مسئلہ ملکیتِ زمین
اشاعت: 1950ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "مسئلہ ملکیتِ زمین" ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جو اسلامی نظامِ معاشیات کے بنیادی ستون—زمین کی ملکیت—کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں واضح، متوازن اور عملی رہنمائی پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب محض ایک تاریخی بحث کا اعادہ نہیں، بلکہ موجودہ دور کے معاشی اور سماجی مسائل کے تناظر میں اسلامی تعلیمات کی درست تفہیم کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔ مولانا کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ اسلام نہ تو مطلق شخصی ملکیت کی حمایت کرتا ہے جس میں مالک کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہو، اور نہ ہی اجتماعی ملکیت کا نظام قائم کرتا ہے جیسا کہ جدید سوشلسٹ نظریات کرتے ہیں۔ بلکہ اسلام ایک ایسا متوازن نظام پیش کرتا ہے جس میں زمین کی شخصی ملکیت کو برقرار رکھتے ہوئے اس پر الٰہی، اخلاقی اور سماجی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تاکہ معاشرے میں انصاف، مساوات اور رحم و کرم کا نظام قائم رہ سکے۔
کتاب کا آغاز ایک تاریخی تناظر سے ہوتا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ 1934ء کے آس پاس انہوں نے ماہنامہ "ترجمان القرآن" کے صفحات میں ایک مشہور مصنف کی کتاب پر تنقیدی مضامین کا سلسلہ شروع کیا تھا، جس میں زمین کی ملکیت کے مسئلے پر وسیع مباحثہ ہوا۔ یہ بحث وقت گزرنے کے ساتھ فراموش ہو گئی، لیکن جب مولانا کو جیل میں فرصت ملی تو انہوں نے اسے نئے سرے سے مرتب کیا، اس میں ضروری اضافے کیے، اور آج کے دور کی ضروریات کے مطابق اسے دوبارہ پیش کیا۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: دیگر
(۲) مصنّف کا جواب
قرآن سے زمین پر شخصی ملکیت کا حق ثابت نہیں۔ اس پر آپ کو اعتراض ہے تو کوئی آیت ثبوت میں نقل کرتے۔ کسی عہد کی تاریخ سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ کیوں کہ تاریخ ایک خاص ماحول رکھتی ہے۔ ممکن ہے کہ وہ ماحول اب نہ ہو۔ دراصل قرآنِ کریم کے متعلق ہمارے اور آپ کے زاویۂ نگاہ میں فرق ہے۔ ہم قرآن کو ایک مکمل کتاب سمجھتے ہیں جس میں انسان کے جملہ دینی اور دُنیاوی مسائل کا حل ہے۔ جس طرح یہ عالمِ فطرت انسانی معیشت کے لیے ہرطرح مکمل ہے۔ اسی طرح یہ کلامِ فطرت، یعنی قرآن بھی جملہ عقد ہائے معاشرت کو کھول سکتا ہے۔ آج انسانی قومیں انسانی معاشرت کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے بے قرار ہیں اور ان میں قبضۂ زمین کے مسئلہ کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ کیوں کہ اس کی بدولت انسانی برادری میں نہایت غیرمساویانہ دولت کی تقسیم ہوئی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ قرآن میں اس کا حل نہیں ہے ؟ آپ کا خیال ہے کہ قرآن نے وَالْاَرْضَ وَضَعَھَا لِلْاَنَامِ کہہ کر صرف قدرتِ الٰہی کا اظہار کیا ہے۔ مگر ہمارے نزدیک اس قدرتِ الٰہی کا شکر یہ ہے کہ ہم اس کے مطابق عمل کریں۔اسی سورہ میں ہے: وَلَہُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلَامِ (الرحمٰن ۵۵: ۲۴) یعنی اُسی کے ہیں جہاز اُونچے کھڑے ہوئے سمندر میں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ انگریزی اور جاپانی جہازوں کو سمندر میں دیکھ کر آپ قدرتِ حق پر اس کی حمدوثنا کریں یا خود بڑے بڑے جنگی جہاز تعمیر کر کے سمندر میں ڈالیں؟ بہرصورت کلامِ الٰہی ایک فطری شے ہے جس کے منافع محدود اور متعین نہیں ہوتے۔ اس لیے کسی آیت کے متعلق آپ کا یہ کہنا کہ یہ صرف فلاں غرض کے لیے ہے صحیح نہیں ہوسکتا۔ اگر اس سے دوسرے فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں تو ضرور حاصل کیے جائیں گے۔ یہی حال فطری اشیا کا ہے۔ باوا آدم پانی کے متعلق یہ تو ضرور جانتے تھے کہ نہانے اور پینے کی چیز ہے۔ مگر فرزندانِ آدم ؑ نے اسی پانی سے بڑی بڑی مشیںیں، ریلیں اور جہاز چلانا شروع کیے۔ اور ابھی تک اس کا فائدہ محدود نہیں ہے۔ اسی سے ’’ماءِ ثقیل‘‘ نکالا جاچکا ہے جو دنیا کا سب سے قیمتی زہر ہے اور اسی سے پٹرولیم بنانے کا نسخہ بھی تیار ہوچکا ہے۔ بعینہٖ یہی حال آیاتِ قرآنی کا ہے کہ ان کی فہم کو کسی ایک عہد کے ساتھ مخصوص کر دینا روا نہیں ہے۔ وہ ہرعہد میں ایک نیا عالم پیدا کرسکتی ہیں۔