اسلامی ریاست میں ذِمّیوں کے حقوق
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "اسلامی ریاست میں ذِمّیوں کے حقوق" ایک ایسی علمی و فقہی تحقیق پیش کرتی ہے جو جدید دور کے تناظر میں اسلامی نظامِ حکومت کے اندر غیر مسلموں کے حقوق کی نوعیت، حدود اور ضمانتوں کو واضح کرنے کا کام کرتی ہے۔ مصنف کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ اسلامی ریاست، جو ایک اصولی (Ideological) ریاست ہے، ذمیوں کو ایسے مستقل، شرعی اور غیر قابلِ تنسیخ حقوق عطا کرتی ہے جن کی جدید قومی جمہوری ریاستیں نظیر پیش نہیں کر سکتیں۔ موجودہ دور میں اسلام کو تنگ نظری یا اقلیتوں کے خلاف ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے، مگر مودودی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ثابت کرتے ہیں کہ اسلامی نظام ذمیوں کے حقوق کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ ان کی حفاظت کے لیے واضح اور پائیدار اصول قائم کرتا ہے۔
کتاب کا آغاز پہلے باب سے ہوتا ہے جس میں مصنف اسلامی ریاست اور جدید قومی ریاست کے درمیان بنیادی فرق کو واضح کرتے ہوئے پانچ اہم نکات پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، اسلامی ریاست باشندگان کو مسلم اور غیر مسلم کے لحاظ سے تقسیم کرتی ہے، جبکہ قومی ریاست اکثریت اور اقلیت کی بنیاد پر فرق قائم کرتی ہے۔ اسلامی نظام میں غیر مسلموں کو رہنما عہدوں پر نہیں رکھا جا سکتا، مگر انہیں انتظامی خدمات میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس، جدید جمہوریتیں کاغذی مساوات کے باوجود عملاً اقلیتوں کو اقتدار سے محروم رکھتی ہیں۔
اس کے بعد غیر مسلم رعایا کو دو قسموں—معاہدین اور مفتوحین—میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب کا مرکزی حصہ 'ذمیوں کے عام حقوق' ہے جو حفاظتِ جان، فوجداری و دیوانی قانون میں مساوی سلوک، تحفظِ عزت، مذہبی رسومات کی آزادی، عبادت گاہوں کے تحفظ، جزیہ و خراج کی وصولی میں رعایات اور فوجی خدمت سے استثنا جیسے حقوق کو فقہائے اسلام کے حوالوں سے تفصیل سے بیان کرتا ہے۔
آخری باب 'زائد حقوق جو غیر مسلموں کو دیے جا سکتے ہیں' ان اضافی حقوق پر بحث کرتا ہے جو اسلامی ریاست، اگرچہ لازم نہیں، پھر بھی غیر مسلموں کو دے سکتی ہے—جیسے مجلسِ شوریٰ میں نمائندگی و رائے دہی، تہذیبی خود اختیاری، آزادیِ تحریر و تقریر، تعلیم اور معاشی کاروبار کے مواقع۔ کتاب کے آخر میں شامل ضمیمے حقوقِ شہریت کے موضوع پر مزید تفصیلات فراہم کرتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
تہذیبی خود اختیاری:
اس کے ساتھ یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ غیر مسلم گروہوں کے لیے ایک الگ نمائندہ مجلس یا اسمبلی بنا دی جائے تاکہ وہ اپنی اجتماعی ضروریات بھی اس کے ذریعہ سے پوری کریں، اور ملکی انتظام کے معاملہ میں بھی اپنا نقطۂ نظر پیش کر سکیں۔اس مجلس کی رکنیت اور رائے دہی غیر مسلموں کے لیے مخصوص ہو گی، اور اس میں ان کو پوری آزادی دی جائے گی۔ اس مجلس کے ذریعہ سے:
۱۔ وہ اپنے شخصی معاملات کی حد تک قوانین تجویز کرنے اور سابق قوانین میں اصلاح و ترمیم کرنے کے مجاذ ہونگے، اور اس طرح کی تمام تجاویز رئیس حکومت کی منظوری سے قانون بن سکیں گی۔
۲۔ وہ حکومت کے نظم و نسق اور مجلسِ شوریٰ کے فیصلوں کے متعلق اپنی شکایات‘ اعتراضات‘ مشورے اور تجاویز پوری آزادی کے ساتھ پیش کر سکیں گے اور حکومت انصاف کے ساتھ ان پر غور کرے گی۔
۳۔ وہ اپنے گروہ کے معاملات اورعام ملکی معاملات کے متعلق سوالات بھی کر سکیں گے‘ اور حکومت کا ایک نمائندہ ان کے جوابات دینے کے لیے موجود رہے گا۔