مسئلۂ قومیت
اشاعت: 1941ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مسئلۂ قومیت" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی اور فکری تحریر ہے جس میں انہوں نے قوم، قومیت اور قوم پرستی کے موضوع پر عام مسلمانوں کے ذہنوں میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ آج کل یہ الفاظ لوگوں کی زبانوں پر بکثرت چڑھے ہوئے ہیں، مگر ان کے صحیح معانی اور اسلامی تناظر میں ان کی نوعیت سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ اس جہالت کی وجہ سے نہ صرف الفاظ کے استعمال میں بلکہ خیالات اور اعمال دونوں میں سنگین غلطیاں رونما ہو رہی ہیں۔ مولانا دو اہم گروہوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ایک وہ جو مسلمانوں کو نسل، زبان یا خطّے کی بنیاد پر ایک قوم سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا وہ جو قوم پرستی کو بالکل جائز سمجھ کر اسلامی شناخت کو محو کرنے کا باعث بنتا ہے۔ دونوں رویّے اسلامی تعلیمات کے خلاف ہیں، اور اسی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے یہ رسالہ مرتب کیا گیا ہے۔
اس کتاب کے پہلے باب "دیباچہ" میں مصنف نے اپنے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسلمانوں کی شناخت نسل، زبان یا خطّے سے نہیں بلکہ ایمان اور عقیدۂ توحید سے ہے، اور اس بنیاد پر ہی ان کی 'امت' کا تصور تشکیل پاتا ہے۔ دوسرے باب "قومیتِ اسلام" میں مولانا نے قومیت کے تصور کا جامع تجزیہ پیش کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جدید دور کی تمام قومیتیں نسل، وطن، زبان یا معاشی نظام جیسی مادی بنیادوں پر استوار ہیں، جبکہ اسلامی قومیت ان تمام عناصر سے بالکل جدا ہے۔
دیباچے اور 'قومیتِ اسلام' کے تفصیلی جائزے کے بعد، جس میں نسلیت، وطنیت، لسانی امتیاز اور معاشی و سیاسی قومیت جیسے تمام مغربی معیارات کو عقلی طور پر رد کیا گیا ہے، کتاب کا دوسرا بڑا حصہ 'متحدہ قومیت اور اسلام' ہے۔ یہاں مولانا اس نظریے پر تنقید کرتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان اور ہندو مشترکہ وطنیت کی بنیاد پر ایک قوم تصور کیے جا سکتے ہیں، اور اسے حقائق سے چشم پوشی اور لفظی مغالطوں پر مبنی مؤقف قرار دیتے ہیں۔
آخری باب 'کیا ہندوستان کی نجات نیشنل ازم میں ہے؟' یورپی نیشنل ازم کی تاریخ، اس کے تباہ کن نتائج اور ہندوستان میں اس کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے، اور یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ نہ تو مذہبی بنیاد پر اور نہ ہی وطنی بنیاد پر قومیت مسلمانوں کی حقیقی شناخت بن سکتی ہے، بلکہ ان کی واحد قومیت عقیدۂ توحید اور اسلام ہی ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
متعلقہ نظامات: عالمگیر انسانیت
نیشنلزم کے لوازم
کسی ملک میں نیشنلزم پیدا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہاں پہلے سے ایک قومیت موجود ہو یا اگر وہ پہلے سے موجود نہیں ہے تو اب وجود میں آئے کیونکہ جہاں قومیت ہی سرے سے موجود نہ ہو وہاں قوم پرستی کسی طرح پیدا نہیں ہوسکتی۔ قوم پرستی تو قومیت کے استعمال ہی کا دوسرا نام ہے۔ جب شعلہ ہی موجود نہ ہوگا تو اشتعال کیسے ہوگا؟
اب دیکھنا چاہیے کہ قوم پرستی کا شعلہ بھڑکنے کے لیے کس قسم کی قومیت درکار ہے۔
قومیت کی ایک قسم وہ ہے جسے سیاسی قومیت (Political Nationality) کہتے ہیں، یعنی جو لوگ ایک سیاسی نظام سے وابستہ ہوں وہ محض اس وحدت سیاسی کے لحاظ سے ایک قوم سمجھے جاتے ہیں۔ اس نوع کی قومیت کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ جو لوگ اس میں شریک ہوں ان کے جذبات و حسیات ان کے خیالات و نظریات ان کے اَخلاقی خصائص ان کی روایات ان کی زبان اور لٹریچر اور ان کے طرزِ زندگی میں کسی قسم کی یکسانی پائی جائے۔ ان تمام حیثیات سے بالکل مختلف ہونے کے باوجود ان کی ایک سیاسی قومیت ہوتی ہے اور اس وقت تک رہتی ہے جب تک کہ وہ ایک سیاسی نظام سے وابستہ رہیں۔ اگر ان کے مختلف گروہ آپس میں باہم متضاد ہوں اور وہ ایک دوسرے کے خلاف عملاً جدوجہد کر رہے ہوں تب بھی ان کی سیاسی قومیت ایک ہی رہتی ہے… قومیت کا لفظ ایسی وحدت کے لیے بولا ضرور جاتا ہے مگر ظاہر ہے کہ یہ وہ قومیت نہیں ہے جس کی بنیاد پر کہیں قوم پرستی پیدا ہوسکتی ہو۔
دوسری قسم کی قومیت وہ ہے جسے تہذیبی قومیت (Cultural Nationality) کہا جاتا ہے۔ یہ قومیت صرف ان لوگوں میں پائی جاتی ہے جن کا مذہب ایک ہو، جن کے خیالات و نظریات اور جذبات و حسیات یکساں ہوں جن میں ایک ہی طرح کے اَخلاقی اوصاف پائے جاتے ہوں، جو زندگی کے تمام اہم معاملات میں ایک مشترک زاویۂ نگاہ رکھتے ہوں اور اسی زاویۂ نگاہ کے اثر سے ان کی زندگی کے تہذیبی و تمدُّنی مظاہر میں بھی یک رنگی پیدا ہوگئی ہو، جو پسندیدگی اور حُرمت و حلت اور تقدیس و استکراہ کے مشترک معیار رکھتے ہوں جو ایک دوسرے کے احساسات کو سمجھتے ہوں جن میں آپس کی شادی بیاہ اور مشترک معاشرت کی وجہ سے خونی اور قلبی رشتے پیدا ہوگئے ہوں جنھیں ایک قسم کی تاریخی روایات حرکت میں لاسکتی ہوں، مختصر یہ کہ جو ذہنی، روحانی، اَخلاقی اور تمدُّنی و معاشرتی حیثیت سے ایک گروہ، ایک جماعت، ایک وحدت بن گئے ہوں… قوم پرستی اگر پیدا ہوسکتی ہے تو صرف اسی قومیت کی بنیاد پر ہوسکتی ہے جن لوگوں میں یہ قومیت پائی جاتی ہے۔ صرف انھی کے درمیان ایک مشترک نیشنل ٹائپ اور ایک مشترک نیشنل آئیڈیا کا نشوونما ہوتا ہے۔ اسی نیشنل ٹائپ کے عشق اور نیشنل آئیڈیا کے استحکام سے نیشنلزم کا آغاز ہوتا ہے۔ یہی چیز آگے بڑھ کر وہ قومی خودی (Nationalself) پیدا کردیتی ہے جس میں فرد اپنی انفرادی خودی کو جذب کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ پھر جب قومی خودی کے ارتقاء میں کوئی واقعی یا خیالی چیز مانع ہوتی ہے تو اس کو دفع کرنے کے لیے وہ جذبہ مشتعل ہوتا ہے جس کا نام نیشنلزم ہے۔