مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تصنیف ’’اسلامی عبادات پر تحقیقی نظر‘‘ ایک ایسی علمی و فکری کوشش ہے جو صرف عبادات کی ظاہری شکل کی وضاحت تک محدود نہ رہتے ہوئے، ان کے پیچھے چھپے ہوئے فکری، روحانی اور وجودی حقائق کو اُجاگر کرنے کا مقصد رکھتی ہے۔ مولانا واضح الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اس موضوع پر پہلے بھی خطبات دیے تھے، مگر وہ عام لوگوں کے لیے تھے، جن کی فکری استعداد ان گہرائیوں تک پہنچنے کے قابل نہ تھی؛ اس لیے وہاں انہیں اپنی گفتگو کو سادہ اور عمومی حد تک محدود رکھنا پڑا تھا۔ تاہم، بعد میں انہوں نے محسوس کیا کہ تعلیم یافتہ، صاحبِ فکر اور بصیرت افراد کے لیے اسی موضوع پر ایک مستقل، تحقیقی اور تعمق آمیز مقالہ ضروری ہے، تاکہ عبادات کے پیچھے موجود وہ حقائق جو اسلام کے نظامِ حیات کی بنیاد ہیں، ان کے سامنے واضح ہو سکیں۔

اس کتاب کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اسلام میں عبادت محض کچھ وقت مخصوص مراسم ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ پوری زندگی کا وہ جامع نظام ہے جو اللہ کی حاکمیت، اطاعت اور اس کے قوانین کی پیروی پر مبنی ہے۔ مولانا اس بات کو واضح کرتے ہوئے عبادت کے دو غلط تصورات کی نشاندہی کرتے ہیں: ایک جاہلیت کا تصور جس میں عبادت کو محض پوجا اور خوشامد سمجھا جاتا ہے، اور دوسرا وہ تصور جس میں عبادت کو دنیا سے الگ ہو کر ریاضت اور نفس کشی کا نام دیا جاتا ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: دیگر

دیباچۂ طبع اوّل

جس موضوع پر اس رسالہ میں بحث کی گئی ہے، اس پر اس سے پہلے مَیں اپنے ’’خطبات‘‘ میں روشنی ڈال چکا ہوں، لیکن وہاں میرے مخاطب عوام تھے جو زیادہ گہرے معانی کا ادراک نہیں کرسکتے، اس لیے مجھے بہت سادہ مطالب تک گفتگو محدود رکھنا پڑتی تھی۔ اس کے بعد میں نے ضرورت محسوس کی کہ تعلیم یافتہ اور صاحب فکر و نظر اصحاب کے لیے اسی موضوع پر ایک مستقل مقالہ لکھوں تاکہ عبادات کی نسبت زیادہ عمیق معانی ان کے سامنے پیش کیے جائیں۔ اگرچہ ابھی اس میں بہت کچھ اضافہ کی گنجائش ہے اور تمام ان حقیقتوں کا اس میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے جو عبادات میں پوشیدہ ہیں لیکن مجھے اُمید ہے کہ جو کچھ اس میں عرض کیا گیا ہے وہ اکثر اہل علم کے عقلی اطمینان کے لیے کافی ہوگا۔سرِدست صرف نماز روزہ کے متعلق میرے دومقالے شائع کیے جارہے ہیں۔ ابھی زکوٰۃ اور حج پر گفتگو باقی ہے، لیکن اس کے لیے فرصت کا انتظار ہے اور احباب کا تقاضا ہے کہ جو کچھ لکھا جاچکا ہے اسے، جو کچھ لکھا جانا ہے اس کے انتظار میں روک نہ رکھا جائے اس لیے یہ صفحات اس رسالے کے حصہ اول کی حیثیت سے نذر ناظرین ہیں۔

ابوالاعلیٰ مودُودی