اسلام کا نظریۂ سیاسی
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "اسلام کا نظریۂ سیاسی" ایک ایسی علمی تصنیف ہے جو اسلامی نظامِ حکومت کے بارے میں پھیلے ہوئے غلط فہمیوں، جذباتی رجحانات اور دنیاوی مقبولیت کے شکار خیالات کو دور کرتے ہوئے، اس کے اصل نظریاتی بنیادوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کرتی ہے۔ مصنف کا مرکزی مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام محض عبادات تک محدود ایک مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جس کا سیاسی پہلو بھی اس کے دیگر پہلوؤں کی طرح واضح، منظم اور الٰہی اصولوں پر مبنی ہے۔
کتاب کا آغاز اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ اسلام کے سیاسی نظریہ کے بارے میں عام لوگوں کے ذہنوں میں الجھاؤ پایا جاتا ہے۔ بعض اسے جمہوریت قرار دیتے ہیں، بعض ڈکٹیٹرشپ، اور بعض کہتے ہیں کہ اسلام کا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ مولانا مودودی ان تمام غیر علمی تعبیروں کی مذمت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسلام کا سیاسی نظریہ اس وقت تک صحیح طور پر سمجھا نہیں جا سکتا جب تک اس کی تفہیم کو جذبات، رجحانات یا دنیاوی مقبولیت سے آزاد کر کے علمی اور منصفانہ انداز میں نہ دیکھا جائے۔
اس کے بعد مصنف اسلام کے نظامِ فکر کی اساس کو واضح کرتے ہیں کہ یہ ایک ہم آہنگ، منظم اور باضابطہ نظام ہے جس کا ہر جزو ایک ہی بنیادی جوہر—یعنی اللہ کی حاکمیت—سے ماخوذ ہے۔ اسی بنیاد کو سمجھے بغیر اسلام کے کسی بھی پہلو کو صحیح طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
نظریہ خلافت اور اس کے سیاسی مضمرات
اب مَیں آپ کے سامنے اِسلامی اسٹیٹ کی ترکیب اور اس کے طرزِ عمل کی تھوڑی سی تشریح کروں گا۔ یہ بات مَیں آپ سے عرض کر چکا ہوں کہ اِسلام میں اصلی حاکم اللّٰہ ہے۔ اس اصل الاصول کو پیشِ نظر رکھ کر جب آپ اس سوال پر غور کریں گے کہ زمین میں جو لوگ خدا کے قانون کو نافذ کرنے کے لیے اُٹھیں، ان کی حیثیت کیا ہونی چاہیے؟ تو آپ کا ذہن خود بخود پکارے گا کہ وُہ اصلی حاکم کے نائب ہونے چاہئیں۔ ٹھیک ٹھیک یہی حیثیت اِسلام نے بھی انھیں دی ہے۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے:
وَعَدَ اللہُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْاَرْضِ كَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ۰۠ النور 24:55
اللّٰہ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں کے ساتھ جو تم میں سے ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ انھیں زمین میں خلیفہ بنائے گا اسی طرح جس طرح ان سے پہلے اس نے دُوسروں کو خلیفہ بنایا تھا۔
یہ آیت اِسلام کے نظریۂ ریاست (Theory of State) پر نہایت صاف روشنی ڈالتی ہے اس میں دو بنیادی نکات بیان کیے ہیں:
پہلا نکتہ یہ ہے کہ اِسلام حاکمیت کے بجائے خلافت (Vicegerency) کی اصطلاح استعمال کرتا ہے چوں کہ اس کے نظریہ کے مطابق حاکمیت خدا کی ہے لہٰذا جو کوئی اِسلامی دستور کے تحت زمین پر حکم ران ہو اسے لامحالہ حاکم اصلی کا خلیفہ (Vicegerent) ہونا چاہیے جو محض تفویض کردہ اختیارات (Delegated Power) استعمال کرنے کا مجاز ہو گا۔
دُوسری کانٹے کی بات اس آیت میں یہ ہے کہ خلیفہ بنانے کا وعدہ تمام مومنوں سے کیا گیا ہے۔ یہ نہیں کہا کہ ان میں سے کسی کو خلیفہ بنائوں گا۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ سب مومن خلافت کے حامل ہیں۔ خدا کی طرف سے جو خلافت مومنوں کو عطا ہوتی ہے وُہ عمومی خلافت (Popular Vicegereny) ہے۔ کسی شخص یا خاندان یا نسل یا طبقہ کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ ہر مومن اپنی جگہ خدا کا خلیفہ ہے۔ خلیفہ ہونے کی حیثیت سے فردًا فردًا ہر ایک خدا کے سامنے جواب دِہ ہے (کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ) [مشہور حدیث ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور تم سب خدا کے سامنے اپنی رعیت کے بارے میں جواب دِہ ہو]۔ اور ایک خلیفہ دوسرے خلیفہ کے مقابلہ میں کسی حیثیت سے فِروتر نہیں ہے۔