نماز میں آلہ مکبّر الصّوت کا استعمال
اشاعت: 1938ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مضمون پنجاب کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان کے اس سوال کے جواب میں لکھا گیا ہے کہ نماز میں آلہ مکبرالصوت (لاؤڈ اسپیکر) کے استعمال کا شرعی حکم کیا ہے۔ عیدگاہ میں لاؤڈ اسپیکر نصب کیے جانے پر مقامی علماء نے اس کی مخالفت کی تھی اور فتویٰ دیا تھا کہ اس سے نمازیں باطل ہو جاتی ہیں، جس کی بنیاد پر دو دلائل پیش کیے گئے تھے: ایک یہ کہ یہ آلہ لہو و لعب میں داخل ہے، اور دوسرا یہ کہ فقہ حنفی کی رو سے غیر امام کی آواز پر مقتدی کی حرکت نماز کو باطل کر دیتی ہے۔
مولانا مودودی ان دونوں دلائل کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے نشر ہونے والی آواز کو "غیر امام کی آواز" قرار دینا آلے کی ساخت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے، اور اس بنیاد پر وہ نماز میں اس کے استعمال کو جائز قرار دیتے ہیں۔
نماز میں آلہ مکبّر الصّوت کا استعمال
پنجاب کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان دریافت کرتے ہیں کہ نماز میں آلہ مکبّر الصوت (لاؤڈاسپیکر) کے استعمال کا شرعی حکم کیا ہے؟ وہ لکھتے ہیں:
یہاں عیدالفطر کے موقع پر عیدگاہ کے منتظم حضرات نے لاؤڈاسپیکر نصب کرایا تھا۔ نماز کے بعد مقامی علما نے اس کی مخالفت شروع کی اور باہر سے فتوے حاصل کر کے عوام سے کہا تھا کہ تمھاری نمازیں نہیں ہوئیں۔ اب عوام پریشان ہیں، اور منتظمین عیدگاہ خائف ہیں کہ اگر ہم نے اس دفعہ پھر لاؤڈاسپیکر نصب کرایا تو عوام ہم سے برگشتہ ہو جائیں گے اور علما ہمارے خلاف الحاد کا فتویٰ صادر کر دیں گے۔
پچھلی دفعہ لاؤڈاسپیکر کے استعمال سے یہ فائدہ ہوا تھا کہ امام کی آواز تمام مقتدیوں تک صاف طور پر پہنچتی رہی اور نماز میں باقاعدگی پیدا ہو گئی تھی۔ حالانکہ اس سے پہلے بد نظمی کی یہ حالت ہوتی تھی کہ صفوں میں انتشار ہوتا تھا۔ کوئی مقتدی رکوع میں ہوتا تھا اور کوئی سجود میں۔
مقامی علما سے عدم جواز کے دلائل پوچھے گئے تو انھوں نے دو باتیں بیان کیں:
(۱) لاؤڈاسپیکر کا استعمال داخل لہو و لعب ہے۔
(۲) فقہ حنفی کی رُو سے غیر امام کی آواز پر اگر مقتدی کسی قسم کی حرکت کرے تو نماز باطل ہو جاتی ہے۔
لیکن ان دلائل سے ہمارا اطمینان نہیں ہوتا۔ پہلی بات تو دلیل نہیں بلکہ خود ایک دعویٰ ہے بلا دلیل۔ دوسری بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرات لاؤڈاسپیکر کے اصولِ ساخت ہی سے واقف نہیں۔ اس آلے کے ذریعے سے نشر شدہ آواز کو غیر امام کی آواز کسی طرح نہیں کہا جاسکتا۔ علما کی ایسی بودی اور کمزور باتوں سے تعلیم یافتہ طبقہ سخت بددل ہو رہا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پیشوایانِ دین ہندوستان کے مسلمان نوجوانوں کو بھی اسی بغاوت پر مجبور کرنا چاہتے ہیں جس پر اتاترک اور رضا شاہ مجبور ہوئے، لیکن کیا اس ردّعمل میں ہمارے لیے صحیح اسلام سے بھی اسی طرح دُور جا پڑنے کا خطرہ نہیں، جس طرح یہ دو فرمانروایانِ اسلام صراطِ مستقیم سے بھٹک کر ثابت کر چکے ہیں۔ اس معاملے میں ہمیں آپ کی رہنمائی کی ضرورت ہے کہ ہمیں آپ کی بصیرت اور اجتہاد پر پورا اعتماد ہے۔ اگر آپ ایسے بڑے مجمعوں میں نماز پڑھانے کے لیے لاؤڈاسپیکر کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں تو تفصیلاً اس کے دلائل تحریر فرمائیں تاکہ ہم علمائے کرام کی تشفی کر سکیں اور اگر آپ کے خیال میں کچھ ایسے مصالح دینی ہیں جن کے پیشِ نظر اس کا استعمال خلافِ احتیاط ہو تو بھی ہمیں اس کے متعلق واضح طور پر لکھیں تاکہ نوجوانوں کو سمجھایا جا سکے۔ یہ استفسار بتمام و کمال اس لیے نقل کیا گیا ہے کہ علمائے اسلام اس وقت کے رجحانات کو سمجھیں اور غور فرمائیں کہ جس دَور میں وہ رہتے ہیں، وہ کس طرز پر مذہبی رہنمائی کا طالب ہے، اور اس دَور میں دوسو برس پرانے طریقِ رہنمائی کو اختیار کرنے کے نتائج کیا ہیں؟ اب سے دو تین سال قبل حیدرآباد میں بھی ایسی ہی صورت پیش آئی تھی۔ عیدگاہ میں لاؤڈاسپیکر لگایا گیا، لوگوں نے بہت اچھی طرح نماز ادا کی، اور ہر شخص اس سے مطمئن تھا، مگر بعد میں علما نے مخالفت کی اور کمیٹیاں ہوئیں، اور آخر کار فیصلہ کر دیا گیا کہ نماز میں اس آلے کا استعمال ناجائز ہے۔ میں اس وقت حیدرآباد ہی میں تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کا کتنا بُرا اثر تعلیم یافتہ طبقے پر ہوا، اور کیا کیا خیالات علما کے متعلق ظاہر کیے گئے۔ میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو احکامِ دین کو اس ”تعلیم یافتہ“ طبقے کی اہوا کا تابع بنانا چاہتے ہیں، اور اسی کو روشن خیالی سمجھتے ہیں۔ اگر میں یہ دعویٰ کروں تو شاید غلط نہ ہو گا کہ اس گروہ کے غیر اسلامی رجحانات کے خلاف جہاد کرنے میں میرا قدم کسی متشدد سے متشدد عالمِ دین سے بھی پیچھے نہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی میں اس بات کا بھی سخت مخالف ہوں کہ علمائے کرام وقت کے رجحانات سے منہ موڑ کر بیٹھ جائیں، اور اس امر کو بالکل بھول جائیں کہ وہ ہدایہ اور بدائع کے زمانہِ تصنیف میں نہیں بلکہ نت نئی سائنٹفک ایجادات، اور تیز رفتار تمدنی انقلابات کے دَور میں رہتے ہیں۔ اس دَور میں روز بروز نئے مسائل کا پیدا ہونا لابد ہے، اور مسائل کو ہدایہ و بدائع کی روشنی میں حل کرنے کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں جس کا خطرہ نوجوان سائل نے اپنے استفسار میں ظاہر کیا ہے۔ ہماری نئی نسلیں شدت کے ساتھ اپنے زمانے کے حالات سے متاثر ہو رہی ہیں، اور یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ زمانہ اپنی طبعی رفتار سے جو حالات اور جو مسائل پیدا کر دے، ان سے وہ قوم یک سر بے تعلق ہو کر رہے، جو کروڑوں کی تعداد میں دنیا کے ہر حصے میں پھیلی ہوئی ہے۔ ان نئی نسلوں میں اگر کوئی غیر اسلامی رجحان پیدا ہو تو اس کو روکنے کے لیے علمائے اسلام کے پاس وہ طاقت ور دلائل ہونے چاہئیں جو اس زمانے کے دماغوں سے اپنا لوہا منوا سکتے ہوں۔ چھٹی صدی ہجری کی منطق اب کام نہیں دے سکتی۔ اور اگر یہ لوگ جدید تمدنی زندگی میں اسلام کی شاہراہ پر آگے بڑھنا چاہیں تو ان کی رہنمائی کے لیے علمائے اسلام میں وسعتِ نظر اور روحِ اجتہاد کی ضرورت ہے۔ قدم قدم پر عالمگیری اور تاتار خانی کو لا کر سدِّ راہ بنانے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ نئے زمانے کے مسلمان قرآن اور حدیث کو بھی پیچھے چھوڑ کر جدھر منہ اُٹھے گا، چل نکلیں گے، جس طرح ترک اور ایرانی چل نکلے۔
مسئلہ زیر بحث کا جواب چند الفاظ میں دیا جاسکتا ہے، لیکن اس سے پہلے میں چند اصول بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ اسی نوعیت کے دوسرے مسائل میں بھی شریعت کا حکم آسانی کے ساتھ معلوم کیا جاسکے۔
(1) سب سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جزئیات کے متعلق صریح شرعی احکام ہم کو صرف انھی حوادث اور انھی اُمور کے متعلق معلوم ہو سکتے ہیں جو رسولؐ اللہ کے عہد میں پیش آئے تھے۔ باقی رہے وہ حوادث جو حضورؐ کے بعد پیش آئے، تو ان کے متعلق شرع میں کوئی صریح حکم نہیں مل سکتا، بلکہ صرف اصول وکلیاتِ شرع ہی سے ایک حکم نکالا جاسکتا ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین و ائمہ مجتہدین نے بعد کے حوادث پر جتنے شرعی احکام لگائے ہیں، وہ اسی طرح اصول و کلیات سے اخذ کیے ہوئے ہیں، نہ کہ منصوص۔ اب اگر کوئی ایسا حادثہ پیش آتا ہے جو صحابہ یا ائمہ کے دَور میں پیش نہیں آیا، یا کوئی ایسی چیز ایجاد ہوتی ہے جو اس دَور میں موجود ہی نہ تھی، تو اس کے متعلق متقدمین کے اجتہادی احکام میں کوئی حکم تلاش کرنا بداہتہً غلط ہے۔ ایسے ہر حادثے اور ایسی ہر چیز کے لیے ہم کو بھی اسی طرح اصول و کلیات کی طرف رجوع کرنا پڑے گا، جس طرح صحابہ اور ائمہ نے اپنے عہد کے حوادث میں کیا تھا۔
(۲) کسی نو ایجاد چیز کے استعمال کو مکروہ یا ناجائز ٹھیرانے کے لیے محض یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ عہدِ رسالت میں، یا عہدِ صحابہ میں، یا عہدِ ائمہ میں موجود نہ تھی۔ تنزیل شرائع سے اللہ تعالیٰ کا یہ مقصد ہرگز نہ تھا کہ انسان کی قوتِ ایجاد ایک خاص دَور کے بعد ختم ہو جائے، اور اسباب کی تلاش و جستجو اور ان سے کام لینے کے نئے نئے طریقوں کی دریافت کا سلسلہ ایک خاص زمانے تک تو جائز ہے اور اس کے بعد حرام قرار دے دیا جائے۔ جو لوگ سُنّت اور بدعت کی تعبیر اس طرح پر کرتے ہیں، وہ اسلام اور مسلمانوں پر سب سے بڑا ظلم کرتے ہیں، کیونکہ یہ دشمنانِ اسلام کے اس الزام کی تصدیق ہے کہ اسلام کوئی دائمی مذہب نہیں بلکہ ایک خاص زمانے کے لیے آیا تھا اور اب اس کے اتباع سے انسانی تمدن کے نشو و ارتقا کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
(۳) تنزیل شرائع سے اللہ تعالیٰ کا اصل مقصد انسان کو وہ اصول سکھانا ہے جن کے تحت وہ اسبابِ عالم سے غلط کام لینے کے بجائے صحیح کام لے سکے، اور ان کو مضرّت کے بجائے حقیقی منفعت اور سچی فلاح کے لیے استعمال کرے۔ ان اصولوں کی محض لفظی تعلیم ہی ہم کو قرآن اور حدیث میں نہیں دی گئی ہے، بلکہ نبیؐ کے عہد میں جن اسبابِ عالم پر انسان کو دسترس حاصل تھی، انھیں اسلامی طریق پر برت کر بھی ہم کو بتا دیا گیا ہے کہ آیندہ جن اسباب پر دسترس حاصل ہو، انھیں اس طور پر اور ان مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ صحابہ کرام اور ائمہ سلف نے اصولِ شرع کو اسی اسپرٹ میں سمجھا اور تمدّن کی ترقی کے ساتھ ساتھ نئے حوادث اور نئی اشیا پر اصولِ اسلام کو منطبق کر کے انھوں نے شرع کی ہدایت کو ہمارے لیے اور زیادہ روشن کر دیا۔ اب اگر ہم ان اصولوں کو سمجھ جائیں تو قوائے فطرت میں سے جو نئی قوت ہمارے علم میں آئے گی، اور اسبابِ کائنات میں سے جس نئے سبب پر ہمیں دسترس حاصل ہوگی، اس کے معاملے میں ہم کو ہرگز کوئی حیرانی وسرگردانی پیش نہ آئے گی۔ ہم نہ تو اس اجنبی چیز سے اُپرائیں گے اور نہ اس کے سامنے ٹھٹک کر کھڑے ہو جائیں گے، بلکہ اصولِ شرع میں تدبر کر کے بلا تکلف یہ معلوم کر لیں گے کہ اس کو استعمال کیا جائے یا نہ کیا جائے اور اگر استعمال کیا جائے تو استعمال کا پسندیدہ طریقہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کیا ہے، اور ناپسندیدہ طریقہ کون سا ہے۔ ہر نئی چیز سے اُپرانے اور تمدن کی ترقی کے راستے میں ہر ہر قدم پر ٹھٹک کر کھڑے ہو جانے کی کیفیت جو آج کل پیش آ رہی ہے، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ شرع کے اصول وکلیات کو سمجھنے کے بجائے ہمارے علما زیادہ تر فقہی جزئیات کے استقصا میں منہمک رہتے ہیں۔
(۴) قرآن وحدیث سے ہم کو یہ قاعدۂ کلیہ معلوم ہوتا ہے کہ اشیا میں اصل چیز اباحت ہے تاوقتیکہ عدمِ اباحت پر کوئی دلیل نہ ہو۔ یعنی ہر چیز کو پاک، حلال اور مباح سمجھا جائے گا۔ جب تک اس کے نجس یا حرام ہونے پر کوئی دلیل نہ لائی جائے۔ قرآن میں ارشاد ہے:
<<هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا>> البقرہ 29:2
وہی ہے جس نے تمھارے لیے وہ سب چیزیں پیدا کیں جو زمین میں ہیں۔
<<وَسَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّمٰوَتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا مِّنْهُ>> الجاثیہ 13:45
اور اس نے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، تمھارے لیے مسخر کیا۔
ان دونوں آیتوں سے ظاہر ہے کہ زمین و آسمان کی ساری چیزیں انسان کے لیے ہیں، لہٰذا انسان ان سے کام لینے اور فائدہ اُٹھانے کا مستحق ہے۔ ایک ایک چیز کے لیے الگ الگ اجازت کی ضرورت نہیں، بلکہ جب تک کسی خاص چیز کے استعمال یا طریقِ استعمال کی ممانعت نہ ہو، سب چیزوں کو مباح اور طاہر ہی سمجھا جائے گا۔ اسی اصل کی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے، جو ابوداؤد نے حضرت سلمان فارسیؓ سے بدیں الفاظ نقل کی ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا:
<<الحلال ما احل الله في كتابه والحرام ما حرم الله في كتابه وما سكت عنه فهو مما عفا عنه.>>
حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کر دیا، رہیں وہ چیزیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا تو وہ معاف ہیں۔
(۵) اشیاء کی حرمت اور حلت کے احکام جس قاعدے پر مبنی ہیں، اس کی تصریح بھی قرآن میں کر دی گئی ہے، یعنی:
<<وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ>> الاعراف 157:7
ہمارا نبی ان کے لیے مفید چیزیں حلال کرتا ہے اور مضر چیزیں حرام کرتا ہے۔
اور اسی کی تفسیر حدیث میں فرمائی گئی ہے: لا ضرر ولا ضرار فی الاسلام ۔ لہٰذا جن چیزوں کی حرمت کا صریح حکم نہیں ہے، ان کے معاملے میں اس قاعدہ کلیہ کے لحاظ سے دیکھا جائے گا کہ آیا وہ انسان کے لیے مضرت رساں ہیں یا منفعت بخش۔ اگر وہ مضر ثابت ہوں تو وہ حرام ہیں اور منفعت بخش ثابت ہوں تو حلال۔ اسی طرح ان کے طریقہ ہائے استعمال کو بھی اسی قاعدے کے لحاظ سے جانچا جائے گا۔ جو طریقِ استعمال موجب فساد ہو، وہ ممنوع ہے اور جو طریقِ استعمال موجب اصلاح ہو، وہ مباح ہے۔
(۶) منفعت اور مضرت، صلاح اور فساد کے بارے میں بھی شارع نے ہم کو ایک معیار دیا ہے۔ ہم اندھیرے میں نہیں چھوڑے گئے ہیں کہ جس چیز کو چاہیں مفید اور جس کو چاہیں مضر ٹھہرا لیں بلکہ ہمیں چند اصول بتائے گئے ہیں جن کے لحاظ سے فائدے اور مضرت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ انھی اصولوں میں سے ایک اصل یہ بھی ہے کہ جو چیز فرائضِ دینی کی بجا آوری میں مانع ہو وہ مضر ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، اور جو چیز اس میں مددگار ہو، وہ مفید ہے اس لیے اس کا استعمال نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے۔ مثلاً رؤیتِ ہلال میں اگر برہنہ آنکھ کی بہ نسبت دُوربین کے استعمال سے زیادہ سہولت پیدا ہوتی ہے تو اسے مستحسن سمجھنا چاہیے۔ رمضان میں سحر کا آخری وقت معلوم کرنے کے لیے، اور روزمرہ نماز کے اوقات متعین کرنے کے لیے گھڑی زیادہ مددگار ہوتی ہے تو اس کا استعمال بھی مستحسن ہونا چاہیے۔ سفرِ حج کے لیے اونٹ کی بہ نسبت موٹر یا ہوائی جہاز سے زیادہ سہولت پیدا ہوتی ہے تو اس کا استحسان بھی ناقابلِ انکار ہے۔ فریضۂ جہاد کی بجا آوری میں نیزہ و شمشیر اور اسپ و فیل کی بہ نسبت بندوق، توپ، جنگی جہاز اور ہوائی جہاز زیادہ کارآمد ہیں تو ان کے مستحسن ہونے میں بھی کلام نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی شخص ان چیزوں کے حق میں حرمت یا کراہت یا توقف کا مسلک اختیار کرتا ہے، محض اس لیے کہ زمانہ سلف میں یہ چیزیں استعمال نہیں ہوئیں، تو وہ شرع سے قطعاً بے بہرہ ہے۔
(۷) جو چیز کسی ایسے مقصد کے لیے بنائی گئی ہو جسے شرع نے حرام قرار دیا ہے اور اس امر ممنوع کے سوا اس چیز کا کوئی اور استعمال بھی نہ ہو تو اس کے مطلقاً ممنوع ہونے میں کوئی شک نہیں، مگر جو چیز اچھے اور بُرے، مفید اور مضر دونوں طرح کے کاموں کے لیے آلے کے طور پر کام آتی ہو، اس کو محض اس بنا پر حرام نہیں کیا جا سکتا کہ فاسقین کے ہاتھوں میں اس کا غالب استعمال ممنوعات کے لیے ہے۔ مثلاً گراموفون محض ایک آلہ ہے جس کو اچھے اور بُرے دونوں مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم نفسِ گراموفون کو حرام نہیں کہہ سکتے، بلکہ حرمت کا حکم صرف اس طریقِ استعمال سے متعلق ہو گا جو شہوات کو اُبھارنے والا اور فواحش کی اشاعت کرنے والا ہے۔
ان اصولوں کو سامنے رکھ کر جب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ لاؤڈ اسپیکر کے متعلق شرع کا حکم کیا ہے تو کوئی امر ہمیں اس نتیجے تک پہنچنے سے نہیں روکتا کہ اس آلے کا استعمال مستحسن ہے۔ یہ اُن اسبابِ عالم میں سے ایک سبب ہے جنھیں خدا نے ہمارے لیے پیدا کیا ہے۔ اس کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ قدرتی طور پر جو آواز نکلتی ہے، یہ آلہ اسی آواز کو لے کر زیادہ بلند کر دیتا ہے۔ چونکہ اس پر حال ہی میں ہم کو دسترس حاصل ہوئی ہے، اس لیے اس کے متعلق کوئی حکمِ سنّت اور اجتہاداتِ متقدمین میں تلاش کرنا اصلاً غلط ہے۔ البتہ شرع نے جو اصول ہم کو کسی چیز کی اباحت یا حرمت معلوم کرنے کے لیے دیئے ہیں، ان کے لحاظ سے اس کے مطلقاً مباح ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ رہے استعمالات، تو باطل کی آواز بلند کرنے اور فواحش کا بول بالا کرنے میں اس کا استعمال حرام ہے۔ جائز آوازوں کے بلند کرنے میں اس کا استعمال جائز ہے اور خدا کا نام بلند کرنے میں خدا ہی کی پیدا کی ہوئی اس طاقت سے کام لینا بالیقین مستحسن ہے۔ یہ بالکل ایک عجیب بات ہوگی کہ کفار تو خدا کے مسخر کیے ہوئے اس خادم سے مدد لے کر باطل کا آوازہ بلند کریں، اور ہم حق کا آوازہ بلند کرنے کے لیے اس سے خدمت لینے میں تامل کرتے رہیں۔
اب صرف ایک شک باقی رہ جاتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ نماز میں امام کے سوا کسی اور کی آواز پر مقتدیوں کا حرکت کرنا مفسد صلوٰۃ ہے، لہٰذا اگر لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر مقتدی رکوع و سجود کریں گے تو ان کی نماز نہ ہوگی ، لیکن یہ شک متعدد حیثیات سے غلط ہے۔
اوّلاً، لاؤڈ اسپیکر سے جو آواز نکلتی ہے وہ غیر امام کی آواز نہیں ہے بلکہ بعینہٖ وہی آواز ہے جو امام کے منہ سے نکلتی ہے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ بجلی کی طاقت سے وہ زیادہ بلند ہو جاتی ہے، اور اس لحاظ سے اس کی حیثیت قریب قریب اس گونج کی سی ہے جو مسجد کی محراب سے امام کی آواز پر بلند ہوتی ہے۔
ثانیاً اصول فقہ کا متفقہ مسئلہ ہے کہ التابع تابع۔ یعنی جو حکم متبوع کا ہے وہی تابع کا ہے۔ اسی قاعدے کی بنا پر بڑی جماعتوں میں جو مکبّر کھڑے کیے جاتے ہیں، ان کی آواز پر رکوع و سجود اور قیام و قعود کرنا مقتدیوں کے لیے جائز ہے، کیونکہ اگرچہ وہ غیر امام ہیں، مگر امام کے تابع ہیں، اس لیے ان کی آواز کا حکم امام کی ہی آواز کا حکم ہے۔ پس اگر بالفرض لاؤڈ اسپیکر کی آواز غیر امام کی آواز بھی ہو تب بھی وہ تابع امام ہونے کی حیثیت سے اُس مقتدی کے مانند ہے جو صفوں کے درمیان تکبیر بلند کرنے کے لیے کھڑا کیا جاتا ہے بلکہ جب ہم زیادہ غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تابع ہونے میں یہ آلہ مقتدی سے بھی بڑھا ہوا ہے۔ مقتدی تو خود بھی آواز نکالنے پر قادر ہوتا ہے، حتیٰ کہ اگر جماعت میں کوئی منافق موجود ہو تو وہ امام کے خلاف تکبیریں بلند کر کے ہزاروں آدمیوں کی نمازیں خراب کر سکتا ہے، لیکن لاؤڈ اسپیکر اس قدر کامل طور پر امام کا تابع ہے کہ جب تک امام نہ بولے گا وہ بھی نہ بولے گا، جو آواز امام کی زبان سے نکلے گی، ٹھیک ٹھیک وہی آواز بلا ادنیٰ تغیر اس سے بھی بلند ہوگی، حتیٰ کہ امام کا لہجہ اور اس کا تلفظ تک جوں کا توں منتقل ہوگا، اور جو شخص امام کی آواز پہچانتا ہو وہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز سن کر پہچان لے گا کہ یہ امام ہی کی آواز ہے۔ اتنے کمال درجے کے تابع کا حکم متبوع کے حکم سے کیسے مختلف ہو سکتا ہے؟ اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ مکبّر نماز میں شریک ہوتا ہے، لیکن آلہ مکبّر الصوت شریک نماز نہیں ہوتا تو اسے ہم صرف یہ آیت یاد دلائیں گے کہ <<مِّن شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَ لٰكِن لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ>> (بنی اسرائیل 44:17) قرآن کی رو سے تو مسلمان جب نماز پڑھتا ہے تو وہ تنہا نہیں پڑھتا بلکہ ساری کائنات اس کے ساتھ شریک نماز ہوتی ہے، اگرچہ ناواقفانِ راز ان غیر ناطق اشیا کی نماز کو سمجھ نہیں سکتے۔
ثالثاً، اگر کوئی شخص اس جگہ آیت مذکورۃ الصدر کے اطلاق کو تسلیم نہ کرے اور آلۂ مکبّر الصوت کو خارج از صلوٰۃ قرار دے کر اس کو تابعِ امام نہ مانے تو ہم کہیں گے کہ نماز میں غیر امام کی آواز پر حرکت کرنا مطلقاً مفسدِ صلوٰۃ نہیں ہے، مثال کے طور پر:
(۱) اگر آدمی نماز میں ہو اور کوئی سلام کرے تو اشارے سے جواب دینا مفسدِ صلوٰۃ نہیں۔ ترمذی میں حضرت بلالؓ سے اور نسائی میں حضرت صہیبؓ سے مروی ہے کہ جب آنحضرتؐ کو حالتِ نماز میں سلام کیا جاتا تو آپؐ ہاتھ کے اشارے سے جواب دیتے تھے۔
(۲) نماز میں اگر کسی شخص سے کسی ضروری بات کے متعلق سوال کیا جائے تو اشارے سے جواب دینا بھی مفسدِ صلوٰۃ نہیں۔ چنانچہ خلاصہ میں ہے مصلی کو سلام کیا جائے اور وہ ہاتھ یا سر کے اشارے سے جواب دے، یا اسے کسی چیز کی خبر دے اور وہ سر کی حرکت سے ہاں یا نہیں کا اشارہ کر دے، یا اس سے پوچھا جائے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں اور وہ انگلیوں کے اشارے سے بتا دے تو یہ مفسدِ صلوٰۃ نہیں۔ (فتح القدیر، جلد اوّل، ص ۲۹۲)
(۳) اگر کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی اسے پکار دے اور وہ اس کو یہ بتانے کے لیے کہ میں نماز میں ہوں، زور سے لا الہ الا اللہ کہہ دے تو اس سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی۔
(ہدایہ، باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیھا)
(۴) نبیؐ نماز میں جب کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز مختصر کر دیتے تھے تاکہ بچے کی ماں اگر شریکِ جماعت ہو تو وہ پریشان نہ ہونے پائے۔
(بخاری اور مسلم میں اس مضمون کی متعدد روایتیں ہیں)
(۵) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ارشاد ہے کہ جب نبیؐ کا مرض سخت ہو گیا تو آپؐ کے حکم سے حضرت ابوبکرؓ نماز پڑھانے لگے۔ ایک روز حضورؐ نے مرض میں کمی محسوس فرمائی اور نماز میں شریک ہونے کے لیے تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے جب آپؐ کے آنے کی آہٹ پائی تو پیچھے ہٹنے لگے، مگر آپؐ نے اشارے سے ان کو منع کیا۔ چنانچہ وہ اپنی جگہ کھڑے رہے اور آنحضرتؐ ان کی بائیں جانب جا کر بیٹھ گئے۔ (متفق علیہ)
(۶) مسجدِ قبا میں لوگ نماز پڑھ رہے تھے کہ تحویلِ قبلہ کی منادی اُن کے کانوں میں پہنچی اور انھوں نے اسی حالت میں اپنا رُخ کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ رسولؐ اللہ نے ان کے اس فعل کو نہ صرف جائز رکھا بلکہ پسند فرمایا۔ اسی سے فقہا نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ اگر کوئی شخص سمتِ قبلہ سے ناواقف ہو اور گمانِ غالب کی بنا پر کسی رُخ پر نماز پڑھ رہا ہو، پھر اسی حالت میں کوئی اسے قبلہ کی صحیح سمت بتا دے، تو اسی وقت اس کو صحیح سمت کی طرف پھر جانا چاہیے۔
(ہدایہ باب شروط الصلوٰۃ التی تتقدمها)
اسی طرح کی اور بھی بکثرت مثالیں احادیث و آثار میں موجود ہیں اور ان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر غیر مصلی کے ذریعے سے بھی مقتدیوں کو امام کے رکوع و سجود اور قیام و قعود کی اطلاع پہنچے، اور وہ ذریعہ قابلِ اعتماد ہو تو اس کے مطابق حرکت کرنے سے نماز میں کوئی قباحت واقع نہیں ہوتی۔ قاطعِ صلوٰۃ وہ چیز ہے جو دراصل اس نوعیت کا فعل ہے جس میں آپ کو مشغول دیکھ کر ناواقف آدمی یہ گمان کرے کہ آپ نماز نہیں پڑھ رہے ہیں، یا پھر مصلی کے درمیان ایسا معاملہ ہو جو مکالمہ اور تعلیم و تعلم کی حد تک پہنچا ہوا ہو۔
چنانچہ مبسوط میں ہے:
<<كل عمل اذا نظر اليه الناظر من بعيد لا يشك انه فى غير الصلوة فهو مفسد لصلوته وكل عمل لو نظر اليه الناظر فربما يشتبه عليه انه فى الصلوة فذالك غير مفسد.>> (جلد اول ، ص ۱۹۵)
ہر وہ عمل جسے دور سے دیکھ کر آدمی بلا شک یہ سمجھے کہ اس کا مرتکب نماز میں نہیں ہے، مفسدِ صلوٰۃ ہے۔ اور ہر وہ عمل جسے دیکھنے کے باوجود آدمی یہ شبہ کر سکتا ہو کہ وہ نماز میں ہے مفسدِ صلوٰۃ نہیں ہے۔
اور مبسوط ہی میں دوسری جگہ ہے:
<<فاما غير المقتدى اذا فتح على المصلى تفسد به صلوة المصلى وكذالك المصلى اذا فتح غير المصلى ، لانه تعليم وتعلم والقارى اذا استفتح غيره فكانه يقول بعد ما قرأت ماذا فذكرنى والذى يفتح عليه كانه يقول بعد ما قرأت كذا فخذ منی>>۔ (ص ۱۹۳)
اگر غیر مقتدی (خواہ الگ نماز پڑھ رہا ہو یا نماز نہ پڑھ رہا ہو) مصلی کو لقمہ دے تو مصلی کی نماز فاسد ہو جائے گی اور اسی طرح اگر مصلی غیر مصلی کو لقمہ دے تب بھی نماز فاسد ہو جائے گی کیونکہ یہ تعلیم و تعلم ہے۔ قاری جب پڑھتے پڑھتے دوسرے سے لقمہ مانگتا ہے تو گویا وہ سامع سے کہتا ہے کہ اس کے بعد کیا ہے؟ مجھے یاد دلاؤ۔ اور لقمہ دینے والا گویا اس کے جواب میں یہ کہتا ہے کہ اس کے بعد یہ ہے، یہ لو۔
یعنی اس طرح لقمہ دینا اور لقمہ لینا کلام کی حد میں آ جاتا ہے:
حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے۔ حضرت فارعہ بن رافع کو چھینک آئی اور انھوں نے زور سے کہا: <<الحمد لله حمدًا كثيرًا طيبًا مباركًا فيه مباركًا عليه كما يحب ربنا ويرضى>>۔ نماز ختم ہونے کے بعد حضورؐ نے فرمایا: یہ کون تھا جس نے یہ فقرہ کہا تھا؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تیس سے زیادہ فرشتے اس قول کو لے جانے کے لیے ایک دوسرے سے بازی لے جانا چاہتے تھے۔
(ترمذی، ابوداؤد، نسائی) دوسری حدیث میں ہے کہ نبیؐ ایک مرتبہ اس حال میں نماز پڑھا رہے تھے کہ آپؐ کے کندھے پر ایک بچی (اُمامہ بنت ابی العاص[ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی تھیں، حضرت زینب بنت رسول اللہ کی بیٹی۔]) بیٹھی ہوئی تھی۔ آپؐ جب رکوع میں جاتے تو اس کو اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اسے پھر کندھے پر بٹھا لیتے۔ (بخاری و مسلم) اسی بنا پر فقہا نے مسئلہ نکالا ہے کہ اگر نماز میں بچے کو اُٹھائے رہے تو یہ فعل مفسدِ صلوٰۃ نہیں ہے۔ (عالمگیری) نیز حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ نبیؐ ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے، اتنے میں ایک بچھو نے آپؐ کو کاٹ لیا اور اسی حالت میں آپؐ نے اپنی جوتی رکھ کر اس کو مار ڈالا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ <<اقتلوا الاسودين ولو كنتم فى الصلوة>>۔ یعنی بچھو اور سانپ کو مارو خواہ تم نماز ہی میں کیوں نہ ہو۔ (احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی)
پس جب کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز پر رکوع و سجود کرنا نہ فعلِ کثیر ہے، نہ تعلیم و تعلّم اور مکالمے کی تعریف میں آتا ہے، تو اس کے مفسدِ صلوٰۃ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اور جبکہ نماز میں بہت سے ایسے افعال کو بھی جائز رکھا گیا ہے جن کا نفسِ نماز سے کوئی تعلق بھی نہیں، تو فقط اتنی سی بات کہ ایک آلے کے ذریعے سے امام کے الفاظ کی نقل سن کر آدمی رکوع یا سجدہ میں چلا جائے کس طرح مفسدِ صلوٰۃ ہو سکتی ہے؟
یہ دلائل ہیں جن کی بنا پر نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو نہ صرف جائز بلکہ احسن سمجھتا ہوں اور میرا وجدان یہ گواہی دیتا ہے کہ رسول اللہؐ کے عہد میں یہ آلہ موجود ہوتا تو آپؐ یقیناً اس کو نماز اور اذان اور خطبے میں استعمال فرماتے، جس طرح آپؐ نے غزوۂ خندق میں خندق کھودنے کا ایرانی طریقہ بلا تامل اختیار فرمایا۔ تاہم اگر کوئی عالمِ دین میری اس رائے کو دلائلِ شرعیہ سے (نہ کہ مقلدیت کے طعنوں سے) غلط ثابت فرما دیں تو مجھے اس سے رجوع کرنے میں بھی تامل نہ ہوگا۔ <<ان اظن الا ظنّا وما انا بمستيقن، وانما انا بشر اخطى واصيب، فانظروا فى رأئى، فكلما وافق الكتاب والسنة فخذوا به وكلما لم يوافق الكتاب والسنة فاتركوه>>
(ترجمان القرآن، جمادی الاخریٰ ۱۳۵۷ھ / اگست ۱۹۳۸ء)
مذکورہ بالا بحث کو پڑھ کر ایک صاحب نے مولانا اشرف علی صاحب تھانوی مرحوم و مغفور کا، جو اس وقت بقیدِ حیات تھے، ایک فتویٰ بھیجا اور خواہش ظاہر کی کہ اس پر بھی اظہارِ رائے کیا جائے۔ فتویٰ حسبِ ذیل تھا:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ایک مشین ایسی ایجاد ہوئی کہ مقرر کی آواز کو بہت فاصلے تک اُسی طرح پہنچا دیتی ہے جس طرح پاس کے اشخاص کو پہنچتی ہے۔ پس کیا جائز ہے کہ ان مشینوں کے ذریعے سے خطیب کی آواز کو تمام سامعین تک پہنچا دیا جائے۔
جواب: اوّل ایک قاعدہ سمجھ لیا جائے جو کہ عقلی بھی ہے اور نقلی بھی۔ اور فقہائے حنفیہ نے اس قاعدے پر بہت سے احکام کو متفرع کیا ہے۔ وہ یہ کہ جو مباح یا مندوب درجۂ ضرورت و مقصودیت فی الشرع تک نہ پہنچا ہو، اور اس میں کوئی مفسدہ باحتمال قریب محتمل ہو تو اس مباح یا مندوب کا ترک اور ان کا منع کرنا لازم ہے۔ عقلی ہونا تو اس کا ظاہر ہے اور بقول فقہا کے بعد اس کے ماخذ نقلی کی نقل ضروری نہ تھی، مگر تبرعاً اس کو بھی نقل کرتا ہوں۔ سو اس کے نقلی ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: <<وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ>> ط (الانعام 108:6) سَبِّ الہہ باطلہ مباح تو ضرور ہی ہے اور بعض حالات میں مندوب بھی، مگر مقصودِ مستقل نہیں۔ کیونکہ اس کی غایت دوسرے طریق سے بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ یعنی حکمت وموعظت اور مجادلۂ حسنہ سے۔ اور اس میں مفسدہ سَبِّ مشرکین لِاِلہِ الحق کا ہے، اس لیے اس سے نہی فرمادی گئی ہے۔ اور اس قاعدے کی تمہید کے بعد جواب ظاہِر کہ تبلیغِ صوت سامعینِ بعید تک شرعاً غیر ضروری ہے، کیونکہ بعیدین کو دوسرے غیر مخدوش ذریعے سے تبلیغ ممکن ہے، اور اس میں یہ مفسدہ محتمل کہ لوگ اس سے گنجائش سمجھ جاویں گے اس آلے کو لہو میں استعمال کرنے کی، یا دوسرے آلاتِ لہو کے استعمال کرنے کی۔ لہٰذا ترک اور منع لازم ہوگا۔ یہ تو اس وقت ہے جب خطیب سے مراد مطلق واعظ اور لیکچرار ہو۔ اور اگر اس سے مراد خطیب جمعہ و عیدین کا ہے تو اس وقت تبلیغِ صوت کا غیر ضروری ہونا اظہر ہے، اس لیے کہ خطبے میں حضور مقصود ہے نہ کہ سماعِ صوت، اور مفسدہ اقوٰی ہے، کیونکہ اس آلے کو مسجد میں داخل کرنا ہوگا جو کہ اس کے احترام کے خلاف ہے۔ نیز تشبّہ ہے مجالسِ غیر مشروعہ کے ساتھ۔ اسی تشبّہ کی بنا پر فقہا نے غرسِ اشجار فی المسجد کو منع فرمایا ہے اور تشبّہ بالبیعہ والکنیسہ سے معلّل کیا ہے۔ واللہ اعلم!
اس کے جواب میں حسبِ ذیل مضمون لکھا گیا:
یہ ایک ایسے جلیل القدر عالم کا فتویٰ ہے جو اس وقت دنیائے اسلام کے ممتاز ترین علما کی صفِ اوّل میں ہیں۔ میرے علم کو ان کے علم سے وہ نسبت ہے جو ذرّے کو آفتاب سے ہوتی ہے۔ اگر اس نسبت کا لحاظ کروں تو مجھے نہ صرف یہ کہ اس پر کلام نہ کرنا چاہیے بلکہ اپنی تحقیق کو چھوڑ کر حضرت ممدوح کی تحقیق قبول کر لینی چاہیے، لیکن جب سَلَف کے طریق پر نظر ڈالتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں مَنْ قَالَ کو نہیں بلکہ مَا قَالَ کو دیکھنے کا قاعدہ جاری تھا۔ شاگرد اُستاد کی تحقیق کے مقابلے میں، اور چھوٹے بڑے کی رائے کے مقابلے میں اپنی رائے اور تحقیق بے تکلف پیش کیا کرتے تھے۔ نہ اس زعم کے ساتھ کہ بڑوں کے علم سے ان کا علم زیادہ یا ان کے برابر ہے، بلکہ یہ سمجھ کر کہ حق کی تلاش و تحقیق ہر طالب علم پر فرض ہے، اور اس تلاش و تحقیق میں اس کو شخصی عظمتوں سے خالی الذہن ہو کر نفسِ حقائق کو دیکھنا چاہیے۔ اُن کے نزدیک یہ ضروری نہ تھا کہ ایک شخص دوسرے شخص کے برابر یا اس سے زیادہ علم رکھتا ہو، تب ہی اس کے مقابلے میں اپنی تحقیق پیش کرے، ورنہ چپ رہے اور اپنی فکر و نظر کو معطل کر کے اس کی تحقیق کو مان لے۔ اگر یہ ذہنیت اس زمانے میں ہوتی تو امام ابو حنیفہؒ اور امام مالکؒ کے مقابلے میں امام شافعیؒ اور امام شافعیؒ کے مقابلے میں امام احمدؒ کوئی مذہب اختیار ہی نہ فرماتے۔ یہ حضرات رُشد و ہدایت کے امام تھے اور ان کا طریقہ ہر زمانے میں طالبانِ علم کے لیے بہترین نشانِ راہ ہے، اس لیے ان کی پیروی کرتے ہوئے میں بھی حضرت مولانا تھانوی کے مقابلے میں اپنی علمی بے مائیگی کو جاننے کے باوجود اس فتوے پر کلام کر رہا ہوں۔
فتوے کی بنا جس قاعدے پر رکھی گئی ہے وہ یقیناً مسلّم ہے۔ صرف فقہائے حنفیہ ہی نے نہیں بلکہ دوسرے ائمۂ اسلام نے بھی اس کو تسلیم کیا ہے۔ اور ایک آیت ہی نہیں بلکہ کتاب و سنت کی متعدد تصریحات اس کا ماخذ ہیں، لیکن یہ امر محلِ نظر ہے کہ آیا اس خاص جزئیہ میں بھی یہ قاعدہ جاری ہوسکتا ہے یا نہیں۔
آلۂ مکبر الصوت کو کسی حیثیت سے بھی آلۂ لہو نہیں کہا جاسکتا۔ آلۂ لہو کا اطلاق اصلاً تو اُس آلے پر ہوتا ہے جو لہو ہی کے لیے بنایا گیا ہو، اور اس کا کوئی دوسرا استعمال بجز لہو کے نہ ہو، مثلاً بانسری یا ہارمونیم۔ اور تبعاً اس کا اطلاق ایسے آلے پر بھی ہوسکتا ہے جو اگرچہ بجائے خود لہو کے لیے نہ بنایا گیا ہو، لیکن اس کا غالب استعمال لہو میں ہو، مثلاً گراموفون۔ مکبّر الصوت ان دونوں صنفوں میں سے کسی صنف میں داخل نہیں۔ اس کا استعمال لہو اور غیر لہو دونوں میں ہوتا ہے، اور غیر لہو میں بہ نسبت لہو کے زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی مثال تو ایسی ہے جیسے شیشے کا گلاس کہ اس میں شراب بھی پی جاتی ہے اور حلال مشروبات بھی۔ یا بجلی کا لیمپ اور برقی پنکھا کہ یہ چیزیں تھیٹروں اور رقص خانوں اور فحش کدوں میں بھی استعمال ہوتی ہیں اور پاک مجلسوں اور مباح اغراض میں بھی۔ اب اگر ناجائز استعمال کی وجہ سے ان چیزوں کو آلۂ لہو یا آلۂ منکر نہیں کہا جاسکتا، تو مکبّر الصوت کو بھی نہیں کہا جاسکتا۔ اگر گلاس اور پنکھے اور
لیمپ کے استعمال میں مجالس غیر مشروعہ سے تشبّہ نہیں ہے تو مکبّر الصوت میں بھی نہیں ہے۔ اگر شیشے کا گلاس استعمال کرنے سے اس مفسدہ کا احتمال نہیں ہے کہ لوگ اس کو شراب نوشی میں استعمال کرنے کی گنجائش نکال لیں گے، اور اگر مسجدوں میں بجلی کی روشنی اور پنکھا لگانے سے یہ مفسدہ پیدا نہیں ہوتا کہ لوگوں کے لیے رقص خانوں میں جانے کی گنجائش نکل آئے گی تو مکبّر الصوت کے استعمال میں بھی ایسے کسی مفسدہ کا احتمال نہیں۔ جب برقی پنکھے اور روشنی کے قمقمے لگانا احترام مسجد کے خلاف نہیں ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مکبّر الصوت لگانا اہانتِ مسجد کا موجب ہو۔
اس میں شک نہیں کہ مکبّر الصوت اس زمانے میں زیادہ تر معروف کے بجائے منکر کی خدمت کر رہا ہے، لیکن آج کون سی چیز ہے جو منکر کی خدمت نہیں کر رہی ہے؟ قلم دوات سے لے کر چھاپے کی مشین ، ریل، موٹر ، ہوائی جہاز اور ریڈیو تک ہر چیز کا غالب استعمال آج فحشا و منکر ہی کے لیے ہو رہا ہے۔ ہر چیز سے ظلم وعصیان کی خدمت لی جا رہی ہے۔ ہر آلے اور ہر طاقت سے اُس تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کی بنیاد نا خدا شناسی بلکہ خدا سے بغاوت پر رکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ خدا کی پیدا کی ہوئی طاقتوں کو دریافت کرنے اور ان سے خدمت لینے کا سارا کام آج وہ لوگ کر رہے ہیں جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جو لوگ خدا پر ایمان رکھتے ہیں، انھوں نے اسبابِ عالم کو قابو میں لانے اور ان سے معروف کی خدمت لینے کا کام چھوڑ رکھا ہے۔ اسی وجہ سے پورا انسانی تمدّن ناپاک ہو گیا ہے اور دنیا کی ہر چیز آلہ منکر بن کر رہ گئی ہے۔
اب اگر ہم ایک ایک چیز کو اس بنا پر چھوڑتے چلے جائیں کہ فلاں چیز آلۂ منکر ہے اور فلاں چیز کو استعمال کرنے سے فاسقین وظالمین کے ساتھ تشبّہ ہو جائے گا، تو ہمیں تمدّن ہی سے الگ ہو جانا پڑے گا، اور یہ مزید غلطی ہوگی۔ اس سے خدا پرستانہ تہذیب اور زیادہ مغلوب اور ظالمانہ و فاسقانہ تہذیب اور زیادہ غالب ہوتی چلی جائے گی، اس لیے کہ جو تہذیب مشینوں کے زور سے پھیل رہی ہو، اس کے مقابلے میں وہ تہذیب کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جو تمام کارگر ذرائع اور طاقتور اسباب سے خود ہی دست بردار ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ موٹر پر دوڑنے والے کا مقابلہ چھکڑے پر چلنے والا نہیں کر سکتا۔ جو لوگ ریڈیو کے زور سے ایک سیکنڈ کے اندر باطل کی آواز کرۂ زمین کے ایک ایک کونے میں پہنچا دیں، اور کروڑہا کروڑ انسانوں کے خیالات کو ایک جنبشِ زبان سے مسموم کر کے رکھ دیں، اُن کے مقابلے میں وہ لوگ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں جو ایک جلسے کے سامعین تک بھی حق کی آواز پہنچانے میں خدا کی پیدا کی ہوئی ایک طاقت سے کام لیتے ہوئے جھجکتے ہیں؟ منکر کی آواز بلند کرنے والے تو ایک شخص کو بھی اپنی بات سنائے بغیر چھوڑنا پسند نہیں کریں گے اور معروف کی آواز بلند کرنے والوں کا اندازِ فکر یہ ہو کہ سامعینِ بعید تک تبلیغِ صوت شرعاً ضروری تو ہے نہیں، لہٰذا کیوں اس کی کوشش کی جائے؟
اس طرزِ عمل کا انجام جو کچھ ہوگا، بلکہ ہو رہا ہے اس کو ہر شخص بادنیٰ تامل جان سکتا ہے۔ اس کے معنی دراصل یہ ہیں کہ ہم ایک ایک ہتھیار کو یہ کہہ کر پھینکتے جائیں کہ دشمن کے استعمال سے وہ گندہ ہو گیا ہے، اور دشمن ان سب ہتھیاروں کو اٹھا کر ہم پر حملہ کرتا چلا جائے۔
یہ ارشاد بالکل بجا ہے کہ دُور کے سامعین تک آواز پہنچانا شرعاً ضروری نہیں ہے، مگر یہ درست نہیں ہے کہ آواز پہنچانا اور سامعین کا اُسے سننا شریعت میں مقصودیت کا درجہ ہی نہیں رکھتا۔ نماز میں قرآن اسی لیے پڑھا جاتا ہے کہ مقتدی اس کو سنیں۔ خود قرآن میں اس مقصد کی تصریح موجود ہے کہ <<وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا>> (الاعراف 7: 204) خطبہ بھی اسی لیے دیا جاتا ہے کہ لوگوں کو سنایا جائے، اور شارع نے اسی غرض سے خطبے کے وقت بات چیت سے منع کیا ہے۔ استماع کا مقصود ہونا تو نقلاً بھی ثابت ہے اور عقلاً بھی۔ ظاہر ہے کہ کلام اسی لیے ہوتا ہے کہ لوگ اس کو سنیں۔ منہ سے آواز اسی لیے نکالی جاتی ہے کہ کانوں تک پہنچے۔ اب رہا یہ امر کہ شارع نے اس کو ضروری کیوں نہیں قرار دیا؟ تو میں عرض کروں گا کہ یہ رخصت کے قبیل سے ہے۔ چونکہ اُس زمانے میں کوئی ایسا ذریعہ موجود نہ تھا جس سے دور تک آواز پہنچائی جاسکے، اور آج بھی ہر وقت ہر جگہ مکبّر الصوت مہیا نہیں ہو سکتا، اس لیے استماع کو لازم نہیں کیا گیا کہ اس کے بغیر نماز ہی نہ ہو، یا حضورِ خطبہ کا ثواب ہی حاصل نہ ہو سکے گا، مگر اس نرمی اور رخصت کو جو محض طبعی موانع کا لحاظ کر کے عطا کی گئی ہے، اس امر کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا کہ تبلیغ صوت کا اہتمام سرے سے غیر ضروری ہے، حتیٰ کہ اگر اس کے لیے کوئی ذریعہ مہیا ہو جائے ، تب بھی اسے قصداً ترک کر دیا جائے۔
آخر میں یہ بات بھی صاف کر دینا چاہتا ہوں کہ اس مسئلے پر میرے بار بار لکھنے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مجھے خاص طور پر لاؤڈ اسپیکر سے کوئی دلچسپی ہے بلکہ دراصل میرا مقصد یہ ہے کہ سائنٹفک ایجادات اور تمدنِ جدید کے آلات و وسائل کے متعلق مسلمان اپنا رویہ بدلیں۔ یہ آلات بجائے خود ناپاک نہیں ہیں۔ اصل میں وہ طریقِ استعمال ناپاک ہے جو مغرب کی باغیانہ تہذیب نے اختیار کر رکھا ہے۔ خداوندِ عالم نے جن چیزوں کو انسان کے لیے مسخر کیا ہے وہ بالیقین پاک ومطہر ہیں اور ان کی فطرت یہ چاہتی ہے کہ ان سے خدائی قانون کے مطابق کام لیا جائے ، مگر ان پر دُہرا ظلم ہورہا ہے کہ جن کے پاس خدائی قانون موجود ہے وہ ان سے کام نہیں لیتے ، اور جو ان سے کام لے رہے ہیں ، وہ شیطانی قانون کے متبع ہیں۔
ترجمان القرآن
(رجب ۱۳۵۷ھ۔ ستمبر ۱۹۳۸ء)