مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

کیا خطبۂ غیر عربیہ واجب ہے؟

اشاعت: 1937ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

اس مضمون میں مولانا مودودی اس دلچسپ صورتِ حال کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایک طرف ایک جماعت غیر عربی خطبے کو مکروہ تحریمی (گناہ) ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری طرف ایک اور جماعت اسی چیز کو واجب قرار دینے پر تلی ہوئی ہے، حالانکہ دونوں فریقوں کے پاس اپنے موقف کا کوئی صریح شرعی ثبوت موجود نہیں۔

وہ یہ بنیادی اصول واضح کرتے ہیں کہ شریعت میں فرض، واجب، حرام یا ناجائز صرف وہی امور ہیں جنہیں خود شارع نے یہ حیثیت دی ہو، اور قیاس و استدلال سے اخذ کردہ نتائج کو فرض یا حرام کا درجہ دینا اور اس پر ثواب و عقاب کا حکم لگانا شرعاً درست نہیں، کیونکہ کسی کو حلال و حرام قرار دینے کا اختیار انسان کے پاس نہیں بلکہ صرف اللہ اور اس کے رسولؐ کے پاس ہے۔

کیا خطبۂ غیر عربیہ واجب ہے؟

یہ ایک دلچسپ صورتِ حال ہے۔ ایک جماعت عجمی زبان کے خطبے کو مکروہ تحریمی ثابت کر رہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کا فاعل گناہ گار ہو۔ دوسری جماعت اسی چیز کو واجب ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا تارک گناہ گار ہو۔ حالانکہ نہ ایک فریق کے پاس اس کی حرمت کا کوئی شرعی ثبوت ہے اور نہ دوسرے کے پاس اس کے وجوب کا۔ اس معاملے میں یہ بات ہر شخص کو بطور ایک اصول کے سمجھ لینی چاہیے کہ شریعت میں فرض و واجب ، یا حرام و ناجائز صرف وہی اُمور ہیں جن کو شارع نے خود یہ حیثیت دی ہو، اور جن کے بارے میں کتاب وسنت سے اس طرح کا کوئی حکم ثابت ہو۔ ایسے ہی اُمور کے فعل یا ترک پر گناہ کا حکم لگایا جاسکتا ہے۔ باقی رہے وہ اُمور جو ہم قیاس و استدلال کے ذریعے سے شارع کے قول یا عمل سے مستنبط کرتے ہیں، تو اُن کو فرض یا واجب قرار دینا، یا حرام یا ناجائز ٹھیرانا، اور ان کی بنا پر ثواب یا عقاب کا حکم لگانا اصلاً غلط ہے، اس لیے کہ انسان کو انسان پر کوئی چیز فرض و واجب کرنے یا حرام و ناجائز ٹھیرانے کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے، اور عذاب و ثواب خدا کے اختیار میں ہیں نہ کہ انسان کے اختیار میں۔ <<وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ اِنَّ الَّذِيْنَ يَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُوْنَ>> (النحل 116:16) ایک بڑے سے بڑا عالم اور امامِ جلیل القدر بھی زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہنے کا حق رکھتا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ میں کتاب اللہ وسنتِ رسول اللہؐ سے ایسا سمجھتا ہوں، میرے نزدیک فلاں بات کی جاسکتی ہے یا اس کا کرنا اولیٰ ہے، یا فلاں بات نہیں کی جاسکتی، یا اس کا کرنا درست نہیں۔ اگرچہ رائے کا اختلاف اس صورت میں بھی باقی رہتا ہے، اس لیے کہ ایک شخص کا فہم دوسرے شخص کے فہم سے بالکل مطابق نہیں ہوسکتا، لیکن یہ اختلاف احکامِ شریعت میں نہیں بلکہ انسانی اجتہاد میں ہوگا اور اس کی وجہ سے وہ فتنے نہ پیدا ہوسکیں گے جو اجتہادی اختلافات کی بنیاد پر فرض اور حرام کا فرق پیدا کرنے اور پھر ایک دوسرے کو گناہ گار اور گمراہ ٹھیرانے سے پیدا ہوتے ہیں۔

اس اصل کو اچھی طرح سمجھ لیجیے! اس کے بعد زبانِ خطبہ کے مسئلے پر غور کیجیے۔ شارع نے ایسی کوئی تصریح نہیں فرمائی ہے کہ خطبہ فلاں زبان میں دینا واجب ہے یا فلاں زبان میں دینا مکروہِ تحریمی ہے۔ اسی طرح شارع نے اُن مقاصد کی تفصیل بھی بیان نہیں کی ہے جن کے لیے خطبے کو نمازِ جمعہ کے ساتھ لازم کیا گیا ہے۔ اس باب میں جتنی مختلف باتیں مختلف خیالات کے اہل علم بیان کرتے ہیں، وہ شارع کے کسی صریح حکم پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ انھوں نے صاحبِ شریعت کے عمل کو دیکھ کر اپنی فہم کے مطابق مختلف امور اخذ کیے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ایک گروہ کا فہم صحیح ہو، ہوسکتا ہے کہ دوسرے گروہ کا فہم صحیح ہو۔ دونوں کو اپنے اپنے دلائل پیش کرنے کا حق ہے، لیکن کسی کو یہ حق نہیں کہ اپنے فہم سے جو حکم وہ نکال رہا ہے اسے واجب ٹھیرائے اور اس کے تارک کو گناہ گار قرار دے، یا اسے حرام ٹھیرائے اور اس کے فاعل کو مجرم ٹھیرائے۔ لوگوں کو پوری آزادی حاصل ہے کہ جس کے دلائل کو وہ زیادہ وزنی سمجھیں اور جس کی رائے پر ان کو اطمینان ہو جائے اس کا اتباع کرلیں۔ شارع کا تصریح نہ کرنا خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے لوگوں کو اس باب میں آزادی بخشی ہے۔ اگر اس میں لوگوں کے طریقے مختلف ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔ جس کا مسلک زیادہ قوی دلائل پر مبنی ہوگا، اور جس کی رائے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر کو زیادہ مطمئن کرنے والی ہوگی، اُسی کے اتباع پر بالآخر سوادِ اعظم مجتمع ہو جائے گا اور اختلافِ عمل کا دائرہ خود بخود گھٹتا چلا جائے گا۔

خطبہ غیر عربیہ کو واجب قرار دینے کے لیے جو طریق استدلال ہمارے مراسلہ نگار نے اختیار کیا ہے۔ وہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی یوں کہے کہ نماز کے مقاصد میں سے اہم ترین مقصد رجوع الی اللہ ہے، اور رجوع الی اللہ بغیر خشوع و خضوع کے ممکن نہیں۔ اور جس چیز پر فرض کے مقصد کا حصول موقوف ہو، وہ بھی فرض ہونی چاہیے، لہٰذا خشوع و خضوع نماز ہی کی طرح فرض ہے۔ یہ طرزِ استدلال ممکن ہے کہ منطق کی رُو سے درست ہو، مگر شرع کی رُو سے درست نہیں، اس لیے کہ یہ شخص اُمت پر ایسی چیز فرض کرتا ہے جسے خدا نے فرض نہیں کیا۔ شریعت میں صرف وہی چیز فرض یا حرام ہے جس کو خدا نے فرض یا حرام قرار دیا ہے۔ ہم کو منطقی استدلال سے فرائض اور حرمات کی فہرست میں اضافہ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ پچھلی اُمتوں نے یہی غلط طریقہ اختیار کر کے اپنے اوپر بہت سی چیزیں لازم کر لی تھیں جو خدا نے ان کے اوپر لازم نہیں کی تھیں، اور یہی وہ بوجھ اور پھندے تھے جن سے انسانیت کو آزاد کرنے کے لیے نبیؐ بھیجے گئے <<وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلَلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ>> الاعراف 157:7

پس زبان خطبہ کے متعلق جو رائے میں نے ظاہر کی ہے، اور اس کے خلاف جو رائے بعض علمائے کرام ظاہر فرماتے ہیں، ان میں سے کسی کو بھی یہ حیثیت حاصل نہیں ہے کہ لوگوں پر اس کا ماننا واجب ہو اور اس کی خلاف ورزی کرنے سے ان پر کوئی گناہ لازم آتا ہو۔ اگر کوئی شخص تحکم کے انداز میں اپنی رائے بیان کرتا ہے تو یہ اس کی غلطی ہے۔

میں نے زبان خطبہ کو بدلنے سے پہلے جن اُمور کی اصلاح کو ضروری قرار دیا ہے، ان پر صاحب مراسلہ نے پوری طرح غور نہیں فرمایا۔ اسی بنا پر وہ شبہات پیدا ہوئے جو انھوں نے بیان کیے ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ شرعی نظام کے درہم برہم ہو جانے کی وجہ سے اسلام کا کوئی حکم اپنی اصل پر باقی نہیں رہا ہے۔ جمعہ اور خطبہ ہمارے شرعی نظام کے اہم ترین اجزا میں سے تھے۔ ایک عظیم الشان اجتماعی مقصد تھا جس کی تحصیل کے لیے دوسرے اجزا کے ساتھ ان دونوں چیزوں کو بھی خاص حکیمانہ تناسب سے ایک نظام میں نصب کیا گیا تھا۔ اب وہ نظام ٹوٹ گیا، اجزا پراگندہ ہو گئے، ان کا باہمی ربط اور اجتماعی زندگی کے ساتھ ان سب کا مجموعی ربط ٹوٹ گیا، اور سرے سے وہ عظیم الشان مقصد ہی اب دلوں سے محو ہوتا جا رہا ہے جس کے لیے یہ تمام اجزا فراہم کیے گئے تھے۔ اس حالت کی صحیح اصلاح تو اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ وہ شرعی نظام پھر سے قائم کیا جائے اور اس کے بکھرے ہوئے اجزا کو پھر اسی طرح جمع کر کے ایک مشین کے پرزوں کی طرح نصب کر دیا جائے تاکہ اس کی حرکت کے ساتھ ساتھ وہ نتائج برآمد ہوتے چلے جائیں جو اس سے مطلوب ہیں۔ تاہم اگر یہ نہیں ہو سکتا تو کم از کم اتنا ہی ہو کہ مسلمانوں میں ایک رائے عام پیدا کر دی جائے، بڑے پیمانے پر نہیں تو چھوٹے پیمانے پر ہی ان کو اپنے اجتماعی کام ایک نظم کے ساتھ انجام دینے کی عادت ڈالی جائے اور رائے عام کی طاقت سے ان مضرتوں کا سد باب کیا جائے جو غیر ذمہ دار لوگوں کی منتشر حرکت سے پیدا ہوتی ہیں، لیکن اگر یہ بھی نہیں ہو سکتا تو پھر اصلاح کا نام نہ لیجیے، اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کو اسی طرح ہونے دیجیے۔ کیونکہ ہر شخص اپنے ذہن میں اصلاح کا جو مفہوم سمجھے بیٹھا ہے، اگر وہ اسی کے مطابق انفرادی طور پر عمل شروع کر دے تو بے شمار مصلحین، ایک دوسرے کے خلاف عمل کرنے والے پیدا ہو جائیں گے اور ان کی کارگزاریوں کا نتیجہ اصلاح کے بجائے مزید فساد ہوگا۔

نظام شرعی میں خطیب جمعہ کی حیثیت محض ایک واعظ کی نہیں بلکہ وہ ایک ذمہ دار شخص کی حیثیت رکھتا ہے جس پر اپنے حلقے کی جماعت مسلمین کی نگرانی کرنے اور ان کی اجتماعی زندگی کو مفاسد سے بچانے اور ان سب کو عام قومی پالیسی کے مطابق چلانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ذمہ داری بجائے خود ایک معلم ہے۔ جس شخص پر اس کا بار پڑتا ہے، وہ خود ذمہ داری سے ہی سیکھ لیتا ہے کہ اس سے کیوں کر عہدہ برآ ہو، بخلاف اس کے ایک غیر ذمہ دار شخص، جو نہ کسی نظامِ جماعت سے تعلق رکھتا ہو، نہ کسی کے سامنے جواب دہ ہو، نہ اس امر کا کوئی تصور رکھتا ہو کہ اس کا خطبہ جماعت کی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے بلکہ اثر انداز ہوتا بھی ہے یا نہیں، ایسا شخص خطبۂ جمعہ کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ جماعت کی فلاح و بہبود کن چیزوں کی مقتضی ہے؟ کون سے مفاسد ہیں جن کی اصلاح اس کو پہلے کرنی چاہیے؟ کن تعلیمات کی تلقین اور کن احکام کی تبلیغ مقدم ہے اور اس کام کو کس طرح انجام دیا جائے کہ فائدۂ مطلوب حاصل ہو؟ ہمارے جمعوں کے امام چونکہ کوئی ذمہ دارانہ حیثیت ہی نہیں رکھتے ، اس لیے درحقیقت وہ خطیب کے ان فرائض کو ادا کرنے کے نا قابل ہیں ۔ وہ اگر عالم بھی ہوں تو ان کی حیثیت ایک واعظ اور مبلغ کی رہے گی ۔ وہ محض اپنے شخصی اختیار تمیزی کی بنا پر تعلیم وتبلیغ کریں گے ۔ اور اس سے کوئی خاص اجتماعی فائدہ حاصل نہ ہوگا بلکہ اس کے برعکس ان کے غیر ذمہ دارانہ مواعظ سے یہ تھوڑی بہت اجتماعیت بھی ، جو اب حاصل ہوتی ہے ، پراگندہ ہو جائے گی ۔

اگر نظام شرعی کا احیا اس وقت ممکن نہیں ہے ، جیسا کہ بظاہر نظر آتا ہے ، تو آخری صورت وہی ہے جو میں نے بیان کی ہے ۔ اہل علم کی ایک جماعت جو کسی حد تک ذمہ دارانہ حیثیت رکھتی ہو ، خطباتِ جمعہ مرتب کرنے کے لیے مقرر ہونی چاہیے ، اور اس کو ایسے خطبات مرتب کرنے چاہئیں جن میں اصولِ اسلام کو غیر اختلافی طریقوں سے بیان کیا جائے ، مسلمانوں میں وحدتِ ملّی کا احساس پیدا کیا جائے ، ان کو عام اخلاقی مفاسد اور خلاف شریعت اعمال (جو متفق علیہ ہیں) پر متنبہ کیا جائے، اور ایسے احکام بیان کیے جائیں، جن سے مسلمانوں کے کسی فرقے کو بھی اختلاف نہیں ہے۔ اجتماع جمعہ کے مقاصد کی تحصیل کا کم سے کم ذریعہ یہی ہیں۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ مختلف فرقوں کے جمعے جو الگ الگ ہونے لگے ہیں، ان کو بند کیا جائے اور ایسی صورتیں پیدا کی جائیں کہ کم از کم جمعہ میں تمام یا اکثر فرقوں کے مسلمان ایک جگہ اکٹھے ہو جائیں۔ جمعوں کا الگ ہونا غایت درجہ نقصان دہ چیز ہے۔ اس کو مٹانے کی ضرورت ہے نہ یہ کہ ایسے اسباب پیدا کیے جائیں جن سے یہ بیماری اور زیادہ ترقی کرے۔ واعظوں کو اگر اپنے نقطۂ نظر کے مطابق وعظ کہنا ہے اور وہ اپنے مسلک کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں تو وہ مسجدوں سے باہر جہاں چاہیں لب کشائی کریں۔ مسجدیں جمع کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں، نہ کہ تفریق کرنے کے لیے۔ ان کو مساجد ضرار بنانا ایک بدترین فعل ہے، جسے کسی حال میں گوارا نہیں کیا جاسکتا۔

ترجمان القرآن

(جمادی الآخرہ ورجب ۱۳۵۶ھ ۔ اگست، ستمبر ۱۹۳۷ء)