اسلام کا اخلاقی نظام
سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تقریر 'اسلام کا اخلاقی نظام'، جو 6 جنوری 1948ء کو ریڈیو پاکستان لاہور سے نشر کی گئی، ایک ایسی علمی و فکری کاوش ہے جو انسانی اخلاقیات کے بنیادی سوالات کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس تقریر کا مرکزی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام صرف ایک مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات ہے جس کا اخلاقی نظام بھی اپنی ذات میں منفرد، مستقل اور جامع ہے۔ مولانا مودودی اس بات کو زور دے کر بیان کرتے ہیں کہ انسانی فطرت میں اچھائی اور برائی کا شعور فطری طور پر موجود ہے، جسے قرآن مجید 'معروف' اور 'منکر' کے الفاظ سے بیان کرتا ہے۔ لیکن پھر بھی دنیا میں مختلف اخلاقی نظاموں کا وجود اور ان کے درمیان اختلاف کی وجہ کیا ہے؟ یہی سوال اس تقریر کا محور ہے، جس کے جواب میں مولانا مودودی اسلام کے نظریۂ حیات کو پیش کرتے ہیں جو اس کے اخلاقی نظام کی بنیاد ہے۔
تقریر کا پہلا حصہ 'اسلام کا اخلاقی نظام' انسانی فطرت میں اخلاقی شعور کی فطری موجودگی پر روشنی ڈالتا ہے۔ مولانا مودودی بتاتے ہیں کہ سچائی، انصاف، امانت، رحم، فیاضی، صبر، ضبطِ نفس، فرض شناسی اور دیگر نیک صفات کو انسانی تاریخ میں ہمیشہ خوبی سمجھا گیا ہے، جبکہ جھوٹ، ظلم، خیانت، بخل، بے صبری اور دیگر بری صفات کو کبھی بھی عزت نہیں ملی۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
اخلاقی جدوجہد کا مقصود
یہ ہے وہ جواب جو اِسلام نے زندگی کے بنیادی سوالات کا دیا ہے۔ یہ تصوّرِ کائنات و انسان اس اصلی اور انتہائی بھلائی کو متعین کر دیتا ہے، جسے پہچاننا انسانی سعی و عمل کا مقصود ہونا چاہیے اور وہ ہے خدا کی رضا۔ یہی وہ معیار ہے جس پر اِسلام کے اخلاقی نظام میں کسی طرزِ عمل کو پرکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ وہ خیر ہے یا شر۔ اس کے تعین سے اخلاق کو وہ محور مل جاتا ہے جس کے گرد پوری اخلاقی زندگی گھومتی ہے۔ اور اس کی حالت بے لنگر کے جہاز کی سی نہیں رہتی کہ ہوا کے جھونکے اور موجوں کے تھپیڑے اسے ہر طرف دوڑاتے پھریں۔ یہ تعین ایک مرکزی مقصد سامنے رکھ دیتا ہے جس کے لحاظ سے زندگی میں تمام اخلاقی صفات کی مناسب حدیں، مناسب جگہیں اور مناسب عملی صورتیں مقرر ہو جاتی ہیں اور ہمیں وہ مستقل اخلاقی قدریں ہاتھ لگ جاتی ہیں جو تمام بدلتے ہوئے حالات میں اپنی جگہ ثابت و قائم رہ سکیں۔ پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ رضائے الٰہی کے مقصود قرار پا جانے سے اخلاق کو ایک بلند ترین غایت مل جاتی ہے جس کی بدولت اخلاقی ارتقا کے امکانات لا متناہی ہو سکتے ہیں اور کسی مرحلہ پر بھی اغراض پرستیوں کی آلائشیں اسے ملوث نہیں کر سکتیں۔