مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی دستور کی تدوین

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "اسلامی دستور کی تدوین" ایک ایسی علمی و عملی رہنمائی پیش کرتی ہے جو پاکستان کی تشکیل کے بعد اسلامی ریاست کے قیام کے حوالے سے پیدا ہونے والے بنیادی سوالات کا جواب دیتی ہے۔ یہ کتاب دراصل 24 نومبر 1952ء کو کراچی بار ایسوسی ایشن کے اجلاس میں دی گئی مولانا کی تقریر پر مبنی ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی دستور کی تدوین کا مطلب صرف کسی لکھی ہوئی دستاویز کو نافذ کرنا نہیں، بلکہ اسلام کے غیر تحریری دستور کو ملک کے حالات کے مطابق ایک منظم تحریری دستور میں ڈھالنا ہے۔ اس کتاب کا مرکزی مقصد یہ بتانا ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت کی بنیاد اللہ کی حاکمیّت پر ہے، اور اس کے تحت ریاست، شہری، اور حکمرانوں کے حقوق و فرائض کیسے متعین ہوتے ہیں۔

پہلے باب میں مصنف اسلامی دستور کی تدوین کے تصور کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام کا دستور کسی ایک جگہ لکھا ہوا نہیں، بلکہ اس کے چار بنیادی مآخذ ہیں: قرآن مجید، سنتِ رسول ﷺ، خلافت راشدہ کا تعامل، اور مجتہدینِ امت کے فیصلے۔ یہ تمام ذرائع مل کر ایک غیر تحریری دستور تشکیل دیتے ہیں، جسے جدید دور کی ضروریات کے مطابق ایک تحریری دستور کی شکل دینا ہماری ذمہ داری ہے۔ مصنف برطانوی دستور کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ بھی کسی ایک دستاویز پر مبنی نہیں، بلکہ مختلف روایات، عرفی قوانین اور عدالتی فیصلوں کا مجموعہ ہے۔

دوسرا باب 'مشکلات' چار رکاوٹوں کی نشان دہی کرتا ہے جو اسلامی دستور کی تدوین میں حائل ہیں: فقہی اصطلاحات کی اجنبیت، قدیم فقہی لٹریچر کی نامانوس ترتیب، نظامِ تعلیم کا نقص، اور بلا علم اجتہاد کے دعوے۔ اس کے بعد کتاب کا سب سے طویل حصہ 'دستور کے بنیادی مسائل' حاکمیت کس کی ہے، ریاست کے حدودِ عمل، مجالسِ قانون ساز، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات، حکومت کی تشکیل کا طریقہ، اولی الامر کے اوصاف اور حقوقِ شہریت جیسے سوالات کو تفصیل سے حل کرتا ہے، جس کے آخر میں قارئین کے سوالات و جوابات بھی شامل ہیں۔

کتاب کے آخر میں ایک ضمیمہ 'مجالسِ قانون ساز میں عورتوں کی شرکت کا مسئلہ' کے عنوان سے شامل ہے جو اسلامی دستور کے تحت خواتین کی سیاسی شرکت کی نوعیت اور حدود پر مستقل بحث کرتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

انتظامیہ کے حدودِ عمل

اب انتظامیہ کو لیجیے۔ ایک اسلامی ریاست میں انتظامیہ (Executive) کا اصل کام احکامِ الٰہی کو نافذ کرنا اور ان کے نفاذ کے لیے ملک اور معاشرے میں مناسب حالات پیدا کرنا ہے۔ یہی امتیازی خصوصیّت اس کو ایک غیر مسلم ریاست کی انتظامیہ سے ممیز کرتی ہے، ورنہ ایک کافر حکومت اور مسلم حکومت میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ انتظامیہ وہی چیز ہے جس کے لیے قرآن میں ’’اولی الامر‘‘ اورحدیث میں امرا کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں،اور قرآن وحدیث دونوں میں ان کے لیے سمع وطاعت (Obedience) کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ وہ احکامِ خدا اور رسولؐ کے تابع رہیں، ان سے آزاد ہو کر معصیّت اور بدعت اور احداث فی الدین کی راہ پر نہ چل پڑیں۔ قرآن اس باب میں صاف کہتا ہے کہ:

<<وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَنْ ذِکرِنَا وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ وَکَانَ اَمْرُہٗ فُرُطًا۔>> (الکہف:۲۸)

اور کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہو اور اس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کر لی ہو۔ اور جس کا امر حدود آشنا نہ ہو

<<وَلَا تُطِیْعُوْا اَمْرَالمُسْرِفِیْنَ الَّذِیْنَ یُفْسِدُوْنَ فِی الاَرْضِ وَلَا یُصْلِحُوْنَ۔ >> (الشعراء: ۱۵۲)

اور ان سے گزر جانے والوں کے امر کی اطاعت نہ کرو جو زمین میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔

اورنبیﷺ اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ اس معاملے کو یوں بیان فرماتے ہیں:

<<اِنْ اُمِّرَ علیکم عبدٌ مجدّع یقودکم بکتاب اللّٰہ فاسمعوا واطیعوا۔>> (مسلم)

اگر تم پر کوئی نکٹا غلام بھی امیر بنا دیا جائے جو کتاب اللہ کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو اس کی سنو اور اطاعت کرو۔

<<السمع والطاعۃ علی المرء المسلم فی ما احب وکرہ مالم امر بمعصیۃ فازا امربمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ>> (متفق علیہ)

ایک مرد مسلمان پر سمع وطاعت لازم ہے خواہ برضا ورغبت، خواہ بکراہت، تاوقتیکہ اس کو معصیّت کا حکم نہ دیا جائے، پھر اگرمعصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سمع ہے نہ طاعت۔

<<لاطاعۃ فی معصیۃانما الطاعۃ فی المعروف ۔>> (متفق علیہ)

معصیّت میں کوئی اطاعت نہیں ہے۔ طاعت صرف معروف میں ہے۔

<<من احدث فی امرنا ھٰذا مالیس منہ فھو رد۔>> (متفق علیہ)

جس نے ہمارے اس کام (یعنی اسلامی نظامِ زندگی) میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس کے مزاج سے بیگانہ ہو تو وہ مردُود ہے۔

<<من وقر صاحب بدعۃ فقد اعان علی ھدم الاسلام۔>> (البیہقی فی شعب الایمان)

جس نے کسی صاحبِ بدعت (یعنی اسلامی زندگی میں غیر اسلامی طریقے رائج کرنے والے) کی توقیر کی اس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی۔

ان توضیحات کے بعد ا س معاملے میں کوئی اشتباہ باقی نہیں رہ جاتا کہ اسلام میں انتظامی حکومت اور اس کے نظم و نسق کے لیے کیا حدودِ عمل مقرر کیے گئے ہیں۔