مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی نظام تعلیم

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "اسلامی نظام تعلیم" ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جو موجودہ دور کے مسلمانوں کے تعلیمی بحران کو سمجھنے اور اس کا اسلامی حل پیش کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مصنف کا بنیادی موقف یہ ہے کہ آج مسلم قوم دو الگ الگ اور متضاد تعلیمی نظاموں—قدیم مذہبی اور جدید سیکولر—کے درمیان تقسیم ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے نہ تو وہ دین کی صحیح نمائندگی کر سکتی ہے اور نہ ہی دنیاوی زندگی کے چیلنجز کا مؤثر جواب دے سکتی ہے۔ دونوں نظام اپنی ذاتی کمزوریوں کی بنا پر ناکام ثابت ہوئے ہیں، اور اب وقت کی اہم ترین ضرورت یہ ہے کہ ان دونوں کو ختم کر کے ایک واحد، مربوط اور اسلامی نظریۂ حیات پر مبنی تعلیمی نظام تشکیل دیا جائے جو دین و دنیا کی مصنوعی تقسیم کو ختم کر دے۔

کتاب کا پہلا باب "اسلامی نظام تعلیم" اسی تنقیدی جائزے سے آغاز ہوتا ہے۔ مودودی واضح کرتے ہیں کہ موجودہ مدارس کا نظام دراصل قدیم مسلم حکومتوں کی سول سروس کے لیے بنایا گیا تھا، نہ کہ دینی تعلیم کے لیے۔ انگریزی دور میں اس کی عملی افادیت ختم ہو گئی، مگر قومی میراث کے تحفظ کی خاطر اسے برقرار رکھا گیا۔ آج کے مدارس میں نہ قرآن و حدیث کی صحیح تعلیم ہے، نہ تحقیقی مطالعہ کا کوئی انتظام، بلکہ فقہی اور اعتقادی اختلافات پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے علماء نہ تو اسلام کی صحیح نمائندگی کر سکتے ہیں اور نہ ہی قومی مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

عورتوں کی تعلیم

جہاں تک عورتوں کی تعلیم کا تعلق ہے یہ اسی قدر ضروری ہے جتنی مردوں کی تعلیم۔ کوئی قوم اپنی عورتوں کو جاہل اور پسماندہ رکھ کر دنیا میں آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اس لیے ہمیں عورتوں کی تعلیم کے لیے بھی اسی طرح بہتر سے بہتر انتظام کرنا ہے جیسا کہ مردوں کی تعلیم کے لیے۔ یہاں تک کہ ہمیں ان کی فوجی تربیّت کا بھی بندوبست کرنا ہے کیونکہ ہمارا سابقہ ایسی ظالم قوموں سے ہے جنہیں انسانیّت کی کسی حد کو بھی پھاندنے میں تامّل نہیں ہے۔ کل اگر خدانخواستہ کوئی جنگ پیش آ جائے تو نہ معلوم کیا کیا بربریّت ان سے صادر ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی عورتوں کو مدافعت کے لیے بھی تیار کریں۔ لیکن ہم اوّل وآخر مسلمان ہیں اور( ہمیں جو) کچھ کرنا ہے ان اخلاقی قیود اور تہذیبی حدود کے اندر رہتے ہوئے کرنا ہے جن پر ہم ایمان رکھتے ہیں اور جن کی علمبرداری پر ہم مامور ہیں۔ہمیں اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری تہذیب مغربی تہذیب سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ دونوں میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ مغربی تہذیب عورت کو اس وقت تک کوئی عزت اور کسی قسم کے حقوق نہیں دیتی جب تک کہ وہ ایک مصنوعی مرد بن کر مردوں کی ذمہ داریاں بھی اٹھانے کے لیے تیار نہ ہو جائے۔ مگر ہماری تہذیب عورت کو ساری عزتیں اورتمام حقوق اسے عورت رکھ کر ہی دیتی ہے اور تمدن کی انہی ذمّہ داریوں کا بار اس پر ڈالتی ہے جو فطرت نے اس کے سپرد کی ہیں۔ اس لیے ہمارے ہاں عورتوں کی تعلیم کا انتظام ان کے فطری وظائف وضروریات کے مطابق اور مردوں سے بالکل الگ ہونا چاہیے۔ یہاں اوپر سے لے کر نیچے تک کسی سطح پر بھی مخلوط تعلیم کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔جہاں تک عورتوں کی تعلیم کے سلسلے میں عملی تدابیر واصلاحات کا تعلق ہے جو اصلاحات اوپر پرائمری سے اختصاصی درجوں تک بیان کی گئی ہیں، وہ عورتوں کی تعلیم میں بھی اسی طرح سے شامل ہونی چاہئیں جیسی کہ مردوں کی تعلیم میں۔ اس کے علاوہ عورتوں کی تعلیم میں اس بات کو بھی خاص طور پر ملحوظ رکھنا چاہیے کہ ان کی اصل اور فطری ذمہ داری زراعتی فارم اورکارخانے اور دفاتر چلانے کے بجائے گھر چلانے اور انسان سازی کی ہے۔ ہمارے نظام تعلیم کو ان کے اندر ایک ایسی مسلمان قوم وجود میں لانے کی قابلیّت پیدا کرنی چاہیے جو دنیا کے سامنے اس فطری نظامِ زندگی کا عملی مظاہرہ کر سکے جو خود خالقِ کائنات نے بنی نوعِ انسان کے لیے مقرر فرمایا ہے۔