مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

پاکستان میں اسلامی قانون کس طرح نافذ ہوسکتا ہے؟

اشاعت: 1948ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ ۱۹ فروری ۱۹۴۸ء کو لا کالج لاہور میں دی گئی ایک تقریر ہے جو پچھلی تقریر "پاکستان میں اسلامی قانون کیوں نہیں نافذ ہوسکتا؟" کا تسلسل ہے۔ اس میں مولانا مودودی اس سوال پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں کہ اگر پاکستان میں اسلامی قانون از سرِ نو نافذ کرنا مقصود ہو تو اس کے لیے عملی طور پر کیا تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔

وہ سب سے پہلے اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں کہ اسلامی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی تمام پرانے قوانین یک لخت منسوخ ہو جائیں گے، اور تدریج کے اصول کی وضاحت نبیِ کریمﷺ کے اپنے طرزِ عمل اور انگریزی دورِ استعمار کی مثالوں سے کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اسلامی قانون کے نفاذ کے عملی مراحل، ایک قانونی اکیڈمی کے قیام، تدوینِ احکام اور قانونی تعلیم کی اصلاح جیسے ٹھوس تجاویز پیش کرتے ہیں۔

دوسرا قدم

اس اعلان کے بعد ہی صحیح طور پر ہمارے رائے دہندوں کو یہ معلوم ہوگا کہ اب انہیں کس مقصد اور کس کام کے لیے اپنے نمائندے منتخب کرنے ہیں۔ عوام میں علم ودانش کی لاکھ کمی سہی‘ مگر وہ اتنی سمجھ بوجھ ضرور رکھتے ہیں‘ کہ انہیں کس کام کے لیے کس طرف رجوع کرنا چاہئے‘ اور ان کے درمیان کون لوگ کس مطلب کے لیے موزوں ہیں۔ آخر وہ اتنے نادان تو نہیں ہیں‘ کہ علاج کے لیے وکیل اور مقدمہ لڑنے کے لیے ڈاکٹر کو تلاش کریں۔ وہ اس کو بھی کسی نہ کسی حد تک جانتے ہی ہیں‘ کہ ان کی بستیوں میں ایمان دار اور خدا ترس کون ہیں چالاک اور دنیا پرست کون‘ اور شریر ومفسد کون‘ جیسا مقصد ان کے سامنے ہوتا ہے ویسے ہی آدمی وہ اس کے لیے اپنے اندر سے ڈھونڈ نکالتے ہیں۔اب تک ان کے سامنے یہ مقصد آیا ہی نہ تھا‘ کہ انہیں ایک دینی نظام چلانے کے لیے آدمی درکار ہیں۔ پھر وہ اس کے چلانے والے آخر تلاش کرتے ہی کیوں؟ جیسا بے دین اور غیر اخلاقی نظام ملک میں قائم تھا‘ اور اس کا مزاج جس قسم کے آدمی چاہتا تھا‘ اس کے لیے ویسے ہی آدمیوں پر لوگوں کی نگاہ انتخاب پڑی‘ اور انہی کو رائے دہندوں نے چن کر بھیج دیا۔ اب اگر ہم ایک اسلامی ریاست کا دستور بنائیں‘ اور لوگوں کے سامنے سوال یہ آجائے کہ اس نظام کو چلانے کے لیے انہیں موزوں آدمی منتخب کرنے ہیں‘ تو چاہے ان کا انتخاب کمال درجہ کا معیاری نہ ہو‘ مگر بہرحال اس کام کے لیے ان کی نگاہیں فُساق وفجار اور دینِ مغربی کے مومنین پر نہیں پڑیں گی۔ وہ اس کے لیے انہی لوگوں کو تلاش کریں گے‘ جو اخلاقی‘ ذہنی اور علمی حیثیت سے اس کے اہل ہوں گے۔

پس ریاست کو مسلمان بنانے کے بعد تعمیرِ حیاتِ اسلامی کی راہ میں دوسرا قدم یہ ہے‘ کہ جمہوری انتخاب کے ذریعہ سے‘ اب ریاست کی زمام کار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں منتقل ہو‘جو اسلام کو جانتے بھی ہوں ‘اور اس کے مطابق ملک کے نظامِ زندگی کو ڈھالنا چاہتے بھی ہوں۔