مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

پاکستان میں اسلامی قانون کیوں نہیں نافذ ہوسکتا؟

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ۶ جنوری ۱۹۴۸ء کو لا کالج لاہور میں کی گئی ایک تقریر ہے جس میں مولانا مودودی ان اعتراضات کا جواب دیتے ہیں جو پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی اسلامی قانون کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر پیش کیے جانے لگے تھے۔

وہ ان سوالات کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں کہ کیا صدیوں پرانا قانون جدید معاشرے کے لیے کافی ہو سکتا ہے، کیا حدود کی سزائیں اس مہذب دور میں قابلِ عمل ہیں، پاکستان میں کس فرقے کی فقہ نافذ ہوگی، اور غیر مسلم اقلیتیں مسلمانوں کے مذہبی قانون پر کیسے مطمئن ہوں گی۔ مولانا مودودی واضح کرتے ہیں کہ یہ اعتراضات دراصل اسلامی قانون سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں، اور قانون کا کسی معاشرے کے مجموعی اخلاقی، معاشرتی اور فکری نظام سے گہرا تعلق ہونے کی بنا پر انہیں الگ تھلگ سمجھنا درست نہیں۔

قانون اور نظامِ زندگی کا باہمی تعلق

قانون کے لفظ سے ہم جس چیز کو تعبیر کرتے ہیں‘ وہ دراصل اس سوال کا جواب ہے‘ کہ انسانی طرزِعمل‘ انفرادی اور اجتماعی طور پر کیا ہونا چاہئے۔ اس سوال کا دائرہ اس دائرہ سے بہت وسیع ہے‘ جس میں قانون اس کا جواب دیتا ہے۔ ہم کو بہت وسیع پیمانے پر اس ’’ہونا چاہئے‘‘ کے سوال سے سابقہ پیش آتا ہے‘ اور اس کے بے شمار جوابات ہیں‘ جو مختلف عنوانات کے تحت مرتّب ہوتے ہیں۔ ان کا ایک مجموعہ ہماری اخلاقی تعلیم وتربیت میں شامل ہوتا ہے‘ اور اسی کے مطابق ہم اپنے افراد کی سیرت وکردار کو ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا ایک دوسرا مجموعہ ہمارے معاشرتی نظام میں داخل ہوتا ہے‘ اور اسی کے لحاظ سے ہم اپنی معاشرت میں مختلف قسم کے انسانی تعلقات کو منضبط کرتے ہیں۔ ان کا ایک تیسرا مجموعہ ہمارے معاشی نظام میں جگہ پاتا ہے‘ اور اسی کی روشنی میں ہم دولت اور اس کی پیدائش اور اس کی تقسیم اور اس کے تبادلہ اوراس پر لوگوں کے حقوق کا ضابطہ بناتے ہیں۔ غرض اسی طریقہ پر ان جوابات کے بہت سے مجموعے بن جاتے ہیں‘ جو ہماری زندگی کے مختلف شعبوں کی شکل اور ان کے ضوابط عمل معین کرتے ہیں۔ اور قانون ان بہت سے مجموعوں میں سے صرف ان جوابات پر مشتمل ہوتا ہے‘ جن کو نافذ کرنے کے لیے سیاسی اقتدار استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب اگر کوئی شخص کسی قانون کو سمجھنا چاہے تو یہ کافی نہیں ہے‘ کہ وہ اپنی تحقیقات کو صرف اسی دائرے تک محدود رکھے‘ جس میں قانون نے اس ’’ہونا چاہئے‘‘ کے سوال کا جواب دیا ہے‘ بلکہ اسے سوسائٹی کی اس پوری اسکیم کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی‘ جس میں زندگی کے ہر شعبے کے متعلق اس سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قانون اسی اسکیم کا ایک جُزو ہے‘ اور اس جُزو کے مزاج کو سمجھنا ‘یا اس کے متعلق کوئی رائے قائم کرنا بغیر اس کے ممکن نہیں ہے‘ کہ کل کو سمجھا جائے۔