اسلام کا نظام حیات
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "اسلام کا نظام حیات" ایک جامع اور منظم تشریح پیش کرتی ہے کہ اسلام صرف عبادات تک محدود ایک مذہب نہیں، بلکہ زندگی کے تمام شعبوں کو اپنے دائرۂ عمل میں لینے والا ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام کا ہر پہلو—اخلاق، سیاست، معاشرت، معیشت اور روحانیت—ایک ہم آہنگ، منطقی اور الٰہی بنیاد پر قائم ہے، جس کا مرکزی محور 'توحید' اور 'رضائے الٰہی' ہے۔ مصنف کا موقف یہ ہے کہ جدید دور میں اسلام کو صرف روحانی یا عبادتی نظام سمجھنا ایک غلط فہمی ہے؛ بلکہ اسلام انسانی زندگی کا وہ واحد نظام ہے جو خدا کی ذات، انسان کی فطرت اور کائنات کے مقصد کے صحیح تصور پر مبنی ہے۔
کتاب کا پہلا باب "اسلام کا اخلاقی نظام" اس حقیقت سے آغاز ہوتا ہے کہ انسانی فطرت میں نیکی اور برائی کا شعور فطری طور پر موجود ہے، جسے قرآن مجید 'معروف' اور 'منکر' کے الفاظ سے بیان کرتا ہے۔ مولانا مودودی استدلال کرتے ہیں کہ اگرچہ اخلاقی معیارات کا بنیادی ڈھانچہ عالمی سطح پر مشترک ہے، لیکن مختلف اخلاقی نظاموں کا وجود دراصل کائنات اور زندگی کے مقصد کے مختلف تصورات کی وجہ سے ہے۔ اسلام کا نظریۂ زندگی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد خالق و مالک ہے، انسان اس کا بندہ ہے، اور دنیا ایک امتحان ہے جس میں ہر عمل کا ریکارڈ رکھا جا رہا ہے۔ اس لیے اسلام میں اخلاق کا معیار 'رضائے الٰہی' ہے، جو اخلاقی اقدار کو مستقل، متوازن اور اغراض سے پاک بناتا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اِسلام کا نظریۂ زندگی و اخلاق
اِسلام کا جواب یہ ہے کہ اس کائنات کا خدا ہے اور وہ ایک ہی خدا ہے۔ اُسی نے اسے پیدا کیا ہے، وہی اس کا لاشریک مالک، حاکم اور پروردگار ہے اور اسی کی اطاعت پر یہ سارا نظام چل رہا ہے۔ وہ حکیم ہے، قادرِ مطلق ہے، کھلے اور چھپے کا جاننے والا ہے، سبوح و قدوس ہے (یعنی عیب، خطا، کم زوری اور نقص سے پاک ہے) اور اس کی خدائی ایسے طریقے پر قائم ہے۔ جس میں لاگ لپیٹ اور ٹیڑھ نہیں ہے۔ انسان اس کا پیدائشی بندہ ہے اس کا کام یہی ہے کہ اپنے خالق کی بندگی و اطاعت کرے۔ اس کی زندگی کے لیے کوئی صورت بجز اس کے صحیح نہیں ہے کہ وہ سراسر خدا کی بندگی ہو۔ اس بندگی کا طریقہ تجویز کرنا انسان کا اپنا کام نہیں ہے۔ بلکہ یہ اس خدا کا کام ہے جس کا وہ بندہ ہے۔ خدا نے اس کی راہ نُمائی کے لیے پیغمبر بھیجے ہیں اور کتابیں نازل کی ہیں۔ انسان کا فرض ہے کہ اپنی زندگی کا نظام اسی سرچشمہ ہدایت سے اخذ کرے۔ انسان اپنی زندگی کے پورے کارنامے کے لیے خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ اور یہ جواب دہی اسے اس دُنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں کرنی ہے۔ دُنیا کی موجودہ زندگی دراصل امتحان کی مہلت ہے اور یہاں انسان کی تمام سعی و کوشش اس مقصد پر مرکوز ہونی چاہیے کہ وہ آخرت کی جواب دہی میں اپنے خدا کے حضور کام یاب ہو۔ اس امتحان میں انسان اپنے پورے وجود کے ساتھ شریک ہے۔ اس کی تمام قوتوں اور قابلیتوں کا امتحان ہے۔ زندگی کے ہر پہلو کا امتحان ہے، پوری کائنات میں جس جس چیز سے جیسا کچھ بھی اسے سابقہ پیش آتا ہے اس کی بے لاگ جانچ ہونی ہے کہ انسان نے اس کے ساتھ کیسا معاملہ کیا اور یہ جانچ وہ ہستی کرنے والی ہے جس نے زمین کے ذروں پر، ہوا پر اور پانی پر، کائناتی لہروں پر اور خود انسان کے اپنے دل و دماغ اور دست و پا پر اس کی حرکات و سکنات ہی کا نہیں‘ اس کے خیالات اور ارادوں تک کا ٹھیک ٹھیک ریکارڈ کر رکھا ہے۔