مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلام بیسویں صدی میں

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

کتاب "اسلام بیسویں صدی میں" دراصل ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جو عصرِ حاضر کے پیچیدہ مسائل کے سامنے اسلام کی قابلیتِ رہنمائی کو ثابت کرنے کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ یہ کتاب 1967ء میں پنجاب یونیورسٹی لا کالج لاہور کے میگزین "المیزان" کے تحت شروع کردہ ایک علمی منصوبے کا نتیجہ ہے، جس کے تحت بر صغیر کے جید علماء سے "اسلام بیسویں صدی میں" کے موضوع پر تحقیقی و اجتہادی نوعیت کے سوالات کیے گئے تھے۔ ان سوالات کے جوابات میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اپنی فکری گہرائی، استدلالی قوت اور عصری تقاضوں کی سمجھ کا منفرد مظاہرہ کیا۔ اگرچہ یہ جوابات اُس وقت المیزان میں شائع نہ ہو سکے، لیکن بعد ازاں ادارہ اوراقِ نویں لاہور نے انہیں ایک مجموعے کی شکل میں شائع کر دیا۔ موجودہ کتاب میں صرف مولانا مودودیؒ کے جوابات کو الگ کرکے پیش کیا گیا ہے، جو نہ صرف ایک تاریخی ریکارڈ ہے بلکہ اسلامی نظامِ زندگی کی جامعیت اور عصرِ حاضر کے حالات سے نمٹنے کی صلاحیت کو واضح کرتا ہے۔

کتاب کا مرکزی دعویٰ یہ ہے کہ اسلام ہی واحد نظامِ زندگی ہے جو بیسویں صدی کے پیچیدہ مسائل — سیاسی، معاشی، سماجی، اخلاقی اور تہذیبی — کا مؤثر حل پیش کر سکتا ہے۔ یہ نظام کائنات کے خالق کی طرف سے نوعِ انسانی کی ہدایت کے لیے نازل کیا گیا ہے، جسے مختلف انبیاء کرامؑ نے تجدید کیا اور آخرالزمان میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلمؐ نے اسے مکمل اور حتمی شکل میں پیش کیا۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

اجتہادکی بنیاد الفاظ یا اسپرٹ

٭مویشی نہ ہونے کی صورت میں قربانی کا حکم

سوال

کیا ”اجتہاد“، جو کیا جائے گا وہ قرآن و حدیث و سابقہ اجتہادی احکام و قوانین جو خلفائے راشدینؓ کے عہد میں نافذ کئے گئے تھے ان کے محض الفاظ پر ہی زور دے کر عمل کیا جائے گا یا آیت و حدیث کی صحیح اسپرٹ کو مدّنظر رکھ کر کہ کن اور کب و کونسے حالات و ماحول و رجحان کے تحت وہ جاری ہوئے؟

(۱) آج موجودہ قانونی دفعات میں بھی الفاظ ( WORDING OF THE SECTION ) کی بندش جتنی اہمیت رکھتی ہے اس سے زیادہ دیباچۂ قانون ( PREAMBLE ) اہمیت رکھتا ہے جس کی روشنی میں آئین و قانون کی دفعات تک کا لعدم قرار دے دی جاتی ہیں۔ فرض کیجئے جیسا کہ مسلمان روزہ طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک رکھتے ہیں لیکن نماز روزہ کے لئے اوقات کا تعین قطبین ( POLLARS ) پر رہنے والے مسلمانوں کے لئے کیا ہوگا۔ جہاں مہینوں لمبی راتیں اور دن ہوتے ہیں؟

(ب) اور فرض کیجئے کہ کسی شخص کے پاس اس طرح کے جانور جیسا کہ گائے، بیل، اونٹ، بھیڑ، بکری، دنبہ وغیرہ دستیاب نہ ہوتے ہوں اور مثلاً وہاں صرف سور، خرگوش، مچھلی، گینڈے، ہاتھی اور گدھے وغیرہ موجود ہوں یا کچھ نہ ہوں تو وہاں قربانی کی کیا صورت ہوگی ؟

(ج) کیا قربانی کی صحیح اسپرٹ اور اصل جذبے کے تحت جانور کی قیمت کے بقدر رقم کی صورت میں حکومت وقت کے بیت المال میں جمع کر دی جائے یا قوم کی فلاح و بہبود پر خرچ کر دی جائے تو شریعت اس پر اکتفا کرلے گی ؟

جواب

اجتہاد کے لئے الفاظ اور اسپرٹ دونوں ہی کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے لیکن اسپرٹ کا مسئلہ خاصا پیچیدہ ہے۔ اگر اسپرٹ سے مراد وہ چیز ہے جو بحیثیت مجموعی قرآن کی تعلیمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ کے عمل، خلفائے راشدینؓ کے طریقے اور بحیثیت مجموعی فقہائے اُمت کے فہم سے ظاہر ہوتی ہے تو بلاشبہ یہ اسپرٹ ملحوظ رکھنے کے قابل ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اگر الفاظ قرآن اور سنت سے لئے جائیں اور اسپرٹ کہیں اور سے لائی جائے تو یہ سخت قابلِ اعتراض چیز ہے اور ایسی اسپرٹ کو ملحوظ رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ ہم خدا اور رسول کا نام لے کر اُن سے بغاوت کرنا چاہتے ہیں۔

قطبین کے متعلق روزہ اور نماز کے معاملہ میں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ قرآن اور حدیث کی رُو سے اصل مقصود خدا کی عبادت ہے یا ان دونوں عبادتوں کو اُن خاص اوقات کے اندر ادا کرنا جن کی علامات قرآن اور سنت میں بتائی گئی ہیں۔ تمام دنیا کا یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ کسی حکم سے جو اصل مقصود ہو وہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور اگر اس حکم کے متعلقات میں سے کوئی ایسی چیز آجائے جس سے کسی لازمی کرنے کے ساتھ حکم کے مقصد کو پورا نہ کیا جا سکتا ہو تو مقصد کو ترجیح دے کر اس کے ان متعلقات میں ترمیم کی جائے گی۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ قرآن مجید اور سُنت کی رو سے نماز ادا کرنا اور روزہ رکھنا اصل مقصد ہے اور جو اوقات ان عبادتوں کے لئے مقرر کئے گئے ہیں وہ زمین کی بہت بڑی آبادی کی سہولت کو ملحوظ رکھ کر مقرر کئے گئے ہیں۔ زمین کی آبادی کا بہت بڑا حصہ ان علاقوں میں آباد ہے جہاں رات دن کا الٹ پھیر چوبیس گھنٹوں میں ہو جاتا ہے اور اُن علاقوں میں چونکہ اکثریت کے پاس ہر وقت گھڑی نہیں رہ سکتی اس لئے ان کی سہولت کو مدنظر رکھ کر اوقات کے لئے وہ علامات بیان کی گئی ہیں جو افق پر یا آسمان پر ظاہر ہونے والی ہیں تاکہ ہر انسان اپنی عبادت کے لئے اوقات بآسانی معلوم کرلے۔ قطبین پر انسانی آبادی کا بہت چھوٹا حصہ آباد ہے۔ اس آبادی کو نماز اور روزے کے احکام پر عمل کرنے کے لئے اپنے حالات کے لحاظ سے اوقاتِ مقررہ میں مناسب ترمیمیں کرنی ہوں گی۔ کیونکہ ان اوقات کی پابندی اور عبادت کی ادائیگی دونوں ایک ساتھ نہیں ہو سکتیں اس لئے عبادت کے حکم کو اوقات کے حکم پر قربان نہیں کیا جا سکتا ہے۔

قربانی کے حکم پر عمل کرنے کے صرف دو اصول مدّنظر رکھنے ہوں گے۔ ایک تو یہ کہ جانور وہ ہو جو اسلام میں حرام نہیں کیا گیا ہے۔ دوسرے یہ کہ جانور وہ ہو جو کسی آبادی میں مویشی (CATTLE) کی حیثیت سے استعمال ہوتا ہو۔ اس طرح قربانی کے حکم پر دُنیا کی ہر آبادی میں عمل کیا جا سکتا ہے۔ قربانی بہر حال جانور ہی کی ہونی چاہیئے اس کے بدلے میں مالی انفاق کی کوئی شکل اختیار نہیں کی جا سکتی۔ میں اس موضوع پر تفصیلاً اپنے رسالے ”مسئلہ قربانی“ میں لکھ چکا ہوں۔