مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلام اور جدید معاشی نظریات

اشاعت: 1958ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’اسلام اور جدید معاشی نظریات‘‘ دراصل ان کی مشہور تصنیف ’’سود‘‘ کے ان ابواب کا مجموعہ ہے جن کا براہ راست تعلق سود کے موضوع سے نہیں تھا، لیکن جو اس کے پہلے دو حصوں میں شامل تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ واضح ہو گیا کہ اس طرح کی ترتیب قارئین کے لیے الجھن کا باعث بنتی ہے؛ اس لیے مولانا نے فیصلہ کیا کہ وہ تمام مواد جو سود کے مرکزی موضوع سے خارج ہے، اسے علیحدہ کر کے ایک الگ رسالے کی شکل دے دی جائے۔ اسی تناظر میں ’’اسلام اور جدید معاشی نظریات‘‘ وجود میں آئی، جس کا مقصد صرف یہ نہیں کہ سود کے مسئلے کو واضح کرے، بلکہ جدید معاشی نظاموں—سرمایہ داری، سوشلزم، کمیونزم، فاشزم—کا تاریخی، فکری اور عملی جائزہ پیش کرے اور پھر اسلامی معیشت کے اُس متوازن نظام کی طرف رہنمائی کرے جو نہ تو انفرادی آزادی کو ختم کرتا ہے اور نہ ہی اجتماعی فلاح کو نظرانداز کرتا ہے۔

کتاب کا آغاز باب دوم ’’موجودہ عمرانی مسائل کا تاریخی پس منظر‘‘ سے ہوتا ہے، جہاں مولانا یہ ثابت کرتے ہیں کہ آج کے تمام معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل دراصل مغربی تاریخ کے مختلف مراحل—جاگیرداری، نشاۃ ثانیہ، صنعتی انقلاب اور لبرلزم—کی پیداوار ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ چونکہ صدیوں سے دنیا کی فکری امامت مغرب کے ہاتھ میں رہی ہے، اس لیے ہمارے مسائل بھی مغربی تجربات کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس تاریخی پس منظر کے بعد کتاب باری باری تین بڑے جدید معاشی نظاموں کا تجزیہ کرتی ہے: سرمایہ داری کے سات بنیادی اصولوں (شخصی ملکیت، آزادیِ سعی، مقابلہ، ریاست کی عدمِ مداخلت وغیرہ) اور اس کی خرابیوں کا جائزہ؛ سوشلزم اور کمیونزم کے نظریات اور ان کا میزانیۂ نفع و نقصان؛ اور بالآخر ان دونوں کے ردِعمل میں پیدا ہونے والے فاشزم اور نازی ازم کا مختصر تنقیدی جائزہ۔

کتاب کا اختتامی حصہ 'تاریخ کا سبق' اخذ کرنے کے بعد اسلامی نظمِ معیشت کے بنیادی ارکان بیان کرتا ہے اور پھر جدید معاشی پیچیدگیوں کے عملی اسلامی حل کی طرف بڑھتا ہے—زمین کی ملکیت، ذرائع پیداوار، مالیات، زکوٰۃ اور حکومت کی محدود مداخلت جیسے پانچ شعبوں میں—تاکہ ایک ایسا متوازن نظام سامنے آئے جو نہ سرمایہ داری کی طرح محض فرد کی آزادی پر اور نہ اشتراکیت کی طرح محض ریاستی جبر پر منحصر ہو۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

متعلقہ نظامات: دیگر

تشخیصِ مرض

مذکورہ بالا حقائق کو ذہن نشین کرنے کے بعد اب ذرا پیچھے پلٹ کر ایک نظر پھر ان مباحث پر ڈال لیجئے جو اس کتاب کے ابتدائی ابواب میں گزر چلے ہیں،۔ ان میں ہم نے یہ بتایا ہے کہ صنعتی انقلاب کے دور میں سرمایہ داری کا جدید نظام اگرچہ اٹھا تو تھا معیشت کے انہی اصولوں پر جن پر غیر معلوم زمانے سے انسانی معاش کا کاروبار چلتا چلا آرہا تھا، لیکن اس کے اندر خرابی پیدا ہونے کے چار بنیادی سبب پائے جاتے تھے جو آگے چل کر سخت ردعمل کے موجب ہوئے۔

اول یہ کہ اس نظام کے قائم کرنے والوں اور چلانے والوں نے ان اصولوں کے معاملے میں وہ مبالغہ برتا جو نئے صنعتی دور کے لیے کسی طرح موزوں نہ تھا۔

دوم یہ کہ انہوں نے ان فطری اصولوں کے ساتھ کچھ غلط اصولوں کی آمیزش بھی کردی۔

سوم یہ کہ انہی نے بعض ایسے اصولوں کو نظر انداز کردیا جو ایک فطری نظام معیشت کے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنے وہ سات اصول جو نظام سرمایہ داری کی بنیاد کہے جاتے ہیں۔

اس کے بعد ہم نے تفصیل کے ساتھ انہی ابواب میں یہ بھی بتایا ہے کہ ایک طرف سوشلزم، کمیونزم، فاشزم اور نازی ازم نے اور دوسری طرف نظام سرمایہ داری کے موجودہ وارثوں نے اس نظام کی پیدا کردہ خرابیوں کا علاج کرنے کی جو کوششیں کی ہیں وہ اس وجہ سے ناکام ہوئی ہیں کہ ان میں سے کسی نے بھی مرض کے بنیادی اسباب کو سرے سے نہیں سمجھا۔ ایک گروہ نے معیشت کے ان فطری اصولوں ہی کو اصل سبب مرض سمجھ لیا جو قدیم ترین زمانے سے معمول بہ چلے آرہے تھے اور ان کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ انفرادی آزادی کا بھی ازالہ کرڈالا۔ دوسرے گروہ نے اپنی ساری توجہ صرف شکایات رفع کرنے پر صرف کردی اور ان بیشتر اسباب کو جوں کا توں باقی رہنے دیا جو دراصل خرابی کے موجب تھے، اس لیے ان کے نظام میں انفرادی آزادی تو باقی رہی مگر اس طرح کہ وہ اجتماعی مفاد کے لیے قریب قریب اتنی ہی نقصان دہ ہے جتنی نظام سرمایہ داری کے کسی تاریک سے تاریک دور میں تھی۔

اب جو شخص بھی اس تشخیص مرض پر غور کرے گا وہ بآسانی اس نتیجے پر پہنچ جائے گا کہ انسانیت کو دراصل ایک ایسے حکیمانہ متوازن نظام کی ضرورت ہے جو:

اولاً: معیشت کے فطری اصولوں کو تو برقرار رکھے کیونکہ وہ انفرادی آزادی کے لیے ضروری ہیں مگر ان کے برتنے میں مبالغہ کرنے کے بجائے افراد کی آزادی سعی و عمل پر ایسی پابندیاں لگائے جن سے وہ اجتماعی مفاد کی نہ صرف یہ کہ دشمن نہ رہے بلکہ عملاً خادم بن جائے۔

ثانیاً:ان فطری اصولوں کے ساتھ غلط اصولوں کی ہر آمیزش کو نظامِ معیشت سے خارج کردے۔

ثالثا ً: ان اصولوں کے ساتھ فطری نظام معیشت کے دوسرے بنیادی اصولوں کو بھی بروئے کار لائے اور

رابعاً: افراد کو ان فطری اصولوں کے حقیقی تقاضوں سے ہٹنے نہ دے۔