مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

مسئلۂ تعدد ازدواج

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "مسئلۂ تعدد ازواج" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی تصنیف ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید کی سورۂ نساء کی آیت نمبر 3 کی روشنی میں اسلامی قانونِ تعددِ ازواج کا جامع، منصفانہ اور شرعی تناظر پیش کیا ہے۔ اس کتاب کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ جدید دور کے چند مفسّرین اور متجددین اسلامی شریعت کے اس واضح حکم کو مشکوک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو صدیوں سے مسلم امت کے درمیان اجماعی طور پر قائم رہا ہے۔ مولانا مودودی کا مقصد صرف اس غلط فہمی کو دور کرنا نہیں بلکہ ان تمام تاویلات اور من گھڑت شرائط کی بے نقاب تردید کرنا ہے جن کے ذریعے تعددِ ازواج کو عملی طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کتاب کا آغاز اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ آج کل ایک گروہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسلامی قانونِ تعددِ ازواج قرآن کے خلاف ہے، جبکہ ان کے نئے تصورات عین قرآنی ہیں۔ مولانا مودودی اس دعوے کا جائزہ لینے کے لیے پہلے قرآن کی اصل آیت کا تجزیہ کرتے ہیں، جو سورۂ نساء کی آیت 3 ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں کو چار تک بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن عدل کی شرط کے ساتھ۔ مفسّرین کرام نے اس آیت کی تین اہم تفاسیر پیش کی ہیں: ایک حضرت عائشہؓ کی روایت پر مبنی ہے جو یتیم لڑکیوں کے تحفظ کے تناظر میں ہے؛ دوسری ابن عباسؓ کی ہے جو نکاح کی حد مقرر کرنے پر زور دیتی ہے؛ اور تیسری سعید بن جبیر اور قتادہ کی ہے جو عورتوں کے ساتھ عدل کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: عورت اور مرد کا تعلق

غلط مفروضہ

اس آیت کے الفاظ پر بار بار غور کیجیے۔ اس میں کہیں کوئی اشارہ اور کنایہ تک آپ ایسا نہ پائیں گے جس سے یہ بات نکلتی ہو کہ قرآن کی نگاہ میں تعدد ازواج فی الاصل کوئی برائی ہے اور وہ اس کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ہمارے نئے دور کے یہ مفسرین دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کا اصل مقصد تو تعدُّد ازواج کے طریقے کو مٹانا تھا، مگر چونکہ یہ بہت زیادہ رواج پاچکا تھا اس لیے اس پر صرف پابندیاں عائد کرکے چھوڑ دیا گیا، تاکہ آئندہ کسی مناسب موقع پر لوگ خود اسے ممنوع قرار دے لیں۔ سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو قرآن کا یہ منشا آخر کس ذریعے سے معلوم ہوا ہے؟ اگر ان کی اپنی رائے یہ ہے کہ تعدّد ازدواج فی نفسہٖ ایک بُرائی ہے تو انہیں یہ اختیار تو ضرور حاصل ہے کہ چاہیں تو قرآن کے علی الرغم اس کی مذمت کریں اور اسے موقوف کر دینے کا مشورہ دیں۔ لیکن یہ حق انہیں نہیں پہنچتا کہ اپنی رائے کو خواہ مخواہ قرآن کی طرف منسوب کریں۔ قرآن تو صریح الفاظ میں ان کو جائز قرار دیتا ہے اور اشارتاً و کنایتاً بھی اس کی مذمت میں کوئی ایسا لفظ استعمال نہیں کرتا جس سے معلوم ہو کہ فی الواقع وہ اسے ایک بُرائی سمجھتا ہے اور اس کو روکنا چاہتا ہے۔