مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

مسلمانوں کا ماضی و حال اور مستقبل

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ تقریر (۱۱ نومبر ۱۹۵۱ء، اجتماعِ عامِ جماعتِ اسلامی، کراچی) مولانا مودودی کا وہ واضح اور جامع اعلانِ طریقِ عمل ہے جس میں انہوں نے ماضیِ امت کے اسباق، موجودہ حالتِ زوال کے اسباب اور ازالۂِ فساد کے لیے ایک ہمہ گیر منصوبۂ کار ببانگِ دہل پیش کیا ہے۔ اس کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ جو عوارض آج مسلمانوں کو گھیرے ہوئے ہیں یہ محض وقتی خرابیاں نہیں بلکہ تاریخی جڑیں رکھتی ہیں جن کا علاج جزوی اصلاحات سے ممکن نہیں؛ اس لیے ایک منظم، منسجم اور دائمی پروگرام کی ضرورت ہے جو محض مرمت نہ کرے بلکہ نظامِ زندگی کی اساس بدل دے۔

۱) تھیسس و محرکِ نوشت: مولانا مودودی کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ امن و فلاح کی واحد راہ وہ ہے جس پر خدا کی سلطنت، اطاعتِ الٰہی، اخروی شعور اور انبیاء کے اتباع کو بطورِ اصل اور اصولِ حیات اختیار کیا جائے۔ مقصد صرف موجودہ خرابیوں کی مرمت نہیں، بلکہ وہ نظامِ زندگی قائم کرنا ہے جو خدا کی حکمرانی، آخرت اور توحید پر مبنی ہو۔ اسی شعار کے تحت انہوں نے پاکستان کو پہلے اس انقلاب کا شعبہء آزمائش قرار دیا ہے تاکہ یہاں سے دنیا میں اصلاح کی لہر اٹھ سکے۔

۲) ابواب وار دلیل کا ارتقا: - ازالۂِ غلط فہمی: ابتدا میں مودودی ایک ممکنہ غلط فہمی کو دور کرتے ہیں کہ ان کی کوشش محض وقتی اصلاحات تک محدود ہے؛ بلکہ یہ ایک دائمی اور عالمگیر ہدف کا حصہ ہے۔ - پچھلی تاریخ کا جائزہ: وہ انگلستان کی غلامی کو ایک حادثۂ غیر متوقع نہ بلکہ صدیوں کے دینی، اخلاقی اور ذہنی انحطاط کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

فاتح تہذیب کے اثرات

یہ سیاست تھی، یہ اخلاقیات تھے، یہ فلسفے تھے اور مذہب کے بارے میں یہ خیالات تھے ان لوگوں کے جو ہماری تاریخ کے منحوس مرحلے میں باہر سے آ کر ہم پر غالب ہوئے۔ ہم اس وقت جن کم زوریوں میں مبتلا تھے وہ آپ پہلے سن چکے ہیں اور یہ لوگ جو تہذیب لائے تھے وہ یہ تھی جس کی تصویر ابھی آپ نے ملاحظہ فرما لی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تہذیب یہاں اس حیثیت سے نہیں آئی تھی کہ کچھ مسافر یا کچھ سیاح اسے لائے تھے۔ یہ ان لوگوں کی تہذیب تھی جو یہاں حکم ران بن کر آئے تھے۔ جن کو یہاں کی پوری زندگی پر وہ تسلط حاصل ہوا تھا جو اُن سے پہلے کبھی اس ملک کی کسی حکومت کو نصیب نہ ہوا تھا۔ جن کا وہ رعب۔۔۔ ذہنی اورمادی دونوں طرح کا رعب ۔۔۔ یہاں کی آبادی پر پڑا تھا جو شاید پہلے کسی حکم ران گروہ کا نہ پڑا تھا۔ جن کے قبضے میں نشرواشاعت اور تعلیم کے وسیع ذرائع بھی تھے۔ قانون اور عدالت کے کارگر ہتھیار بھی تھے اور اس کے ساتھ معاش کے وسائل کو بھی ان کے اقتدار نے پوری طرح گرفت میں لے رکھا تھا۔ اس لیے ان کی تہذیب نے ہم پر ایسا ہمہ گیر اثر ڈالا جس کی گہرائی سے ہماری زندگی کا کوئی شعبہ نہ بچا۔