مسئلہ جبرو قدر
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
کتاب "مسئلہ جبرو قدر" مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی وہ علمی تصنیف ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید کے مطالعہ کے دوران پیش آنے والی ایک بنیادی پیچیدگی—یعنی انسانی ارادے اور اللہ کی مشیت کے درمیان ظاہری تناقض—کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ مسئلہ صرف فکری الجھن نہیں، بلکہ اخلاق، عدل، جزا و سزا، ذمہ داری، اور دینی نظامِ حیات کی بنیاد کو چیلنج کرتا ہے۔ مولانا مودودی کا مقصد صرف فلسفیانہ بحثوں میں الجھنا نہیں، بلکہ قرآن کی روشنی میں اس مسئلے کا عملی اور توازن پر مبنی حل پیش کرنا ہے، جو نہ تو مطلق جبر کی طرف جائے اور نہ مطلق قدر کی جانب۔
کتاب کا آغاز ایک خط سے ہوتا ہے جو 1933ء میں چودھری غلام احمد پرویز کی طرف سے موصول ہوا تھا، جس میں قرآن کی متضاد نظر آنے والی آیات کی وضاحت کی درخواست کی گئی تھی۔ کچھ آیات انسان کو اپنے اعمال کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں (جیسے: "فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ")، جبکہ دوسری آیات اس کے ارادے کو اللہ کی مشیت کے تابع بتاتی ہیں (جیسے: "وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ")۔ اس ظاہری تناقض کو سمجھنے کے لیے مولانا نے اس مسئلے کی حقیقت کو مختلف زاویوں سے جانچا۔
باب دوم میں مصنف مسئلہ جبر و قدر کی اصلیت کو واضح کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ انسان کا وجدانی تصور یہ ہے کہ وہ اپنے ارادی اعمال میں آزاد ہے، لیکن جب وہ غور و فکر کرتا ہے تو اسے اپنی محدودیت کا احساس ہوتا ہے۔ کتاب کا طریقِ استدلال یہ ہے کہ مسئلے کو باری باری چار مختلف زاویوں سے جانچا جائے: مابعد الطبیعی نقطۂ نظر سے فلسفے کی ناکامی، طبیعی نقطۂ نظر سے سائنس کی ناکامی، اور اخلاقی نقطۂ نظر سے اخلاقیات کی ناکامی کو دکھانے کے بعد، دینیاتی نقطۂ نظر کے تحت مسلمان متکلمین کے دو متضاد مکاتب—مذہبِ قدر اور مذہبِ جبر—کا تعارف اور دونوں کے قرآنی استدلال کا تجزیہ کیا گیا ہے، اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دونوں مکاتب اپنے اپنے انداز میں مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہے۔
آخری دو ابواب 'تحقیق مسئلہ' اور 'حقیقت کی پردہ کشائی' میں مولانا اپنا حل پیش کرتے ہیں: وہ واضح کرتے ہیں کہ قرآن کا اصل مقصد مابعد الطبیعی حقائق کی فلسفیانہ تفصیل بیان کرنا نہیں بلکہ عقیدۂ تقدیر کو انسان کی عملی اور اخلاقی زندگی کے لیے مفید بنانا ہے، اور مخلوقات میں انسان کی امتیازی حیثیت، ہدایت و ضلالت کے اختیار، اور عدل و جزا و سزا کے تصور کو ملحوظ رکھتے ہوئے جبر اور قدر کے درمیان ایک متوازن، عملی مؤقف اختیار کیا جا سکتا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
فلسفے کی ناکامی
لیکن اس بحث میں قدریت کی بہ نسبت جبریت کا پلڑا جھک جانے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ فلسفے نے اس گتھی کو سلجھا لیا اور مسئلہ جبر کے حق میں طے ہو گیا بلکہ اس سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان جب زیادہ گہری نگاہ سے ملکوت ارض و سمٰوٰت کو دیکھتا ہے اور اس مطالعے کی مدد سے اس زبردست نظام کے چلانے والے کی صفات کا تصور کرتا ہے تو اکثر و بیشتر اس کے دل و دماغ پر ایسی دہشت طاری ہو جاتی ہے کہ اس کی نگاہ میں خود اپنی ہستی کی کوئی منزلت باقی نہیں رہتی، اور اس کی مدہوش عقل اس سے کہتی ہے کہ جس کی قدرت اس لامحدود کائنات کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے، جس کا ارادہ اتنی عظیم الشان سلطنت پر فرماں روائی کر رہا ہے، جس کا علم اس نظام وجود کے چھوٹے اور بڑے سب کل پرزوں اور ان کی حرکات و سکنات پر ازل سے لے کر ابد تک حاوی ہے، اس کے سامنے تو بالکل عاجز ہے، بے بس ہے، درماندہ ہے، تیری قدرت، تیرا علم، تیرا ارادہ کوئی چیز نہیں۔
اس سے بڑھ کر اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ فلسفے نے قضا و قدر کے مسئلے کو سمجھ لیا ہے تو وہ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ قضا و قدر کا سوال حقیقت میں یہ سوال ہے کہ خداوند عالم کی سلطنت کا دستورِ اساسی کیا ہے؟ خدا کے علم اور اس کی معلومات، خدا کی قدرت اور اس کے مقدورات، خدا کے ارادے اور اس کے مرادات کے درمیان کس قسم کا علاقہ ہے؟ خدا کا حکم کیا معنی رکھتا ہے؟ کس طرح وہ اس کی مخلوقات میں نافذ ہوتا ہے؟ مخلوقات کے مختلف مراتب میں اس کے احکام کی تنفیذ کن ضوابط کے تحت ہوتی ہے؟ اور موجودات عالم کی بے شمار انواع میں سے ہر نوع کس حیثیت سے اس کی تابع فرمان ہے؟ اب اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے ان سوالات کو حل کر لیا ہے تو دوسرے الفاظ میں اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اس نے خدا اور اس کی پوری خدائی کو ناپ ڈالا ہے۔ یہ ان تمام باتوں سے زیادہ شنیع بات ہے جن کا الزام قدریہ اور جبریہ ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں اور اگر ان کا دعویٰ یہ نہیں ہے تو محض قیاس و استدلال کے بل بوتے پر وہ علم و یقین کے ایسے مرتبے تک کیوں کر پہنچ سکتے ہیں، جہاں قطعیت کے ساتھ جبر یا قدر کا حکم لگانا اُن کے لیے ممکن ہو؟
٭…٭…٭…٭…٭