مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی نظمِ معیشت کے اُصول اور مقاصد

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ کتابچہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی ایک تقریر پر مبنی ہے، جس میں وہ ایک جامع اور منظم انداز میں بتاتے ہیں کہ اسلام معاشی نظام کو کس معنی میں تجویز کرتا ہے، اس نظام کے بنیادی مقاصد کیا ہیں، اور اس کے اصول و ضوابط کون سے ہیں۔ مقدماتی طور پر مودودی چار بنیادی سوالات فِرماتے ہیں: کیا اسلام نے کوئی معاشی نظام تجویز کیا ہے اور اس کا خاکہ کیا ہے؟ اس خاکے میں زمین، محنت، سرمایہ اور تنظیم کا کیا مقام ہے؟ کیا زکوٰۃ اور صدقے کو معاشی بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؟ اور کیا بلا سود معاشی نظام رائج کیا جا سکتا ہے؟ نیز وہ معاشی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی نظام کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ان سوالات کو جواب دینے کی فرمائش اُن کے خطاب کا محرکِ بحث ہے۔

۱) فرضی نکتۂ نظر و مقصدِ بیان مودودی کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ اسلام نے معاشی زندگی کے لیے مکمل تفصیلی ضابطہ نہیں ٹھونس دیا بلکہ ایسے بنیادی اصول اور حدود اربعہ مقرر کیے ہیں جن کے اندر ہر دور کے لوگ اپنی ضرورت اور حالات کے مطابق تفصیلی نظام وضع کر سکتے ہیں۔ اس بیان کا مقصد قُرآن و سنت کی رہنمائی کو اصولی اور عملی دائرہ میں واضح کرنا ہے تاکہ جدید مسائل کا حل اسلامی روح کے مطابق نکالا جا سکے۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان اصولوں کو سمجھنے سے قبل ان مقاصد کو اچھی طرح سمجھ لینا ضروری ہے جن کی خاطر اسلام نے اپنی معاشی تعلیمات وضع کیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: دیگر

اسلامی نظامِ معیشت کی خصوصیات

یہ ہیں وہ اصول اور حدود جو اسلام نے ہماری معاشی زندگی کے لیے مقرر کر دیئے ہیں۔ ان حدود کے اندر آپ اپنا جو معاشی نظام بھی بنانا چاہیں بنالیں۔ تفصیلات طے کرنا ہر زمانے میں اپنی ضرورت کے مطابق ہمارا اپنا کام ہے ۔ ہمیں جس چیز کی پابندی کرنی ہوگی وہ یہ ہے کہ ہم نہ تو نظامِ سرمایہ داری کی طرح بے قید معیشت کی راہ اختیار کرسکتے ہیں اور نہ اشتراکیت کی طرح پورے وسائلِ معیشت کو اجتماعی کنٹرول میں لے سکتے ہیں ۔ ہمیں ایک پابندِ حدود آزاد معیشت کا نظام بنانا ہوگا جس میں انسان کے اخلاقی ارتقاء کا راستہ کھلا رہے۔ جس میں آدمی کو اجتماعی فلاح کی خدمت کے لیے ازروئے قانون مجبور کرنے کی کم سے کم ضرورت پیش آئے۔ جس میں غلط طریقوں سے غیر فطری طبقات نہ پیدا کیے جائیں اور فطری طبقات کے درمیان نزاع کے بجائے تعاون پیدا کیا جائے۔ اس معاشی نظام میں دولت کمانے کے وہ تمام ذرائع حرام رہیں گے جن کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔ کمائی کے وہ تمام ذرائع جائز رہیں گے جنھیں اسلام جائز رکھتا ہے ۔ جائز طریقوں سے حاصل کی ہوئی دولت پر ملکیت اور تصرف کے وہ تمام حقوق تسلیم کیے جائیں گے جو اسلام نے دیے ہیں۔ زکوٰۃ لازماً عائد کی جائے گی اور ان تمام لوگوں کو اسے ادا کرنا ہوگا جو بقدر نصاب دولت رکھتے ہوں۔ میراث قانونِ میراث کے مطابق تقسیم ہوگی اور ان حدود کے اندر افراد کو معاشی سعی و عمل کی پوری آزادی دی جائے گی۔ کوئی ایسا نظام نہیں بنایا جائے گا جو افراد کو کس کر رکھ دے اور ان کی انفرادی آزادی کو ختم کر دے۔ اس آزادانہ سعی و عمل میں اگر لوگ خود انصاف اور راست بازی پر قائم رہیں تو قانون خواہ مخواہ مداخلت نہ کرے گا۔ لیکن اگر وہ انصاف نہ کریں، یا جائز حدود سے تجاوز کرنے لگیں، یا بے جا نوعیت کی اجارہ داریاں قائم کرنے کی کوشش کریں تو قانون ان کی بنیادی آزادی کو سلب کرنے کے لیے نہیں بلکہ انہیں انصاف پر قائم رکھنے اور حدود سے تجاوز کو روکنے کے لیے یقیناً مداخلت کرے گا۔