معنیٰ خلافت
اشاعت: 1935ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
اس مضمون میں مولانا مودودی اس تعبیر کا رد کرتے ہیں جس میں "خلافت فی الارض" کا مطلب یہ لیا گیا تھا کہ انسان زمین پر اپنے سے پہلے بسنے والی کسی فرماں روا مخلوق کا جانشین یا بادشاہ بنایا گیا ہے۔
وہ قرآنی آیات کی روشنی میں واضح کرتے ہیں کہ خلافت کا لفظ محض جانشینی یا قائم مقامی کے معنی میں ہے، اور اس سے مراد دراصل "امانت" ہے جو انسان کو حق تعالیٰ کی طرف سے حاصل ہوئی ہے، یعنی اختیار اور ذمہ داری و جواب دہی کا وہ بار جسے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں نے اٹھانے سے انکار کیا تھا۔ اس طرح وہ خلافتِ الٰہی کا صحیح مفہوم اور اس کے اخلاقی و سیاسی تقاضے متعین کرتے ہیں۔
خلافت میں فرماں روائی کا مفہوم
اس لغوی تحقیق کے بعد میں آپ کو دعوت دوں گا کہ آپ خلافت کے اس مفہوم پر غور کیجیے جس کو خود آپ نے اور مولانا ...... نے مراد لیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ:”خلافت فی الارض سے مراد زمین کی سلطنت و حکومت کی جانشینی ہے۔“
مولانا...... << إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً >> (البقره 30:2) کا ترجمہ ”میں زمین میں ایک بادشاہ بنانے والا ہوں“ کرتے ہیں اور اس پر نوٹ لکھتے ہیں:”حضرت آدم اپنے سے پہلے ساکنان زمین کے بجائے بادشاہ بنائے گئے تھے“۔
غور فرمائیے کہ خلافت کے معنی تو محض جانشینی یا قائم مقامی یا بعد میں آنے کے ہیں۔ پھر اس میں بادشاہی اور فرمانروائی کا مفہوم کہاں سے آ گیا؟ اگر نفس خلافت اس مفہوم سے خالی ہے، اور یقیناً خالی ہے، تو اس میں یہ مفہوم اس اعتبار ہی سے آسکتا ہے کہ خلیفہ کو خلافت کسی فرمانروا اور کسی سلطان سے ملی ہو۔ پھر جب انسان کو وہ خلافت ملی جس میں خود آپ کے اعتراف کے مطابق سلطنت و فرمانروائی کی جھلک ہے تو لامحالہ یہ ماننا پڑے گا کہ انسان جس کا خلیفہ ہوا وہ کوئی فرمانروا تھا۔ اب فرمائیے کہ کیا قرآن سے یا علمی تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان سے پہلے زمین پر کوئی ایسی مخلوق تھی جس میں فرمانروائی کی شان تھی؟ فرمانروائی کے لیے علم، حکمت، اختیار، ارادہ، قدرت وغیرہ صفات کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ ان کے بغیر زمین اور اس کی موجودات پر فرمانروائی نہیں ہو سکتی۔ علمی تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ اس کرۂ خاکی پر انسان سے پہلے کوئی مخلوق ایسی موجود نہ تھی جو ان صفات سے متصف ہوتی۔ اسی کی تصدیق قرآن بھی کرتا ہے۔ وہ ہم کو بتاتا ہے کہ انسان سے پہلے خدا کی جو مخلوق سب سے افضل تھی یعنی ملائکہ جن کو (عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ) کہا گیا ہے، اس کا بھی یہ حال تھا کہ وہ علم اشیا سے بے خبر تھی << ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِيْ بِاَسْمَآءِ هٰٓؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ o قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَآ >> (البقرہ 32:2-31) اور ارادہ و اختیار کی آزادی سے بالکل محروم تھی۔ << لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ o >> (التحریم 6:66) دوسری مخلوق جنّ تھے، سو ان کے متعلق کوئی بات قرآن مجید نے ایسی بیان نہیں کی جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ان کو زمین کی فرمانروائی حاصل تھی۔ رہے حیوانات و نباتات و جمادات، تو ان کا حال آپ جانتے ہیں۔ پھر آخر وہ کون سی مخلوق تھی جس کی خلافت زمین کی فرمانروائی کے اعزاز کے ساتھ انسان کو حاصل ہوئی؟
تاہم اگر مان لیا جائے کہ یہ پرانے ساکنین ارض ہی کی خلافت ہے، اور وہ ساکنین ارض انسان سے پہلے زمین کے فرمانروا تھے، تو کیا وہ بالاصالت فرمانروا تھے، یا ان کی فرمانروائی بھی نائبانہ تھی؟ پہلی شق تو آپ اختیار نہیں کر سکتے، کیونکہ اسلامی عقیدے کی رُو سے بالاصالت اور بالذات فرمانروا صرف حق تعالیٰ ہے، اور اس کے سوا سب کی فرمانروائی محض عطائی ہے۔ اب رہی دوسری شق تو اس کو اختیار کرنے کی صورت میں یا تو آپ کو خلافت در خلافت کا ایک لامتناہی سلسلہ ماننا پڑے گا، یا پھر یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ فرمانروائی کی شان خواہ یکے بعد دیگر کتنے ہی خلفا کو ملی ہو، بہرحال اس کا سرچشمہ وہی ذاتِ حق تعالیٰ ہے، اور خلافت میں بادشاہی کی جھلک اُسی وقت آ سکتی ہے جبکہ وہ خلافتِ الٰہی ہو۔