مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

اسلام اور عدلِ اجتماعی

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مقالہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا اہم فکری بیانیہ ہے جو 1962ء میں موتمرِ عالمِ اسلامٰیٰ کے اجتماعِ مکہ معظمہ میں پیش کیا گیا۔ اس کا بنیادی علمی موضوع یہ ہے کہ ‘‘عدلِ اجتماعی’’ کا حقیقی ماخذ اور درست تصور صرف اور صرف اسلام ہی میں پایا جاتا ہے، اور مغربی یا مادّی فلسفے مثلاً سرمایہ داری یا اشتراکیت کے دعوے درحقیقت انسانیت کو گمراہ کرنے والے فریب ہیں۔ مودودی اس بحث کی ابتدا انسانی فطرت کے اس امر سے کرتے ہیں کہ شر وفساد عریان شکل میں کم مقبول ہوتا ہے، اس لیے شیطان ہمیشہ اپنے فتنوں کو کسی اچھائی کے لباس میں پیش کرتا ہے۔ انقلابِ فرانس کے بعد اٹھنے والے ‘‘حریتِ فرد’’ اور ‘‘فراخ دلی’’ کے نعرے ایک مدت تک مغربی سرمایہ داری اور لادینی جمہوریت کے لیے فریبی جواز بنے، مگر ان نظموں نے وقتی طور پر ظلم اور استحصال کو جنم دیا۔ پھر جب سرمایہ داری کی خرابی عیاں ہوئی تو اسی ابلیسی فریب نے لوگوں کو ‘‘اجتماعی عدل’’ کے نام پر اشتراکیت کی جانب دھکیل دیا، جو ظاہری نعروں کے باوجو د تاریخ میں بے شمار مظالم اور انتہائی مرکزیتِ اقتدار کی صورت بن چکی ہے۔

مودودی کی فکری ملامت کا دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ مسلمان اکثر مغربی نظریات کے زیرِ اثر ذہنی غلامی کا شکار ہو جاتے ہیں؛ کبھی وہ ‘‘فراخ دلی’’ اور ‘‘حریتِ فرد’’ کو اپنا قبلہ بناتے ہیں اور کبھی ‘‘اجتماعی عدل’’ کے نام پر اشتراکیت کی تعریف کرتے ہوئے اسلام کو اسی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

عدل ہی اسلام کا مقصود ہے

دوسری بات جو آغاز ہی میں سمجھ لینا ضروری ہے وُہ یہ ہے کہ جو شخص ’’اسلام میں عدل ہے‘‘ کہتا ہے وُہ حقیقت سے کم تر بات کہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عدل ہی اسلام کا مقصود ہے اور اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ عدل قائم کرے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:

<<لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ۝۰ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْہِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللہُ مَنْ يَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَيْبِ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌo>> (الحدید 57:25)

ہم نے اپنے رسولوں کو روشن نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں سخت طاقت اور لوگوں کے لیے فوائد ہیں تاکہ اللّٰہ یہ معلوم کرے کہ کون بے دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللّٰہ قوی اور زبردست ہے۔

یہ دو باتیں ہیں جن سے اگر ایک مسلمان غافل نہ ہو تو وُہ کبھی عدالتِ اجتماعیہ کی تلاش میں اللّٰہ اور اس کے رسولؐ کو چھوڑ کر کسی دوسرے ماخذ کی طرف توجہ کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا۔ جس لمحے اُسے عدل کی ضرورت کا احساس ہو گا اُسی لمحے اسے معلوم ہو جائے گا کہ عدل اللّٰہ اور اس کے رسولؐ کے سوا کسی کے پاس نہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے اور وُہ یہ بھی جان لے گا کہ عدل قائم کرنے کے لیے اس کے سوا کچھ کرنا نہیں ہے کہ اسلام، پورا کا پورا اسلام، بلا کم وکاست اسلام، قائم کر دیا جائے۔ عدل، اسلام سے الگ کسی چیز کا نام نہیں ہے۔ اسلام خود عدل ہے۔ اس کا قائم ہونا اور عدل کا قائم ہو جانا ایک ہی چیز ہے۔