرائیلی خرافات کی آمیزش نے اس کے اصل حسن و مدعا کو دھندلا دیا ہے، جس کی وجہ سے عام قارئین کو اس آیت کے مطالعے میں الجھن پیش آتی ہے۔
وہ سورۂ ص کے سیاق و سباق کی روشنی میں یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ قصہ دراصل کفارِ مکہ کو تنبیہ کرنے کے سلسلے میں پیش کیا گیا ہے، اور اس کا صحیح مفہوم اسرائیلی روایات سے پاک کرکے سمجھنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید نے اسے کس فائدے کے پیشِ نظر بیان کیا ہے۔
قصّۂ داؤد اور اسرائیلی خرافات
کچھ مدت ہوئی ناظرین ترجمان القرآن میں سے ایک صاحب نے اس قصے کے متعلق اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا جو سورۂ ص کے دوسرے رکوع میں حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق بیان ہوا ہے[عموماً پرانے طرز کی تفسیروں میں یہ قصّہ کچھ بیان ہی اس طرح ہوا ہے کہ جو اللہ کا بندہ اسے پڑھتا ہے، وہ خلجان میں پڑ جاتا ہے۔]۔ اگرچہ ان کو ایک مختصر جواب بروقت دے دیا گیا، مگر بعد میں خیال آیا کہ یہ قصّہ قرآن مجید کے اُن مقامات میں سے ہے جن کے حسن و جمال کو اسرائیلی خرافات کے غبار نے اکثر لوگوں کی نظروں سے چھپا دیا ہے، اور جن کے متعلق عام طور پر متداول تفسیروں یا ترجموں کی مدد سے قرآن مجید کا مطالعہ کرنے والوں کو شبہات اور سخت شبہات پیش آتے ہیں۔ لہٰذا اس پر ایک مستقل مضمون لکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ قصّہ قرآن حکیم میں کس فائدے کے لیے بیان کیا گیا ہے، اور اس کا صحیح مفہوم کیا ہے۔
سورۂ ص اس مضمون سے شروع ہوتی ہے کہ نبیؐ کا پیغام سن کر کفار ضد اور ہٹ دھرمی اور تقلید آبائی کی بنا پر آپ کو جھٹلاتے ہیں، اور ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ قومِ نوحؑ اور عاد اور فرعون اور ثمود اور قومِ لوطؑ اور قومِ شعیبؑ کا حوالہ دے کر انھیں متنبہ کرتا ہے کہ یاد رکھو! ہمارے قانون میں کسی کے لیے رُو رعایت نہیں ہے، تم سے پہلے جس جس نے ہمارے فرمان سے سرتابی کی ہے اُس کو سخت سزا دی جا چکی ہے، اور اب اگر تم سرکشی کرو گے تو کوئی چیز تم کو ہمارے عذاب سے نہ بچا سکے گی۔
اسی تنبیہ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ آگے چل کر بیان فرماتا ہے کہ ہمارا قانون تو ایسا بے لاگ ہے کہ معمولی درجے کے انسان تو کیا چیز ہیں، بڑے بڑے عالی مرتبہ لوگ حتیٰ کہ نبی اور پیغمبر بھی اگر ہمارے مقرر کیے ہوئے طریق حق سے بال برابر جنبش کرتے ہیں تو ہم ان کو بھی گرفت کیے بغیر نہیں چھوڑتے۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوٗدَ۔ اے نبی! ان کو ذرا ہمارے خاص بندے داؤد کا حال سناؤ۔ یہ کس پائے کا شخص تھا؟ ذَاالْاَیْدِ۔ بڑی قوتوں کا مالک، بڑی نعمتوں سے سرفراز کیا ہوا۔ اِنَّہٗ اَوَّاب o (ص 17:38) اور اس کے ساتھ نہایت خدا ترس، دائماً اپنے مالک کی طرف رجوع کرنے والا۔ اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَہٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ o وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَۃً كُلٌّ لَّہٗ اَوَّابٌ (ص 19:38) صبح و شام خدا کا ذکر اس جوش، اس جذبے کے ساتھ کرتا تھا کہ پہاڑ اور پرندے تک اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتے تھے۔ وَشَدَدْنَا مُلْکَہٗ وَاٰتَیْنٰہُ الْحِکْمَۃَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ o (ص 20:38) ہم نے اس کو نہایت مضبوط، طاقتور سلطنت عطا کی تھی، حکمت اور دانش مندی کی نعمت سے نوازا تھا اور اس کو فیصلہ کن بات کہنے کی قابلیت بخشی تھی، مگر تمھیں معلوم ہے کہ جب اس سے ایک معاملے میں لغزش ہوگئی تھی تو ہم نے کیا کیا؟
<<وَهَلْ اَتٰىكَ نَبَؤُا الْخَصْمِ ۘ اِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ o اِذْ دَخَلُوْا عَلٰى دَاوٗدَ فَفَزِعَ مِنْهُمْ قَالُوْا لَا تَخَفْ خَصْمٰنِ بَغٰى بَعْضُنَا عَلٰى بَعْضٍ فَاحْكُمْ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَلَا تُشْطِطْ وَاهْدِنَآ اِلٰى سَوَآءِ الصِّرَاطِ ص 22:38>>
کیا تمھیں اُن مقدمہ والوں کی خبر پہنچی ہے جو دیوار پھاند کر داؤد کی خلوت گاہ[ محراب سے مراد محراب مسجد نہیں ہے جیسا کہ ایک عام اُردو خواں آدمی سمجھتا ہے بلکہ دراصل اس سے مراد بالا خانہ ہے۔] میں گھس آئے تھے؟ ان کے اس طرح اچانک ایسی جگہ پہنچ جانے سے جب داؤدؑ گھبرا گئے، تو انھوں نے کہا: آپ پریشان نہ ہوں، ہم دونوں فریق مقدمہ ہیں، جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیں، حق سے تجاوز نہ کریں اور ہمیں عدل کا راستہ دکھائیں۔
مقدمہ کیا تھا؟ ایک فریق نے دوسرے فریق کی طرف اشارہ کر کے کہا:
<<اِنَّ هٰذَآ اَخِیْ لَهٗ تِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ نَعْجَةً وَّلِیَ نَعْجَةٌ وَّاحِدَةٌ فَقَالَ اَكْفِلْنِیْهَا وَعَزَّنِیْ فِی>>الْخِطَابِ ہ ص 23:38
بے شک یہ میرا بھائی ہے، یعنی دینی بھائی اور ہم قوم، اس کے پاس ۹۹ دُنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک دُنبی، یہ مجھ سے کہتا ہے کہ تو اپنی ایک دُنبی بھی مجھے دے دے اور اس مطالبے میں یہ اپنی شان وشوکت سے مجھے دبا لیتا ہے۔
داؤد علیہ السلام اس رُودادِ مقدمہ کو سن کر فرماتے ہیں:
<< لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ اِلَى نِعَاجِهِ وَاِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْخُلَطَآءِ لَيَبْغِى بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَقَلِيْلٌ مَّا هُمْ ص 24:38 >>
بلاشبہ اس شخص نے ظلم کیا کہ اتنی دُنبیاں رکھتے ہوئے بھی تیری ایک دُنبی مانگ بیٹھا اور اکثر ہمسایوں کا یہی حال ہے کہ ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے ہیں، بجز ایسے لوگوں کے جو ایمان دار اور نیکوکار ہیں، مگر ایسے لوگ کم ہی ہیں۔
یہ فیصلہ دینے کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کو یکا یک خیال آیا کہ ایسی ہی ایک لغزش مجھ سے بھی ہوچکی ہے، چنانچہ وہ فوراً خدا کے خوف سے لرز اُٹھے اور توبہ واستغفار کرنے لگے:
<< وَظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهٗ وَخَرَّ رَاكِعًا وَّ اَنَابَ ہ ص 24:38 >>
داؤد (علیہ السلام) کو معاً یہ گمان ہوا کہ یہ مقدمہ بھیج کر ہم نے اس کو آزمائش میں ڈالا ہے، چنانچہ اسی وقت اس نے اپنے پروردگار سے عفووبخشش کی دعا کی اور سجدے میں گر پڑا اور بار بار توبہ کی۔
جب داؤد علیہ السلام نے اس طرح اپنی لغزش کا اعتراف کیا اور سچے دل سے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
<< فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ وَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ ہ ص 25:38 >>
ہم نے اس کی وہ خطا معاف کردی اور یقیناً وہ ہمارے ہاں مقرب ہے اور اس کی اچھی منزلت ہے۔
مگر اس کے ساتھ ہی ہم نے اس کو ان الفاظ میں سختی کے ساتھ تنبیہ بھی کی کہ:
<< يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِى الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اِنَّ الَّذِيْنَ يَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا نَسُوْا يَوْمَ الْحِسَابِ ہ ص 26:38 >>
اے داؤد (علیہ السلام) ! ہم نے تجھ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور اپنے نفس کی پیروی نہ کر ، کہ یہ خواہشات کہیں تجھ کو اللہ کے راستے سے بھٹکا نہ دیں ، جو لوگ اللہ کے راستے سے بھٹکتے ہیں یقیناً ان کے لیے سخت عذاب ہے، کیونکہ وہ روزِ حساب کو بھول گئے ۔
جیسا کہ ابتدا میں بیان کیا جا چکا ہے، سورۂ ص میں اس قصے کو بیان کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ جو لوگ خدا سے بے خوف اور اس کے بے لاگ قانون سے ناواقف ہیں، انھیں متنبہ کر دیا جائے کہ اس احکم الحاکمین کے ہاں کسی کے ساتھ رو رعایت نہیں ہے۔ اس کے قانون سے بال برابر انحراف بھی اگر ہوگا تو اس پر گرفت ضرور ہوگی ، اور کوئی بڑی سے بڑی شخصیت بھی اس کی گرفت سے نہ بچے گی ، اِلّا یہ کہ سچے دل سے توبہ کرے، اخلاص کے ساتھ اس کی جناب میں رجوع کرے اور اپنے آقا کے مقابلے میں کبر کے بجائے عجز اختیار کرے، لیکن اس کے ساتھ ایک اور ضمنی فائدہ بھی ہے جس کے لیے یہ قصہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، اور وہ ایک جلیل القدر نبی کے حق میں یہود کی غلط بیانیوں کو دور کرنا ہے۔
یہود کے متعلق معلوم ہے کہ انھوں نے خود اپنی قوم کے انبیا پر ناپاک الزامات لگانے اور ان کی سیرتوں کو داغ دار کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا ہے۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم ، حضرت لوط ، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب ، حضرت یوسف ، حضرت موسیٰ ،حضرت ہارون علیہم السلام غرض کوئی ان بدگویوں سے نہ بچ سکا[(۱) جو اصحاب اس کی تفصیل معلوم کرنا چاہیں‘ وہ بائبل کے حسب ذیل مقامات نکال کر دیکھیں :
٭ حضرت نوح علیہ السلام کے بارے میں‘ پیدائش باب ۹‘ آیت: ۲۰۔۲۵
٭ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق‘ پیدائش باب ۱۲‘ آیت: ۱۰۔۲۰‘ باب ۲۰‘ آیت: ۱۔۱۳
٭ حضرت لوط علیہ السلام کے متعلق‘ پیدائش باب ۱۹‘ آیت: ۳۰۔۳۸
٭ حضرت اسحاق علیہ السلام کے متعلق‘ پیدائش باب ۲۶‘ آیت: ۷۔۱۱
٭ حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق‘ پیدائش باب ۲۷‘ آیت ۱۔۳۸‘ باب ۲۹‘ آیت: ۱۶۔۲۹‘ باب ۳۴ مکمل‘ باب ۳۶‘ آیت: ۲۲
٭ حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق‘ پیدائش باب ۳۷‘ آیت: ۲۔۴
٭ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق‘ گنتی باب ۳۱‘ آیت: ۱۔۱۸
٭ حضرت ہارون علیہ السلام کے متعلق‘ خروج باب ۳۲‘ آیت: ۱۔۲۴]، لیکن سب سے زیادہ ظلم انھوں نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہما السلام پر کیا کہ ان کو انبیا کی صف سے نکال کر معمولی بادشاہوں کی صف میں اتار لائے، اور ان کو اس حیثیت سے پیش کیا کہ وہ ڈپلومیٹ ہیں، فاتح اور مدبر ہیں، جھوٹ، فریب، ظلم اور ان تمام وسائل سے توسیع مملکت کرتے ہیں، جن سے دنیا کے دوسرے فاتحوں اور جہانگیروں نے کام لیا ہے، اور اپنے نفس کی خواہشات پوری کرنے کے لیے وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جو عام بادشاہوں کا شیوہ ہے۔ حد یہ کہ ان لوگوں نے حضرت داؤد علیہ السلام پر زنا اور حضرت سلیمان علیہ السلام پر شرک کا الزام لگانے میں بھی باک نہیں کیا۔[ملاحظہ ہو: سلاطین اوّل باب ١١ آیت: ١-١٠] یہ اس قوم کا برتاؤ اپنے اُن بزرگوں کے ساتھ ہے جنھوں نے اس کو ذلت کی خاک سے اُٹھا کر عزت کے آسمان پر پہنچایا۔ آج جن تاریخی مفاخر پر یہ قوم ناز کرتی ہے، وہ سب انھی بزرگوں کی بدولت اسے نصیب ہوئے ہیں، اور انھی کی پاک سیرتوں پر اس نے سیاہی کے چھینٹے پھینکے ہیں۔
دُنیا میں صرف ایک قرآن ہی ایسی کتاب ہے جس نے ان انبیائے کرام میں سے ایک ایک کی پوزیشن صاف کی، اور ان کے اصل مرتبہ و مقام سے دنیا کو روشناس کیا۔ اگر قرآن نہ آتا تو آج کوئی شخص ان بزرگوں کو نبی ماننا تو درکنار، عزت سے ان کا نام لینا بھی گوارا نہ کرتا۔ بنی اسرائیل چاہے اس احسان کو نہ مانیں، مگر احسان کا احسان ہونا اس کا محتاج نہیں کہ اس کا اعتراف بھی ہو۔
سیدنا داؤد علیہ السلام کے متعلق یہود کی پہلی غلطی تو یہ ہے کہ وہ ان کی نبوت کے قائل نہیں ہیں، بلکہ ان کو محض اپنی قوم کا ایک ہیرو سمجھتے ہیں۔[بائبل میں ان کی فضیلت صرف اس قدر بیان کی گئی ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بنی اسرائیل کے لیے بادشاہ نامزد کیے گئے تھے اور خدا کے حکم سے ان کے وقت کے نبی نے ان کو مسح کیا تھا جو بنی اسرائیل میں کسی کے مامور من اللہ ہونے کی علامت تھی۔] قرآن اس کی اصلاح کرتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ وہ ایک جلیل القدر نبی تھے اور اللہ نے ان کو بڑا مرتبہ عطا فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کے سلسلے میں وہ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کا بھی ذکر کرتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ <<كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ>> (الانعام 85:6) یہ سب لوگ صالح تھے۔ <<كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِيْنَ>> (الانعام 86:6) ان سب کو ہم نے دنیا جہان والوں پر فضیلت عطا کی۔ <<وَ اجْتَبَيْنٰهُمْ وَ هَدَيْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ>> (الانعام 87:6) اور ہم نے ان کو برگزیدہ کیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ <<اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ>> (الانعام 89:6) یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت سے سرفراز کیا۔ اور یہ سب کچھ کہنے کے بعد نبیؐ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ <<اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ>> (الانعام 90:6) ان لوگوں کو اللہ نے راہِ راست دکھائی تھی، لہٰذا جس راستے پر وہ چلے ہیں اُسی پر تم بھی چلو۔
دوسرا زبردست داغ جو حضرت داؤد علیہ السلام کی سیرت پر یہودیوں نے لگایا وہ اُوریاہ حِتّی کی بیوی کے معاملے میں ہے۔ کتابِ صموئیل، باب ۱۱۔۱۲ میں اس کی پوری تفصیل درج ہے، جس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے:
ایک روز شام کے وقت داؤد اپنے محل کی چھت پر ٹہل رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عورت پر پڑی جو نہا رہی تھی، بے حد خوبصورت عورت تھی۔ داؤد نے دریافت کرایا کہ یہ کون ہے؟ معلوم ہوا بت سبع بنت الیعام اس کا نام ہے، اُوریاہ حِتّی کی بیوی ہے۔ داؤد نے اس کو بلا بھیجا اور رات اپنے پاس رکھا۔ اُسی رات وہ حاملہ ہوگئی اور بعد میں داؤد کو اُس نے اپنے حمل کی اطلاع دے دی۔
اس کے بعد داؤد نے اُوریاہ کو یوآب کے پاس بھیج دیا جو اس وقت بنی عمون سے لڑنے گیا ہوا تھا، اور شہر ربّہ کا محاصرہ کیے پڑا تھا۔ اُس نے یوآب کو لکھا کہ اُوریاہ کو جنگ میں کسی ایسی جگہ مامور کر جہاں سخت معرکہ ہو اور پھر اس کو اکیلا چھوڑ کر الگ ہو جا، تاکہ وہ مارا جائے۔ چنانچہ یوآب نے ایسا ہی کیا اور وہ مارا گیا۔
اس طرح اُوریاہ کو ٹھکانے لگانے کے بعد داؤد نے اس عورت سے نکاح کر لیا اور اسی کے پیٹ سے حضرت سلیمان علیہ السلام پیدا ہوئے۔
خدا کو داؤد (علیہ السلام) کا یہ فعل ناگوار گزرا اور اس نے ناتن نبی کو داؤد کے پاس بھیجا۔
ناتن نے اس سے کہا کہ ایک شہر میں دو شخص تھے، ایک مالدار تھا، دوسرا فقیر۔ مالدار شخص کے پاس بہت سی بکریاں اور گائیں تھیں اور فقیر کے پاس صرف ایک چھوٹی سی دُنبى تھی جس کو وہ بڑی محبت سے پالتا تھا۔ ایک مرتبہ مال دار شخص کے پاس کچھ مہمان آئے۔ اس نے نہ چاہا کہ اپنی بکریوں اور گایوں میں سے کسی کو کاٹے۔ فقیر کی دُنبى لے لی اور اس سے ضیافت کا سامان کیا۔ یہ قصہ سن کر داؤد بہت غضب ناک ہوا اور کہا کہ ایسا شخص ضرور مارا جائے گا اور فقیر کو ایک کے بدلے چار دُنبیاں دلوائی جائیں گی۔ ناتن نبی نے کہا کہ وہ شخص تو تو ہی ہے اور اسے اُور یاہ حتّی کا واقعہ یاد دلایا۔
اس قصے میں حضرت داؤد علیہ السلام کے اخلاق کی ایسی تصویر کھینچی گئی ہے جو ایک نبی تو درکنار ایک معمولی بادشاہ کے لیے بھی انتہائی شرم ناک ہے۔ یہودیوں میں یہ قصہ بچے بچے کی زبان پر چڑھا ہوا تھا۔ حضرت داؤد علیہ السلام کی زندگی کے نمایاں واقعات میں اس کو شمار کیا جاتا تھا، اس پر عجیب عجیب حاشیے چڑھائے گئے تھے اور مزے لے لے کر اس کو بیان کیا جاتا تھا۔ غیر ممکن تھا کہ قرآن ایک عالی مرتبہ پیغمبر کی سیرت پر اس داغ کو گوارا کرتا۔ اس نے مذکورہ بالا آیات میں حکمت و موعظت کا درس دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ اصل واقعہ کیا ہے، اور اس پر جھوٹے حاشیے کتنے چڑھائے گئے ہیں۔
قرآن مجید کے بیان سے واقعہ کی حقیقت یہ معلوم ہوتی ہے کہ سیدنا داؤد علیہ السلام نے اُوریاہ (یا جو کچھ بھی اس کا نام رہا ہو) سے محض یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے۔ ان کی شخصی عظمت کو پیش نظر رکھ کر وہ ایک طرح سے اپنے آپ کو طلاق دینے پر مجبور پارہا تھا، مگر قبل اس کے کہ وہ طلاق دیتا قوم کے دو نیک آدمی حضرت داؤد کے پاس اچانک پہنچ گئے اور انھوں نے اس معاملے کو ایک فرضی مقدمے کی صورت میں ان کے سامنے پیش کیا۔ مقدمہ سن کر حضرت داؤد نے وہی فیصلہ دیا جو ایسے معاملے کا برحق فیصلہ ہو سکتا تھا، لیکن معاً ان کو خیال آیا کہ یہ تو میرا رب میری آزمائش کر رہا ہے، چنانچہ فوراً انھوں نے توبہ کی اور غایت درجے کی عاجزی کے ساتھ خدا سے اپنے قصور کی بخشش چاہی۔
اس بیان کو سامنے رکھ کر جب ہم تورات کی روایت کو دیکھتے ہیں تو بادنیٰ تامل یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ اصل واقعہ جب مشہور ہوا ہو گا تو اس پر حاشیے کس طرح چڑھ گئے ہوں گے۔ شریر النفس اور خبیث طینت لوگوں کا قاعدہ ہے کہ جب کسی آدمی، خصوصاً بڑے آدمی کے متعلق چھوٹی سی بات کی بھنک ان کے کان میں پڑ جاتی ہے تو فوراً ان کی قوت متخیلہ اپنا کام شروع کر دیتی ہے، اور وہ محض اپنے ذہن سے بہت سی امکانی صورتیں فرض کر کے ان کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا یہ محقق واقعات ہیں۔ ہر انسان سے خواہ وہ کیسے ہی بڑے درجے کا آدمی ہو، کبھی نہ کبھی کوئی ایسا فعل ضرور ہو جاتا ہے جس کو آسانی کے ساتھ بُرے معنی پہنائے جا سکتے ہیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے جو کچھ کیا تھا، اگرچہ وہ بنی اسرائیل کے ہاں ایک عام دستور[ اسرائیلیوں کے ہاں یہ کوئی معیوب بات نہ تھی کہ کوئی شخص کسی کی بیوی کو پسند کر کے اس سے طلاق کی درخواست کرے۔ نہ درخواست کرنے والا اس میں تکلف کرتا تھا اور نہ وہ شخص، جس سے درخواست کی جاتی، اس پر بُرا مانتا تھا۔ اور یہ تو ایک عمدہ اخلاق کی بات سمجھی جاتی تھی کہ کوئی شخص کسی دوست کو خوش کرنے یا اس کی تکلیف رفع کرنے کے لیے اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس کے نکاح میں دے دے۔ چنانچہ یہ یہودی اخلاق ہی کا اثر تھا کہ مدینہ میں بعض انصار اپنے مہاجر بھائیوں کی خاطر اپنی بیویوں کو طلاق دے کر اُن سے بیاہ دینے پر آمادہ ہو گئے تھے۔] تھا اور اسی دستور سے متاثر ہو کر ان سے یہ لغزش سرزد ہو گئی تھی، مگر چونکہ ایک بڑے آدمی کا فعل تھا اس لیے فوراً شہرت پکڑ گیا اور اس پر لوگوں نے حاشیے چڑھانے شروع کر دیئے۔ اُوریاہ سے طلاق کا مطالبہ یہ گمان کرنے کے لیے کافی تھا کہ حضرت داؤدؑ اس کی بیوی کی طرف میلان رکھتے ہیں۔ اب لوگوں کے ذہن نے ٹٹولنا شروع کیا کہ یہ میلان آخر ہوا کیونکر؟ کسی ذاتِ شریف کو یہ بات سوجھ گئی کہ غالباً اپنے محل پر سے اس کو نہاتے میں دیکھ لیا ہوگا، مگر اُن کی صداقت شعاری نے ”ہوگا“، کو محض ”ہوگا“ کی صورت میں بیان کرنا پسند نہ کیا، اس لیے انھوں نے ”ہوگا“ کو ”ہے“ میں تبدیل کر کے لوگوں سے بیان کیا۔ رفتہ رفتہ یہ ایک واقعہ بن گیا۔ حالانکہ میلان ہونے کے بہت سے اسباب ہو سکتے تھے۔ ممکن ہے کہ حضرت داؤدؑ نے اس خاتون کی قابلیت اور اس کی اعلیٰ صلاحیتوں کا حال سن کر اسے پسند کیا ہو، لیکن بُرے نفوس کی شرارت ہمیشہ ایسے بُرے امکانات ہی کی طرف مائل ہوتی ہے۔
پھر جب لوگوں کو یقین ہو گیا کہ حضرت داؤد اس عورت کی طرف مائل ہیں، تو ان کی نالائق فطرت یہ بات ماننے کے لیے کسی طرح تیار نہ ہوئی کہ ایک بادشاہ کسی عورت کی طرف مائل ہو، اور وہ اسے حاصل نہ کرے۔ چنانچہ انھوں نے یہ بھی فرض کر لیا کہ داؤد علیہ السلام نے اس عورت کو بلایا ہو گا اور اس سے زنا کیا ہو گا۔ یہ ”ہو گا“ بھی بہت جلدی ”ہے“ میں تبدیل ہو گیا اور اس پر حمل کا مزید حاشیہ چڑھا دیا گیا۔
اسرائیلی قوم اس وقت تک ایک زندہ قوم تھی، اور اس میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جو کسی بڑے سے بڑے آدمی کو بھی اس کی غلطی پر ٹوکنے میں تامل نہیں کرتے۔ جب یہ قصہ مشہور ہوا تو اس قسم کے لوگوں میں سے دو آدمی حضرت داؤد کے پاس پہنچ گئے اور انھوں نے تمثیل کے پیرایہ میں ان کو متنبہ کیا۔ چنانچہ آنجناب فوراً اپنے فعل سے تائب ہو گئے، لیکن یا تو اس توبہ کا علم لوگوں کو نہیں ہوا، یا اگر ہوا بھی تو بدفطرت لوگوں کو اس کا یقین نہ آیا۔ بہر حال توبہ کے بعد حضرت داؤد تو اپنی جگہ اُوریاہ کی بیوی کا خیال چھوڑ چکے تھے، مگر لوگوں نے اس کا خیال نہ چھوڑا۔ اُوریاہ ایک فوجی افسر تھا۔ اس کا کسی مہم پر جانا کوئی انوکھا فعل نہ تھا، اور جنگ میں اس کا مارا جانا بھی کوئی نرالی بات نہ تھی، مگر چونکہ لوگوں کے ذہن میں وہ واقعہ تازہ تھا، اور وہ ایک نبی کی پادشاہت اور ایک نفس پرست آدمی کی پادشاہت میں فرق کرنے سے اپنی طبیعت کی افتاد کی بنا پر عاجز تھے، اس لیے جب اُوریاہ جنگ میں گیا اور مارا گیا، تو انھوں نے اس طرح قیاس قائم کیا کہ داؤد علیہ السلام اس کی بیوی پر مائل تھے، اور وہ پادشاہ ہونے کی حیثیت سے اُوریاہ کا قصہ پاک کر کے اس کی بیوی کو حاصل کرنے کی قدرت بھی رکھتے تھے، اس لیے ضرور انھوں نے قصداً اُوریاہ کو جنگ پر بھجوایا ہو گا اور قصداً ایسی تدبیر کی ہو گی کہ وہ مارا جائے۔ یہ ”ہو گا“ بھی بآسانی ”ہے“ میں تبدیل کر دیا گیا اور بڑھتے بڑھتے یوآب کو خط لکھنے کا قصہ تصنیف ہو گیا۔
کوئی شخص کسی عورت کو پسند کرتا ہو، اور وہ عورت بیوہ ہو جائے، تو اس شخص کا اس عورت سے نکاح کر لینا کوئی نرالی یا معیوب بات نہیں ہے، مگر جب حضرت داؤد نے بت سبع سے نکاح کیا (جیسا کہ بائبل کا بیان ہے) تو اسرائیلی عوام نے سمجھا کہ یہ ان تمام
ا فواہوں کی صداقت کا قطعی ثبوت ہے جو اس سلسلے میں اڑ رہی تھیں۔ یہاں پھر اسرائیلیوں نے اپنی اصلی طینت کا اظہار کیا۔ گو ایسے معاملے میں ہمیشہ دو مساوی الدرجہ امکان ہوا کرتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص نے اپنی پسندیدہ عورت کو حاصل کرنے کی کوشش نہ کی ہو، اور اس کے بیوہ ہوجانے کے بعد کوئی اخلاقی و قانونی مانع نہ پاکر اس سے نکاح کرلیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے اسے حاصل کرنے کے لیے مجرمانہ تدبیریں کی ہوں۔ کسی شہادت کی غیر موجودگی میں ایک امکان کو دوسرے امکان پر قطعی ترجیح نہیں دی جاسکتی، لیکن ایسے مواقع پر انسان کی طینت اپنے آپ کو بے نقاب کرتی ہے۔ نیک طینت آدمی کا میلان ہمیشہ اچھے امکان کی طرف ہوتا ہے، اور اگر وہ شخص جس سے ایسا واقعہ متعلق ہو، صالح اور نیک چلن ہو تو نیک طینت یہی حکم لگائے گا کہ اس کا دامن [ نیک گمان کرنے کے لیے حضرت داؤد علیہ السلام کی پوری سیرت کافی گواہ تھی۔ خود بائبل میں جہاں یہ قصہ بیان ہوا ہے اس سے پہلے اور اس کے بعد حضرت داؤد علیہ السلام کی پوری سوانح عمری درج ہے۔ ہر شخص اس کو دیکھ کر اندازہ کر سکتا ہے کہ جو شخص ایسا عالی ظرف اور خدا ترس تھا اس سے وہ حرکات کیسے سرزد ہو سکتی تھیں جو اسی بائبل میں اس مردِ خدا کی طرف منسوب کی گئی ہیں۔] پاک ہے لیکن بدطینت آدمی ہمیشہ ہر طرف گندگی ہی گندگی ڈھونڈتا ہے۔ اس کی فطرت خود گندگی مانگتی ہے، اس لیے معاملات میں وہ ہمیشہ بُرے امکان ہی کو ترجیح دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اگر شہادت سے اس کی تردید ہوجائے، تب بھی اندر سے اس کا دل نہیں مانتا۔
یہاں پہنچ کر قرآن اور بائبل میں اتنا نمایاں فرق ہوجاتا ہے جتنا روشنی اور تاریکی کا فرق ہے۔ قرآن بنی اسرائیل کے ایک ہیرو کی زندگی کو روشن کر کے دکھاتا ہے اور اس کے دامن پر ایک معمولی لغزش کا داغ بھی دھوئے بغیر نہیں چھوڑتا، مگر خود بنی اسرائیل جس کتاب کو کتاب مقدس کہہ کر پیش کرتے ہیں، وہ اُن کے ہیرو کی وہ تصویر بھی پیش نہیں کرتی جو پاک طینت انسانوں کے ذہن میں آنی چاہیے، بلکہ ایسی تصویر پیش کرتی ہے جسے اس قوم کے نہایت بدطینت سفہا نے کھینچا تھا۔ یہودی اور عیسائی اس کتاب کو خدا کی کتاب کہتے ہیں، حالانکہ اس میں ایک جگہ نہیں سینکڑوں مقامات پر ایسے بیانات اور ایسے خیالات ملتے ہیں جو خدا تو درکنار شریف انسانوں کے نفس کی بھی ترجمانی نہیں کرتے۔
اسرائیلی کریکٹر کے کمالات یہیں ختم نہیں ہوتے۔ اس کی معراج آپ کو دیکھنی ہو تو یہ دیکھیے کہ جب قرآن نے اس قوم کے انبیا کی صفائی پیش کی، اور اس کا لگایا ہوا ایک ایک داغ ان کے دامنوں پر سے دھویا، تو یہ خوش ہونے کے بجائے اُلٹے کبیدہ خاطر ہوئے، احسان مند ہونے کے بجائے مقابلے پر اُتر آئے، اور انھوں نے ان سب دامنوں کو، جنھیں قرآن نے دھویا تھا، پھر سے داغدار کرنے کی کوشش کی۔ قرآن جب نازل ہوا تو مدینہ میں یہودی موجود تھے، اور نزول قرآن کے چند سال بعد جب مسلمان ایشیا اور افریقہ کے وسیع علاقوں پر پھیلے ہوئے تھے تو یہودیوں کی ایک کثیر تعداد کو ان سے میل جول کا موقع ملا۔ ان لوگوں نے ہر نبی کے متعلق وہی تمام پرانے قصے جو ان کے ہاں مشہور تھے، مسلمانوں میں بھی پھیلا دیئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن مجید کی بہت سی تفسیریں جو مسلمانوں نے لکھیں، ان کے اثر سے مسموم ہو کر رہ گئیں۔ یہ معاملہ متداول تفاسیر کا مطالعہ کرنے والوں سے پوشیدہ نہیں ہے، اور حضرت داؤدؑ کے قصے میں بھی یہی صورت پیش آئی ہے۔ مدینہ کے یہودیوں نے اُوریاہ کی بیوی کا قصہ اس کثرت سے مسلمانوں میں پھیلایا تھا کہ عام طور پر لوگ قرآن پاک کے اس رکوع کی تفسیر، بائبل اور اسرائیلی خرافات ہی کے رنگ میں کرنے لگے تھے، حتیٰ کہ قرآن کی معنوی تحریف کا اندیشہ پیدا ہو گیا۔ آخر کار سیدنا علیؓ کو یہ اعلان کرانے کی ضرورت پیش آئی کہ جو شخص اُوریاہ حِتّی کا قصہ روایت کرے گا، اس کو ۱۶۰ کوڑے لگائے جائیں گے، ۸۰ حد قذف کے اور مزید ۸۰ کوڑے ایک نبی کی توہین [ ملاحظہ ہو: کشاف‘ تفسیر کبیر اور تفسیر بیضاوی]کے۔
اب ہم ان تاویلات پر ایک نظر ڈالیں گے جو اس قصے کے سلسلے میں ہمارے مفسرین نے بیان کی ہیں:
(۱) عام طور پر مفسرین اور اہل الروایت وہی اُوریاہ کا قصّہ بیان کرتے ہیں جو یہودیوں سے منقول ہے، اور ان کے نزدیک داؤد علیہ السلام نے جس گناہ سے توبہ کی تھی، وہ یہی زنا کا گناہ تھا، لیکن قرآن کے الفاظ اس تاویل کا ساتھ نہیں دیتے۔ قرآن نے مستغیث کا جو بیان نقل کیا ہے، اس میں وہ صرف یہ کہتا ہے کہ<<فَقَالَ أَكْفِلْنِيْهَا وَعَزَّنِيْ فِي الْخِطَابِ>> (ص 23:38) (اس نے کہا کہ اپنی یہ دُنبی بھی مجھے دے دے، اور گفتگو میں اپنی شان وشوکت سے مجھے دبا لیا) یہ نہیں کہتا کہ اس نے دُنبی مجھ سے چھین لی یا مجھ کو قتل کروا کر چھیننے کی تدبیر کی۔
(۲) بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اُوریاہ سے بت سبع کی صرف منگنی ہوئی تھی اور حضرت داؤدؑ کا یہ قصور تھا کہ انھوں نے اپنے ایک مسلمان بھائی کی منگنی پر اپنی منگنی بھیجی، لیکن قرآن کے الفاظ اس کی تائید نہیں کرتے۔ تمثیل میں لِيَ نَعْجَةٌ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ دُنبی اس کی ملک تھی، یہ نہیں کہ وہ اس کو خریدنا چاہتا تھا اور اس کے مال دار بھائی نے اس کی بولی پر بولی دے دی۔
(۳) بعض مفسرین کے نزدیک حضرت داؤدؑ کی لغزش یہ تھی کہ جب اس عورت کا شوہر مارا گیا تو ان کو وہ رنج نہ ہوا جو ہونا چاہیے تھا، محض اس لیے کہ وہ اس عورت کی طرف میلان رکھتے تھے، لیکن یہ ایک بے سروپا بات ہے، اور اس سے وہ تمثیل بالکل بے معنی ہوجاتی ہے جو قرآن میں مستغیث کی زبان سے بیان ہوئی ہے۔
(۴) ایک جماعت کا خیال ہے کہ عورت کے قصے کی سرے سے کوئی اصلیت ہی نہیں ہے۔ دراصل حضرت داؤدؑ کے قتل کی سازش ہوئی تھی اور کچھ لوگ دیوار پھاند کر آ گئے تھے، مگر جب حضرت داؤدؑ ہوشیار ہوگئے تو انھوں نے محض بات بنانے کے لیے یہ مقدمہ گھڑ لیا۔ حضرت داؤدؑ ان کی نیت تاڑ گئے اور انھوں نے ان لوگوں سے انتقام لینا چاہا۔ پھر بعد میں یا تو وہ اس بنا پر نادم ہوئے کہ انتقام کی خواہش ہی ان کے مرتبے سے گری ہوئی چیز تھی، یا اس پر نادم ہوئے کہ بغیر کسی ثبوت کے انھوں نے محض گمان پر ان لوگوں کو دشمن سمجھ لیا اور انھیں سزا دینی چاہی۔ بہرحال ان دو وجوہ میں سے کوئی ایک وجہ تھی جس پر انھیں ندامت ہوئی اور انھوں نے توبہ و استغفار کیا لیکن اس تاویل پر متعدد اعتراض ہوتے ہیں:
اوّلاً: یہ کوئی ایسا اہم واقعہ نہیں کہ قرآن میں اس موقع پر اس شان سے اس کا ذکر ہوتا۔
ثانیاً: قرآن میں کوئی لفظ اس واقعہ پر دلالت نہیں کرتا کہ یہ لوگ قتل کے لیے آئے تھے اور حضرت داؤدؑ اس بات پر نادم ہوئے کہ انھوں نے ان سے انتقام لینا چاہا تھا یا بلا ثبوت ان پر بدگمانی کی تھی۔
ثالثاً: قرآن کی عبارت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دُنبیوں کے مقدمے میں اپنا فیصلہ سناتے ہی حضرت داؤدؑ کو یہ گمان ہوا کہ ان کے رب نے ان کو آزمائش میں ڈالا ہے۔ اس سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ اس تمثیل اور اس فیصلے کا آزمائش سے کوئی تعلق ضرور تھا اور اسی پر انھوں نے استغفار کیا۔
رابعاً: اگر وہ لوگ حقیقت میں دشمن تھے اور قتل کی نیت سے آئے تھے تو ان سے انتقام لینے کی خواہش ناجائز نہ تھی اور اس پر وہ تنبیہ غیر ضروری تھی جو <<يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً>> ...الخ (ص 26:38) میں کی گئی ہے اور اگر وہ دشمن نہ تھے تو ان کا تمثیلی مقدمہ محض بات بنانے پر محمول نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ اس میں لامحالہ کوئی معنویت ہونی چاہیے۔ نیز قرآن مجید میں کوئی اشارہ ایسا ہونا چاہیے تھا ، جس سے معلوم ہوتا کہ یہ مقدمہ محض بات بنانے کے لیے پیش کیا گیا تھا۔
(۵) بعض مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت داؤدؑ نے دراصل اپنے لیے استغفار نہیں کیا تھا بلکہ ان لوگوں کے لیے استغفار کیا تھا جو ان کے قتل کو آئے تھے ، لیکن اس صورت میں آزمائش کا ذکر بے معنی ہو جاتا ہے اور <<يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً>> کی تنبیہ قطعاً بے محل ٹھہرتی ہے۔
(۶) موجودہ زمانے کے مفسرین کہتے ہیں کہ استغفار دراصل قاتلوں کے لیے نہ تھا بلکہ حضرت داؤدؑ نے دیکھا کہ یہ لوگ قتل کے لیے آئے ہیں تو انھوں نے اللہ سے حفاظت اور پناہ کی دعا کی تھی۔ اس تاویل کی بنا یہ ہے کہ وہ استغفار کو لغوی معنوں میں لیتے ہیں ، یعنی اس امر کی دعا کہ اللہ ان کو اپنی حفظ و امان میں چھپا لے ، مگر اوّل تو یہ تاویل عربیت کے خلاف ہے۔ دوسرے یہ نہایت رکیک بات ہے کہ داؤد علیہ السلام جیسا بہادر سپاہی محض دو دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے بجائے رکوع و سجود میں لگ جائے۔ تیسرے اس تاویل میں <<ظَنَّ دَاوٗدُ اَنَّمَا فَتَنّٰهُ>> (ص 24:38) اور <<فَغَفَرْنَا لَهٗ ذٰلِكَ>> (ص25:38) اور <<يٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً>> ...الخ (ص26:38) کے فقرے بے معنی ہو جاتے ہیں۔
(۷) بعض حضرات کے نزدیک حضرت داؤدؑ کی لغزش یہ تھی کہ انھوں نے محض ایک فریق کا بیان سن کر فیصلہ صادر کر دیا اور دوسرے فریق کا بیان نہ لیا، لیکن یہ تاویل بھی مہمل ہے۔ کیونکہ اوّل تو قرآن میں دوسرے فریق کا بیان درج نہ ہونے سے لازماً یہ نتیجہ نہیں نکالا جاسکتا کہ اس کا بیان نہیں لیا گیا۔ ممکن ہے کہ اس نے اقرار کر لیا ہو، اس لیے اس کے ذکر کی ضرورت ہی نہ سمجھی گئی ہو۔ اور یہ قرآن کا عام اندازِ بیان ہے کہ وہ کسی واقعہ کی غیر ضروری تفصیلات نہیں دیتا۔ دوسرے اس تاویل کے لحاظ سے <<لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَيُضِلَّكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ>> (ص26:38) (اپنی خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ کہیں یہ تجھ کو خدا کے راستے سے بھٹکا نہ دے) کی تنبیہ بے محل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ایک فریق کا بیان سن کر فیصلہ کر دینے میں حضرت داؤدؑ کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہ تھا کہ اس سے اتباعِ ہویٰ لازم آئے۔ زیادہ سے زیادہ اس کو اصول عدالت سے ایک نادانستہ انحراف کہا جاسکتا ہے، جس پر تنبیہ کی دوسری صورت ہونی چاہیے تھی۔
(۸) کچھ لوگوں نے ایک دوسری ہی تاویل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے اوقات کو چار حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ایک دن محض عبادت کرتے تھے۔ ایک دن مقدمات کے فیصلے فرماتے تھے۔ ایک دن اپنے خانگی معاملات کو دیکھتے تھے اور ایک دن بنی اسرائیل کو وعظ و تلقین کرتے تھے۔ یہ تقسیم چونکہ وحی الٰہی کے بغیر کی گئی تھی اور نبی کو وحی کے خلاف کوئی کام نہ کرنا چاہیے، اس لیے اور اس لیے کہ نبی کو زیادہ تر اپنا وقت وعظ ونصیحت اور فصلِ معاملات میں صرف کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ نے ان کو تنبیہ فرمائی، لیکن اس تاویل میں متعدد کمزوریاں ہیں:
اوّلاً: تقسیمِ اوقات کی روایت محض ایک شاذ روایت ہے جو بعض مفسرین نے حضرت ابن عباسؓ سے نقل کی ہے۔ اور خود حضرت ابن عباسؓ سے جو قوی روایتیں مسروقؒ اور سعید بن جبیرؒ نے نقل کی ہیں، وہ اس تاویل کی تائید کرتی ہیں جو ہم نے اختیار کی ہے، یعنی مازاد داود علی ان قال انزل لی عنھا (حضرت داؤدؑ نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا کہ اس سے طلاق کی درخواست کی) اسی کی تائید قرآن کے الفاظ <<قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ>> (ص 24:38) سے بھی ہوتی ہے۔
ثانیاً: اگر کسی شخص کے پیشِ نظر حضرت ابن عباسؓ کی یہ روایت نہ ہو تو وہ صرف یہی نہیں کہ قرآن مجید کی ان آیات کا مطلب نہیں سمجھ سکتا، بلکہ ظاہر الفاظ سے وہ اس کے بالکل خلاف مطلب نکالے گا۔ یہ بات کتاب الٰہی تو درکنار معمولی انسانی تصنیفوں کے لیے بھی معیوب ہے کہ اس کے اپنے الفاظ اس کا مدعا ظاہر کرنے سے اس درجہ قاصر ہوں کہ اگر ایک خاص روایت اس کی تشریح کرنے والی سامنے نہ ہو تو ناظر اس کا بالکل الٹا مطلب لے نکلے۔ روایت اگر اصل متن کے متبادر مفہوم کی مزید تشریح کرتی ہو تو اس کے مفید ہونے میں کلام نہیں، لیکن اگر وہ متبادر مفہوم سے ہٹا کر بات کو کسی اور طرف پھیر لے جائے تو ایسی روایت کو شارح کے بجائے متمم کہنا پڑے گا، اور اس سے لازم آئے گا کہ اس متمم کے بغیر قرآن ناقص ہے۔
ثالثاً: خود حضرت ابن عباسؓ نے بھی اپنی اس روایت کو وجہ عتاب، کی تفسیر میں بیان نہیں کیا ہے، بلکہ صرف اس امر کی تشریح میں بیان کیا ہے کہ خصمین کو دیوار پھاند کر محراب میں جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی...... اس کی شرح میں وہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ دن حضرت داؤدؑ کی عبادت کا تھا، اور وہ اپنی محراب (بالا خانہ) میں تشریف رکھتے تھے۔ باقی رہی یہ بات کہ عبادت کے لیے ایک دن مخصوص کرنے پر اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تھا، تو اس کا اشارہ تک ابن عباسؓ کی روایت میں نہیں ہے۔
رابعاً: اگر بات یہی تھی جو یہ مفسرین بیان کرتے ہیں تو خصمین کے پورے مقدمے کو نقل کرنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔ یہ بات قرآن کے اسلوب کے خلاف ہے کہ وہ کسی واقعہ کی ایسی تفصیلات نقل کرے جن سے اصل مقصود پر کوئی روشنی نہ پڑتی ہو۔ اس مقصد کے لیے صرف یہ بیان کرنا کافی ہو جاتا کہ لوگ ایک دوسرے پر ظلم کرنے لگے اور اس قسم کا ایک معاملہ ہم نے داؤد کو متنبہ کرنے کے لیے اس کے پاس بھیج دیا۔
خامساً: عبادت میں افراط اور کثرت ایسی چیز نہیں ہے جس کو ’’ہویٰ‘‘ سے تعبیر کیا جائے۔ قرآن نے کہیں بھی اس فعل کو ہوائے نفس کی طرف منسوب نہیں کیا ہے، اور نہ کوئی ایک مثال ایسی ملتی ہے کہ کثرتِ عبادت پر کسی کو عتاب فرمایا گیا ہو۔ پھر کس طرح تصور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عبادت گزار بندے کو عبادت کی زیادتی پر ان الفاظ میں تنبیہ فرماتا کہ ’’خواہش نفس کی پیروی نہ کر کہ یہ تجھے گمراہ کر دے گی۔‘‘ ان وجوہ سے ہمارے نزدیک یہ تاویل بھی قبول نہیں ہے۔
ان تمام احتمالات کے ساقط ہو جانے کے بعد وہی تاویل باقی رہ جاتی ہے جس کو ہم نے اختیار کیا ہے اور جس کی طرف بعض قدیم مفسرین بھی گئے ہیں، یعنی یہ کہ معاملہ اُوریاہ کی بیوی ہی کا تھا، مگر اس کی اصلیت صرف اس قدر تھی کہ حضرت داؤد نے اپنے عہد کے اسرائیلی سوسائٹی کے عام رواج سے متاثر ہو کر اُوریاہ سے طلاق کی درخواست کی تھی۔ یہ تاویل اس لحاظ سے بھی مرجح ہے کہ اگر اُوریاہ کی بیوی کے معاملے کی سرے سے کوئی اصلیت ہی نہ ہوتی تو قرآن مجید اس موقع پر صاف الفاظ میں اس کی تردید کرتا، جس طرح حضرت سلیمان کے حق میں کفر و شرک اور ساحری کے الزام کی تردید [ ملاحظہ ہو: سورۂ بقرہ، رکوع: ۱۲]کی۔ کیونکہ یہودیوں میں یہ قصہ ایک امرِ واقعی کی طرح مشہور تھا اور قرآن کے لیے یہ غیر ممکن تھا کہ ایک نبی کا ذکر تو کرے مگر اس کے دامن پر ایسے شدید الزامات کا داغ بدستور رہنے دے[ خصوصاً جبکہ قرآن کے اپنے بیان سے ملتا جلتا قصہ بائبل میں موجود ہو اور وہی ایک نبی پر بدگمانیاں اور تہمتوں کا موجب بن رہا ہو۔]۔ اس تاویل کو قبول کرنے میں لوگوں نے صرف اس بنا پر تامل کیا ہے کہ انبیا کی طرف اس قسم کی لغزشوں کا انتساب عصمتِ انبیا کے خلاف معلوم ہوتا ہے، لیکن ان حضرات نے شاید اس امر پر غور نہیں کیا کہ عصمت دراصل انبیا کے لوازمِ ذات سے نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو منصبِ نبوت کی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کرنے کے لیے مصلحتاً خطاؤں اور لغزشوں سے محفوظ فرمایا ہے۔ ورنہ اگر اللہ کی طرف سے حفاظت تھوڑی دیر کے لیے بھی ان سے منفک ہو جائے تو جس طرح عام انسانوں سے بھول چوک اور غلطی ہوتی ہے، اسی طرح انبیا سے بھی ہو سکتی ہے۔ اور یہ ایک لطیف نکتہ ہے کہ اللہ نے بالارادہ ہر نبی سے کسی نہ کسی وقت اپنی حفاظت اُٹھا کر ایک دو لغزشیں سرزد ہو جانے دی ہیں، تاکہ لوگ انبیا کو اللہ نہ سمجھ لیں، اور جان لیں کہ یہ بشر ہیں، اللہ نہیں ہیں۔
اس قصے میں دو چھوٹی چھوٹی غلط فہمیاں اور بھی ہیں جو زبان زدِ عام ہو گئی ہیں:
ایک یہ کہ سیدنا داؤد علیہ السلام کی ۹۹ بیویاں تھیں۔ اس غلط فہمی کی بنا یہ ہے کہ تمثیل میں ۹۹ دُنبوں کا ذکر ہوا ہے، لیکن درحقیقت ۹۹ سے محض کثرت مراد ہے نہ کہ بعینہٖ یہ عدد۔ مستغیث نے دراصل تمثیل کے پیرایہ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا کہ آپ کے پاس بہت سی عورتیں موجود ہیں۔ اور بہت سی عورتوں سے بیاہ کرنے کی آپ قدرت رکھتے ہیں۔
دوسرے یہ کہ جو اشخاص فریق مقدمہ بن کر حضرت داؤد کے پاس پہنچے تھے، وہ انسان نہیں بلکہ فرشتے تھے۔ اس گمان کی بنا اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ دیوار پھاند کر محراب میں پہنچ گئے تھے۔ لیکن یہ ایک بہت کمزور سی بات ہے۔ فرشتوں کا انسانی صورت میں آنا بجائے خود مستبعد نہیں، مگر یہاں نہ تو فرشتوں کے آنے کی کوئی خاص ضرورت نظر آتی ہے، اور نہ دیوار پھاندنا کوئی ایسی عجیب بات ہے کہ انسان کے لیے غیر ممکن ہو اور صرف فرشتوں سے ہی بن آئے۔ پس جب اللہ نے تصریح نہیں کی کہ وہ فرشتے تھے، تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اپنے دل سے ان کو فرشتہ بنا دیں۔
بعض لوگوں نے ان کے فرشتہ ہونے کی ایک دلیل یہ بھی بیان کی ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) ان کے آنے سے گھبرا گئے تھے، لیکن یہ استدلال بھی کمزور ہے۔ جب کوئی شخص اپنی خلوت گاہ میں ہو، جہاں کسی غیر کے آنے کا سان گمان بھی نہ ہو اور اچانک کوئی شخص دیوار پھاند کر اس کے پاس پہنچ جائے تو فطرت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ گھبرا جائے۔ اس میں ایسی کون سی انوکھی بات ہے کہ آنے والوں پر فرشتہ ہونے کا گمان کیا جائے۔
<<هٰذَا مَا عِنْدِيْ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللهِ !>>
ترجمان القرآن
(رجب ۱۳۵۷ھ ۔ ستمبر ۱۹۳۸ء)