مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

لباس کا مسئلہ

اشاعت: 1940ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اس مضمون میں مولانا مودودی لباس کے مسئلے پر پہلے خالص اجتماعی و فطری نقطۂ نظر سے اور پھر شریعتِ اسلامی کے نقطۂ نظر سے بحث کرتے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ اسلام کسی خاص لباس یا طرزِ زندگی کو لازم نہیں کرتا بلکہ فطری طور پر رائج طرزِ معاشرت کو تسلیم کرتے ہوئے چند بنیادی اخلاقی و اجتماعی اصول مقرر کرتا ہے، جن میں سب سے پہلا حدودِ ستر کا تعین ہے۔

اس کے بعد وہ "تشبّہ" کے مسئلے پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہیں اور اس کی چار ممکنہ صورتوں یعنی صنفی تشبّہ (مرد و عورت کا ایک دوسرے سے مشابہت اختیار کرنا)، قومی تشبّہ، اور انفرادی تشبّہ کی وضاحت کرتے ہوئے ہر ایک کے بارے میں اسلام کے موقف کو بیان کرتے ہیں۔

تشبّہ

اس مرحلے پر پہنچ کر ہمارے سامنے تشبّہ کا مسئلہ آ جاتا ہے۔ تشبّہ کے معنی ہیں کسی کے مشابہ بننا۔ اور اس معنی کے لحاظ سے تشبّہ کی چار صورتیں ممکن ہیں، جن میں سے ہر ایک کے متعلق اسلام کے رویے کی توضیح یہاں کی جاتی ہے:

(۱) صنفی تشبّہ : یعنی مرد کا عورت کے مانند بننا یا عورت کا مرد کے مانند بننا۔ یہ فعل چونکہ فطرت سے انحراف ہے، اور ایک بگڑی ہوئی ذہنیت کی علامت ہے، اس لیے اسلام اسے ملعون قرار دیتا ہے۔ آنحضرتؐ نے اُن مردوں پر جو زنانہ لباس پہنیں اور اُن عورتوں پر جو مردانہ لباس پہنیں، صاف الفاظ میں لعنت فرمائی ہے اور یقیناً ہر وہ شخص جس کا ذہن صحیح و سلیم ہوگا، اس معاملے میں وہی نقطۂ نظر اختیار کرے گا جو اللہ کے نبی کا نقطۂ نظر ہے۔ مرد میں زنانہ پن اور عورت میں مردانہ پن، خواہ کسی حیثیت سے بھی ہو، ایک نفرت انگیز چیز ہے جسے دیکھ کر طبیعت بے اختیار بغاوت کرتی ہے۔

(۲) قومی تشبّہ : یعنی ایک قوم کا بحیثیت مجموعی کسی دوسری قوم کی وضع اختیار کر لینا۔ یہ چیز بھی غیر طبعی اور غیر معقول ہے، اور ہمیشہ اُن حالات میں پیدا ہوتی ہے جب کسی قوم میں دنائت کی وبائے عام پھوٹ رہی ہو۔ لہٰذا اسلام اس کو بھی جائز نہیں رکھتا۔ صحابہ کرامؓ کے دَور میں قومی تشبّہ کی جس طرح روک تھام کی گئی تھی، اور مفتوح ممالک کے باشندوں کو عربیت اختیار کرنے سے جس سختی کے ساتھ منع کیا گیا تھا، اس سے صحیح اسلامی رُوح کا اظہار ہوتا ہے۔

(۳) انفرادی تشبّہ : یعنی کسی قوم کے بعض افراد کا کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرنا۔ یہ دراصل انفرادی سیرت کی کمزوری کا نشان ہے۔ جو افراد اس قسم کی رَوش اختیار کرتے ہیں، وہ دراصل اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ ان کے نفس میں تلون کی بیماری موجود ہے۔ ان کی سیرت میں پختگی اور استحکام نہیں ہے بلکہ وہ ایک سیّال مادّے کی طرح ہے جو ہر سانچے میں ڈھلنے پر آمادہ رہتا ہے۔ علاوہ ازیں اخلاقی حیثیت سے یہ ایک مکروہ فعل ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسے کوئی شخص اپنا نسب کسی دوسرے سے ملائے۔ جس طرح وہ قابلِ ملامت ہے، اس لیے کہ اپنی اس حرکت سے دراصل وہ ثابت کرتا ہے کہ اپنے حقیقی باپ کی اولاد ہونے کو وہ باعثِ ننگ سمجھ رہا ہے، اسی طرح وہ شخص بھی قابلِ ملامت ہے جو پیدا تو ایک قوم میں ہو، مگر عزت و افتخار حاصل کرنے کے لیے وضع دوسری قوم کی اختیار کرے، کیونکہ اس طرح وہ دراصل یہ ثابت کرتا ہے کہ جس قوم نے اسے جنم دیا ہے اس سے وابستہ ہونا اس کی نگاہ میں موجبِ عار ہے اور اس کے نزدیک عزت کی شکل صرف یہ ہے کہ اس کا شمار دوسری قوم میں ہو۔ تمدّنی حیثیت سے بھی یہ رویّہ سراسر غلط ہے، جو لوگ اسے اختیار کرتے ہیں، وہ چمگادڑ بن کر رہ جاتے ہیں۔ نہ اس قوم کے رہتے ہیں جس میں پیدا ہوئے ہیں، اور نہ اس قوم کے بن سکتے ہیں جس کے بننا چاہتے ہیں۔ <<لَآ اِلٰى هٰٓؤُلَآءِ وَلَآ اِلٰى هٰٓؤُلَآءِ ۛ>> (النساء 143:4) ان ہی وجوہ سے صحابہ کرامؓ اور خصوصاً حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ نے عرب کے اُن افراد کو زجر و توبیخ کی تھی جو بیرونی ممالک میں جا کر عرب کے بدوی لباس چھوڑ بیٹھے تھے اور روم و ایران کے شان دار تمدّن سے مرعوب ہو کر اُن کے لباس اختیار کر لیے تھے۔

(۴) تشبّہ بالکفار: یعنی کسی مسلمان کا غیر مسلم کے مشابہ بننا۔ یہ فعل مسلمانوں کی جماعتی وحدت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس کی وجہ سے مسلمان اور مسلمان کے درمیان اجنبیت پیدا ہوتی ہے اور ان کے باہمی تعلقات میں وہ تعاون و تناصر نہیں ہو سکتا جو اسلام چاہتا ہے کہ ہو۔ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ ایک شخص مسلمان ہونے کے باوجود غیر مسلمانوں کی طرف میلانِ طبع رکھتا ہے۔ اور سیاسی نقطۂ نظر سے بھی یہ حرکت مُضِر ہے کیونکہ اس میں یہ خطرہ ہے کہ جو شخص غیر مسلموں کے مانند بنا ہوا ہے، اُس کے ساتھ مسلمان ناواقفیت کی وجہ سے غیر مسلموں کا سا معاملہ کریں گے! ان وجوہ سے نبیؐ نے بار بار اس قسم کے تشبّہ کی ممانعت فرمائی ہے۔ <<خالفوا الیہود والنصاریٰ، خالفوا المجوس>>۔ یہ الفاظ متعدد احادیث میں ہم کو ملتے ہیں جن سے حضورؐ کا صاف منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان، مسلمان کو دیکھ کر پہچان سکے اور اس کے ساتھ مسلمان کا سا معاملہ کر سکے۔ آپ نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ جو مسلمان غیر مسلموں میں مخلوط ہو کر رہے گا، میں اس سے بری الذمہ ہوں، یعنی اگر کسی جنگ میں مسلمان اسے دشمن کا آدمی سمجھ کر قتل کر دیں تو اپنے خون کا وہ خود ذمہ دار ہوگا۔ <<من تشبہ بقوم فھو منھم>> کا منشاء بھی یہی تھا کہ جو شخص کسی قوم کے مشابہ بن کر رہے گا وہ لامحالہ اُسی کا فرد سمجھا جائے گا اور اس کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جائے گا جو اس قوم کے دوسرے افراد کے ساتھ کیا جاتا ہے۔[ اس مسئلے پر مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو ہماری کتاب ’’مسئلہ قومیت‘‘ ص ۹۶۔۱۰۱]

ترجمان القرآن

(ذی القعدہ ۱۳۵۸ھ بمطابق جنوری ۱۹۴۰ء)