مسئلہ قربانی
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "مسئلہ قربانی" ایک ایسی علمی و فکری تحریر ہے جو پاکستان میں بقر عید کے موقع پر قربانی کے خلاف اٹھنے والی مہم کا جامع جواب دیتی ہے۔ مصنف نے اس کتاب کو اس لیے تحریر کیا کہ ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر اخبارات، رسالوں، پمفلٹوں اور اشتہارات کے ذریعے قربانی کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے، جس کا مقصد عام مسلمانوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالنا ہوتا ہے کہ قربانی کوئی دینی حکم نہیں بلکہ ملاؤں کی ایجاد ہے۔ مولانا مودودی اس غلط فہمی کو دور کرنے، شرعی و عقلی بنیادوں پر قربانی کے مشروع ہونے کو ثابت کرنے اور اس کے خلاف اٹھائے جانے والے اعتراضات کی حقیقت کو بے نقاب کرنے کے لیے اس کتاب کو پیش کرتے ہیں۔
کتاب کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ قربانی کے خلاف مہم صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں پر بھی اس کا اثر مرتب ہو رہا ہے، جہاں ہندو اکثریت مسلمانوں کو گائے کی قربانی سے روک چکی ہے۔ مصنف اسے ایک تاریخی المیہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان جو اسلامی تہذیب کے تحفظ کے لیے وجود میں آیا تھا، وہی ہندوستان کے ہندوؤں کو یہ مشورہ دے رہا ہے کہ وہ تمام قربانیوں پر پابندی عائد کر دیں، حالانکہ یہ شعائرِ اسلام میں شامل ہے۔
اس کے بعد مصنف قربانی کے مسئلے کو ایک متفق علیہ اسلامی طریقہ کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس پر ائمۂ اربعہ، اہل حدیث، سنی و شیعہ سمیت تمام اسلامی گروہوں کا اتفاق رہا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: دیگر
منصبِ رسولؐ
یہ بات حقیقت کے خلاف بھی ہے اور سخت فتنہ انگیز بھی۔
حقیقت کے خلاف یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ اللہ محض ایک ڈاکیا بنا کر نہیں بھیجا تھا کہ آپ کاکام اللہ کا پیغام بندوں تک پہنچا دینے کے بعد ختم ہو جائے اور اس کے بعد بندے اللہ میاں کے نامۂ گرامی کو لے کر جس طرح ان کی سمجھ میں آئے اس کی تعمیل کرتے رہیں۔ خود قرآن کی رُو سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب کی نوعیت کفار کے لیے الگ اور اہل ایمان کے لیے الگ ہے۔ کفار کے لیے آپ صرف مبلغ اور داعی الی اللہ ہیں۔ مگر جو لوگ ایمان لے آئیں ان کے لیے تو آپ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کے مکمل نمایندے ہیں۔ آپ کی اطاعت عین اللہ کی طاعت ہے۔ <<مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہِ>> آپ کے اتباع کے سوا اللہ کی خوشنودی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔<< اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ>> (آل عمران3:31) اللہ نے آپؐ کو اپنی طرف سے معلم، مربی، راہ نما، قاضی، آمروناہی اور حاکم مطاع، سب کچھ بنا کر مامور فرمایا تھا۔ آپ کاکام یہ تھا کہ مسلمانوں کے لیے عقیدہ و فکر، مذہب و اخلاق، تمدن و تہذیب، معیشت و سیاست، غرض زندگی کے ہر گوشے کے لیے وہ اصول، طریقے اور ضابطے مقرر کریں جو اللہ کی پسند کے مطابق ہوں اور مسلمانوں کا فرض یہ ہے کہ جو کچھ آپ نے سکھایا اور مقرر کیا ہے اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے کوئی شخص یہ حق نہیں رکھتا کہ رسول اللہؐ جو حکم دیں اس پر ان سے سند طلب کرے۔ رسولؐ کی ذات خود سند ہے۔ اس کا حکم بجائے خود قانون ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی مسلمان یہ سوال کرنے کا مجاذ نہیں ہے کہ جو حکم رسولؐ نے دیا ہے اس کا حوالہ قرآن میں ہے یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کوئی ہدایت خواہ اپنی کتاب کے ذریعہ سے دے یا اپنے رسولؐ کے ذریعہ سے، سند اور وزن کے اعتبار سے دونوں بالکل یکساں ہیں اور قانونِ الٰہی ہونے میں ان دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔