مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

انسان کے بنیادی حقوق

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تقریر پر مبنی یہ کتاب "انسان کے بنیادی حقوق" اس اہم موضوع کو اسلامی تناظر میں پیش کرتی ہے کہ انسانی حقوق کا تصور نہ تو جدید دور کی ایجاد ہے اور نہ ہی صرف مغربی تاریخ کا حصہ؛ بلکہ یہ تصوّر اسلام کے ساتھ آغازِ ہستی سے وابستہ ہے۔ مولانا مودودی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کے خالق کی حیثیت سے ہی اس کے بنیادی حقوق عطا کیے ہیں، جن کی وضاحت قرآن مجید اور سنت نبویؐ میں واضح طور پر موجود ہے۔ ان کا بنیادی دعویٰ یہ ہے کہ جبکہ جدید دور میں انسانی حقوق کے اعلانات محض خوش‌نمائی اور غیر پابند ہیں، اسلام نے ان حقوق کو الٰہی سند، اخلاقی ذمہ داری اور عملی نفاذ کے ساتھ پیش کیا ہے۔

کتاب کا آغاز اس نقطہ سے ہوتا ہے کہ انسانی حقوق کا تصور مسلمانوں کے لیے کوئی نیا خیال نہیں، بلکہ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔ مولانا مودودی اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ انسان ہی واحد مخلوق ہے جس نے اپنی ہی جنس پر ظلم کیا ہے، جبکہ دیگر مخلوقات فطرت کے قوانین کے تحت رہتی ہیں۔ اس لیے انسان کو اپنے حقوق کی رہنمائی کے لیے خدا کی طرف سے ہدایت درکار ہے، جو قرآن وسنت کے ذریعے مہیّا کی گئی ہے۔

اس کے بعد وہ جدید دور میں انسانی حقوق کے ارتقا کا جائزہ لیتے ہیں، جس میں میگنا کارٹا، انقلاب فرانس، امریکی ترامیم، اور بالآخر 1948ء کا عالمی منشورِ حقوقِ انسانی شامل ہیں۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

نجی زندگی کا تحفظ

اسلام کے بنیادی حقوق کی رو سے، آدمی کو (Privacy)یعنی نجی زندگی کو محفوظ رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اس معاملے میں سورۂ نور میں وضاحت کر دی گئی کہ <<لَاتَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا>> (النور24:27) اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو، جب تک کہ ان سے اجازت نہ لے لو۔ سورہ حجرات میں فرما دیا گیا: <<لَا تَجَسَّسُوْا>> (الحجرات49:12) (تجسس نہ کرو)۔ نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ایک آدمی کو یہ حق نہیں ہے کہ اپنے گھر سے دوسرے آدمی کے گھر جھانکے۔ ایک شخص کو پورا پورا آئینی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے گھر میںدوسروں کے شور و شغب سے، دوسروں کی تاک جھانک سے اور دوسروں کی مداخلت سے محفوظ ومامون رہے۔ اس کی گھریلو بے تکلفی اور پردہ داری برقرار رہنی چاہیے۔ مزید برآں یہ کہ کسی شخص کو دوسرے کا خط اوپر سے نگاہ ڈال کر دیکھنے کا حق بھی نہیں ہے۔ کجا کہ اسے پڑھا جائے۔ اسلام انسان کی پرائیویسی کا پورا پورا تحفظ کرتا ہے اور صاف ممانعت کرتا ہے کہ، گھروں میں تاک جھانک نہ کی جائے اور کسی کی ڈاک نہ دیکھی جائے۔ الّا یہ کہ کسی شخص کے متعلق معتبر ذریعہ سے یہ اطلاع مل جائے کہ وہ کوئی خطرناک کام کر رہا ہے۔ ورنہ خواہ مخواہ کسی کے حالات کا تجسس کرنا شریعتِ اسلامی میں جائز نہیں ہے۔