اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ ۱۹۴۰ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اسٹریچی ہال میں انجمن اسلامی تاریخ و تمدن کی دعوت پر دیا گیا ایک علمی خطاب ہے جس میں مولانا مودودی اس سوال پر بحث کرتے ہیں کہ اسلامی حکومت کس طبعی عمل کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے۔
مقالے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کوئی بھی نظامِ حکومت مصنوعی طور پر نہیں بنتا بلکہ کسی سوسائٹی کے اخلاقی، نفسیاتی اور تاریخی اسباب کے طبعی ارتقا سے پیدا ہوتا ہے، اس لیے جو تحریک، قیادت اور اجتماعی اخلاق اسلامی حکومت کے مناسبِ حال ہوں وہی اسے جنم دے سکتے ہیں۔ آگے چل کر وہ اسلامی حکومت کی امتیازی خصوصیت واضح کرتے ہیں کہ یہ ایک خالص اصولی (نظریاتی) ریاست ہے جس میں قومیت کا کوئی عنصر شامل نہیں، بخلاف نسلی و قومی حکومتوں کے، اور اس ضمن میں خلافتِ الٰہیہ کے تصور پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے؟
[یہ مقالہ ۱۲۔ ستمبر ۱۹۴۰ء کو انجمن اسلامی تاریخ و تمدن کی دعوت پر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں بمقام اسٹریچی ہال پڑھا گیا]
حضرات!
اس مقالہ میں مجھے آپ کے سامنے اس عمل (process) کی تشریح کرنی ہے جس سے ایک طبعی نتیجہ کے طور پر اسلامی حکومت وجود میں آتی ہے۔ آج کل میں دیکھ رہا ہوں کہ اسلامی حکومت کا نام بازیچۂ اطفال بنا ہوا ہے۔
مختلف حلقوں سے اس تصور اور اس مقصد کا اظہار ہو رہا ہے۔ مگر ایسے ایسے عجیب راستے اس منزل تک پہنچنے کے لیے تجویز کیے جارہے ہیں جن سے وہاں تک پہنچنا اتنا ہی محال ہے جتنا موٹر کار کے ذریعے امریکا تک پہنچنا۔ اس خام خیالی (loose thinking) کی تمام تروجہ یہ ہے کہ بعض سیاسی و تاریخی اسباب سے کسی ایسی چیز کی خواہش تو پیدا ہوگئی ہے جس کا نام ’’اسلامی حکومت‘‘ ہو مگر خالص علمی (scientific)طریقہ پر نہ تو یہ سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس حکومت کی نوعیت کیا ہے اور نہ یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ کیوں کر قائم ہوا کرتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ علمی طریقہ پر اس مسئلہ کی پوری تحقیق کی جائے۔