مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا

اشاعت: 1936ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مضمون سورۂ نمل کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں مذکور حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا کے قصے کی تفصیلی توضیح پر مبنی ہے۔ اس میں یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام نے قومِ سبا کی آفتاب پرست ملکہ کو توحید کی دعوت دی، ملکہ کے مصالحانہ طرزِ عمل، اور بالآخر اس کے اسلام قبول کرنے تک کے مراحل کی تفصیل دی گئی ہے۔

مولانا مودودی قصے کے اہم نکات، جیسے ملکہ کا تخت پلک جھپکتے میں حاضر کیا جانا اور شیشے کے فرش کو پانی سمجھنے کا واقعہ، کی معقول تشریح پیش کرتے ہیں اور ان اسرائیلی مبالغہ آمیزیوں کی نشاندہی کرتے ہیں جو روایتی تفاسیر میں اس قصے کے ساتھ جوڑ دی گئی ہیں۔

حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا

سورۂ نمل کے دوسرے اور تیسرے رکوع میں ملکہ سبا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔ اس کا مختصر قصہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو جب ہدہد کے ذریعے سے قوم سبا کے شرک اور آفتاب پرستی کا حال معلوم ہوا تو آپ نے اس قوم کی ملکہ کو اسلام کی طرف دعوت دی[ معلوم رہے کہ سبا کی مملکت عرب کے علاقہ یمن میں واقع تھی اور حضرت سلیمان فلسطین و شام پر حکمران تھے۔]۔ ملکہ نے اس باب میں اپنے امرا و اعیانِ سلطنت سے مشورہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم بھی زورِ بازو رکھتے ہیں، جنگ کیے بغیر اطاعت نہ کریں گے، مگر ملکہ نے جنگ کی رائے سے اتفاق نہ کیا اور اس کے بُرے نتائج سے آگاہ کر کے مصالحانہ روش اختیار کرنے کی رائے دی۔ چنانچہ سب کے اتفاق سے ایک بیش قیمت ہدیہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں بھیجا گیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے تمھارے ہدیے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمھارے اسلام یا اطاعت کا طالب ہوں۔ غرض جنگ کا اعلان ہو گیا۔ اس اعلان کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے اعیانِ دولت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم میں کون ہے جو اس ملکہ کا تخت میرے پاس اٹھا لائے؟ ایک جن نے عرض کیا کہ میں دربار کے برخاست ہونے سے پہلے اس کو لے آؤں گا۔ ایک دوسرے شخص نے جو ”کتاب کا علم رکھتا تھا“ کہا کہ میں چشم زدن میں اس کو حاضر کیے دیتا ہوں۔ چنانچہ اُس نے فی الواقع پلک جھپکاتے تخت لا حاضر کیا۔ اس موقع پر حضرت شاہ عبدالقادرؒ موضح القرآن میں لکھتے ہیں:

”کافر جو اپنے ایمان میں نہیں اس کا مال زبردستی حلال ہے۔ جب وہ مسلمان ہوا پھر حلال نہیں“۔

پھر جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے تخت کو اپنے سامنے حاضر پایا تو بے اختیار بول اُٹھے کہ یہ میرے ربّ کا فضل ہے۔ وہ مجھ کو آزماتا ہے کہ میں شاکر بندوں کی طرح اس کی نعمتوں کا ٹھیک ٹھیک حق ادا کرتا ہوں یا کافروں کی طرح کفرانِ نعمت کرتا ہوں۔

یہاں حضرت شاہ صاحب نے پھر شرح فرماتے ہوئے لکھا ہے:

”یعنی ظاہر کے اسباب سے نہیں آیا، اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میرے رفیق اس درجہ کو پہنچے جن سے کرامت ہونے لگی...... اور اس کے پاس ایک علم تھا کتاب کا۔ یعنی اللہ کے اسما اور کلام کی تاثیر کا۔ وہ شخص آصف تھا اُن کا وزیر“۔

آیاتِ مذکورہ بالا اور ان کے متعلق حضرت شاہ صاحبؒ کے حواشی پر ایک صاحب نے حسب ذیل شبہات ظاہر کیے ہیں اور ہم سے چاہا ہے کہ ان کو صاف کریں۔

(۱) ایک جلیل القدر پیغمبر کی شان سے یہ بہت بعید معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی املاک پر اس طرح کرامتوں کے زور سے تصرف کرے۔ مانا کہ کافر حربی کا مال مباح ہے، مگر پیغمبر کا تقویٰ اس سے بالاتر ہونا چاہیے کہ وہ میدانِ جنگ میں مالِ غنیمت حاصل کرنے کے بجائے اس طرح کرامتوں کے زور سے لوگوں کی قیمتی چیزیں اُٹھوا منگایا کرے۔

(۲) ملکہ سبا کا تخت اُٹھا منگانا حضرت سلیمان علیہ السلام کا معجزہ نہیں ہوا، بلکہ ان کے ایک مصاحب کی کرامت ہوئی۔ جو پیغمبر شیاطین اور جنات کو مسخر کر سکتا تھا، کیا خود اپنی قوتِ اعجاز سے تخت نہیں لاسکتا تھا؟

(۳) بائبل اور تلمود میں جہاں انبیائے بنی اسرائیل کے مفصل سوانح حیات مذکور ہیں کوئی تذکرہ اس قسم کا نہیں پایا جاتا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس طرح تخت اُٹھوا منگوایا تھا۔

ذیل میں ان شبہات پر مختصر بحث کی جاتی ہے:

سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ اسلام نہ تو حکومت خود اختیاری (سیلف گورنمنٹ) کا قائل ہے اور نہ جہانگیری (امپیریلزم) کا۔ اس کا نظریہ سلطنت تمام دنیا کے نظریات سے مختلف ہے اور جذبات و خواہشات نفس کے بجائے خالص عقلی اصول پر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس نظریے کا لب لباب یہ ہے کہ زمین کی حکومت صرف صالحین کا حق ہے اور مردِ صالح وہ ہے جو خدا کا مطیع فرمان اور اس کی ہدایت کا پیرو ہو، جو خدا کی بخشی ہوئی طاقت کو اس کے قانون کی صحیح پیروی میں استعمال کر سکتا ہو اور جس کے پیش نظر اپنے نفس یا اپنی قوم کا مفاد نہیں بلکہ کل نوع انسانی کا اخلاقی و روحانی اور مادی فائدہ ہو۔ ایسا شخص کسی ایک قوم کی میراث نہیں، تمام انسانیت کا مشترک سرمایہ ہے۔ اس کو یہ حق پہنچتا ہے اور اسی پر یہ فرض بھی عائد ہوتا ہے کہ تمام دنیا میں خدا کے قانون کی حکومت قائم کرے اور خدا کے بندوں کو گمراہوں اور ظالموں کی حکومت سے اور اُن کے بے جا قوانین کی جکڑ بندی سے نجات دلائے، اُس کے مقابلے میں وہ لوگ جن کے پاس نہ ہدایت الٰہی ہے، نہ الٰہی قانون ہے، نہ ایسی طہارتِ نفس ہے کہ خود غرضی اور تکبر سے بالاتر ہو کر خالص مفاد انسانیت کی خدمت کے لیے حکومت کریں، ہرگز اس کا حق نہیں رکھتے کہ حکومت و سلطنت کی باگیں ان کے ہاتھوں میں رہیں۔ وہ خود اپنی قوم پر حاکم ہوں یا غیر قوموں پر، بہر حال وہ ظالم ہیں۔ مردِ صالح کو حق پہنچتا ہے کہ اگر طاقت اس کے ہاتھ میں ہو تو ایسے لوگوں سے حکومت چھین لے۔

اس معاملے میں اسلامی قاعدہ یہ ہے کہ پہلے ان کو قبولِ حق کی دعوت دی جائے گی۔ اگر انھوں نے مان لیا اور قانونِ الٰہی کے متبع بن گئے تو وہ صالحین کے گروہ میں شامل ہو جائیں گے اور اپنی صلاحیت کے مطابق ان کو حکومت میں حصہ لینے کا حق مل جائے گا، لیکن اگر انھوں نے انکار کیا تو وہ حاکم بن کر نہیں رہ سکتے۔ ان کو طاقت سے مغلوب کر کے ان کی حکومت مٹا دی جائے گی اور انھیں اسلام کے سیاسی اقتدار کا تابع بن کر رہنا پڑے گا۔ تاکہ وہ کم از کم خدا کی زمین میں شر و فساد تو نہ پھیلا سکیں۔ باقی رہا ان کا شرک و کفر تو اس کی سزا ان کو خود اللہ تعالیٰ قیامت کے روز دے گا۔ دنیا میں ان کو یہ آزادی حاصل رہے گی کہ جس اعتقاد اور جس مذہب کی چاہیں، پیروی کریں۔

اس اصولی بات کو سمجھ لینے کے بعد اب حضرت سلیمان علیہ السلام کے طرزِ عمل کو ملاحظہ کیجیے۔ وہ اللہ کے پیغمبر ہیں، اللہ نے ان کو علم حق عطا کیا ہے: <<وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ عِلْمًا>> (النمل 15:27) ان کو اخلاق اور عمل صالح کے اعتبار سے نہ صرف کفار پر بلکہ عام مؤمنین پر بھی برتری عطا فرمائی گئی ہے: <<اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ فَضَّلَنَا عَلٰی کَثِیْرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِیْنَ>> (النمل 15:27) وہ خدا کی بندگی اور فرمانبرداری میں کامل ہیں: <<نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّهٗ اَوَّابٌ>> (ص 30:38) اور ان کے والد ماجد حضرت داؤد علیہ السلام ہی کی زبان سے اللہ تعالیٰ اپنے اس قانون کا اعلان کر چکا ہے کہ زمین کے جائز وارث اور خلافت ارضی کے اصلی حق دار صرف وہ بندے ہیں جو صالح ہیں: <<وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُهَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ>> (الانبیاء 105:21) اسی بنیاد پر وہ فلسطین و شام کی اسلامی مملکت پر فرمانروائی کر رہے ہیں۔

اس حالت میں ان کو خبر ملتی ہے کہ ایک قوم آفتاب کی پرستار، شیطان کی متبع اور راہِ راست سے ہٹی ہوئی ہے: <<يَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَ>> (النمل 24:27) قاعدۂ اسلامی کے مطابق وہ اس قوم کے اہل حل وعقد کو دعوت دیتے ہیں کہ یا اسلام قبول کرو یا حکومت صالحہ کے مطیع بن کر رہو، کیونکہ شیطانی طریقے کے پیرو رہتے ہوئے تم کو خدا کی زمین پر حکومت کرنے کا حق نہیں ہے: <<اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَأْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ>> (النمل 31:27) اس قوم کی ملکہ اس نامۂ گرامی کو دیکھ کر ایمان کی طرف مائل ہو جاتی ہے: <<وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِیْنَ>> (النمل 42:27) مگر قومی عصبیت اور دین آبائی کی محبت اس کو ایمان لانے سے روک دیتی ہے: <<وَصَدَّهَا مَا کَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنَّهَا کَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ>> (النمل 43:27) اپنی سلطنت کے امرا و اعیان سے رائے لیتی ہے۔ وہ لڑنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ ملکہ ان کو روکتی ہے اور حضرت سلیمانؑ کو ہدیہ بھیج کر راضی کرنا چاہتی ہے، لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام اس پیش کش کو ردّ فرما دیتے ہیں، اس لیے کہ وہ دنیوی بادشاہوں کی طرح نہیں ہیں، جن کا مقصود محض مال و دولت ہوتا ہے بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس کام پر مامور ہیں کہ لوگوں کو دین الٰہی کا پیرو بنائیں، یا کم از کم ان حکومتوں کو جو عصیان وطغیان پر قائم ہوں، مٹا کر ان کی جگہ الٰہی قانون کی حکومت قائم کر دیں۔ اس بنا پر وہ مالی نذرانے کو ردّ کر کے ملکہ سبا کو جنگ کی دھمکی دیتے ہیں: <<قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ فَمَا اٰتٰنِيَ اللّٰهُ خَيْرٌ مِّمَّا اٰتٰكُمْ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ ٥ اِرْجِعْ اِلَيْهِمْ فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَا اَذِلَّةً وَّهُمْ صٰغِرُوْنَ (النمل 37:27)>> یہ دھمکی کارگر ہو جاتی ہے اور ملکہ خود اطاعت قبول کر کے حضرت سلیمان علیہ السلام سے ملنے کے لیے بیت المقدس حاضر ہوتی ہے۔

اس موقع پر حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے اہلِ دربار سے فرماتے ہیں کہ ملکہ کے حاضر ہونے سے پہلے اس کے محل سے اس کا تخت اُٹھا لاؤ۔ اس فرمائش کی وجہ یہ نہیں تھی کہ اس کے تخت کی تعریف سن کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے منہ میں پانی بھر آیا اور وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے بلکہ اصل غرض یہ تھی کہ ملکہ کے سامنے خدا کی بخشی ہوئی طاقتوں کا ایک ایسا مظاہرہ کیا جائے جسے دیکھ کر وہ ذمّی بن کر رہنے کے بجائے نعمتِ ایمان پالے اور مؤمن بن کر رہے۔ چنانچہ تخت منگا لیا گیا اور جب ملکہ ملاقات کے لیے حاضر ہوئی تو اس کے سامنے اس کا اپنا تخت بالکل انجان بن کر پیش کیا گیا <<قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِيْ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِيْنَ لَا يَهْتَدُوْنَ (النمل 41:27)>> ملکہ نے دیکھا تو پہچان گئی کہ یہ اسی کا تخت ہے۔ اس چیز نے اس کی آنکھیں کھول دیں اور وہ ایمان جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی پہلی دعوت پر محض ایک جھلک دکھا کر غائب ہو گیا تھا، اپنی پوری روشنی کے ساتھ اس کے دل میں اتر گیا <<قَالَتْ كَاَنَّهُ هُوَ وَاُوْتِيْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِيْنَ (النمل 42:27)>>

اس تشریح سے یہ شبہ رفع ہو جاتا ہے کہ ایک جلیل القدر پیغمبر نے کرامت کے زور سے دوسرے کی ملک پر تصرف کیا۔ دراصل وہاں سرے سے قبضہ و تصرف کیا ہی نہیں گیا تھا، بلکہ ایک مشرک قوم کی ملکہ اور اس کے اعیانِ سلطنت کو خداداد قوتوں کا ایک کرشمہ دکھایا گیا تھا اور وہ بھی تماشاگری کی غرض سے نہیں بلکہ اس غرض سے دکھایا گیا تھا کہ وہ شرک چھوڑ کر خالص خدا پرستی اختیار کر لیں۔ اس سلسلے میں قرآن مجید حضرت سلیمان علیہ السلام کے اخلاص اور للّٰہیت کی جو شہادت پیش کرتا ہے، وہ ان شبہات کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتی جو مستفسر نے پیش کیے ہیں۔ ملکہ سبا ان کے سامنے ایک کثیر رقم نذرانے کے طور پر پیش کرتی ہے مگر وہ اس مال و دولت کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیتے ہیں کہ میرے خدا نے جو کچھ مجھ کو دیا ہے، وہ تمھارے مال سے بہتر ہے۔ ملکہ کا تخت جب آن کی آن میں ان کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے تو اپنی طاقت و شوکت پر فخر و غرور کا ایک حرف بھی اُن کی زبان پر نہیں آتا۔ بے اختیار اپنے پروردگار کے فضل و احسان کی تعریف کرتے ہیں اور سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں۔ پھر جب سبا کی ملکہ اطاعت گزار بن کر دربار میں آتی ہے تو اس کے ملک کا کوئی حصہ نہیں مانگا جاتا۔ اس سے تجارتی اور معاشی مراعات و امتیازات کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ اس کی ریاست پر انتداب (مینڈیٹ) یا حمایت (پروٹیکٹوریٹ) قائم کرنے کی تجویز نہیں کی جاتی۔ اس کے ہاں ریزیڈنسی اور ہائی کمشنری قائم کرنے کا ذکر بھی درمیان میں نہیں آتا۔ ان سب چیزوں کے بجائے اس کے سامنے صرف ایک چیز پیش کی جاتی ہے اور وہ ہے کلمۂ حق اور اس کی تائید میں خدائی طاقت کا ایک نشان (یعنی خود اس کا تخت) اس کو دکھایا جاتا ہے تا کہ اس کو ہدایت ہو۔ اس معجزے کو دیکھ کر ادھر ملکہ پکار اٹھتی ہے کہ <<رَبِّ اِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِی وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ>> (النمل 44:27) اور ادھر اسلامی سلطنت کا فرمانروا مطمئن ہو جاتا ہے کہ اس کا مقصد پورا ہو گیا۔

اب دوسرے سوال کو لیجیے، یعنی یہ کہ یمن سے ملکہ کا تخت اٹھوا منگوانے کا معجزہ حضرت سلیمان کے بجائے ایک دوسرے شخص کے ذریعے سے کیوں صادر ہوا؟ ظاہر ہے کہ یہ کام اللہ ہی کے اذن اور اسی کی طاقت سے ہوا تھا۔ اور اللہ چاہتا تو یہی کام اپنے پیغمبر سے بھی لے سکتا تھا، مگر جب اس نے ان کے بجائے ایک دوسرے شخص کو اس کے لیے انتخاب کیا تو ضرور ہے کہ اس میں بھی کوئی مصلحت ہو گی۔ وہ مصلحت کیا تھی؟ اس بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم غور کرنے سے میری سمجھ میں جو بات آئی ہے، وہ یہ ہے کہ شاید یہاں جِن کی قوتِ ناریہ اور انسان کی قوتِ علمیہ کا فرق ظاہر کرنا مقصود[ قصے کا یہ پہلو پیشِ نظر رہے کہ دربار سلیمانی کے ایک نہایت طاقتور جن نے کہا تھا کہ میں دربار برخاست ہونے سے پہلے پہلے یمن سے تخت اٹھا لاؤں گا مگر جس انسان کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے پلک جھپکاتے ہی تخت لا حاضر کیا۔] تھا۔ انسان اگرچہ قیدِ جسمانی میں رہ کر اپنی محدود مادی طاقت سے کوئی فوق العادت کام نہیں کر سکتا اور اس حیثیت سے جن کا وجود ناری، انسان کے وجود خاکی سے بہت زیادہ قوی ہے، لیکن جب علم کی قوت انسان کے ساتھ ہو تو وہ تمام طاقت ور مخلوقات سے بڑھ کر طاقتور ہو جاتا ہے۔ اس قوت علمیہ کا مظاہرہ اگر ایک پیغمبر کے ذریعے سے کرایا جاتا تو اس شبہے کی گنجائش نکل سکتی تھی کہ پیغمبر تو جن و انس میں سب سے افضل ہے۔ اس کی فوقیت اگر ثابت ہو گئی تو اس سے بشر من حیث البشر کا علمی تفوق ظاہر نہیں ہوا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک معمولی غیر نبی انسان سے اس علمی طاقت کا مظاہرہ کرا دیا تا کہ حقیقت بالکل عیاں ہو جائے۔ ادنیٰ شبہ بھی باقی نہ رہے۔

رہا یہ سوال کہ اس قصے میں یہ تفصیلات جو قرآن میں ہیں، وہ بائبل اور تلمود میں کیوں نہیں ہیں؟ تو اس کا جواب آپ کو قرآن اور ان کتابوں کے متقابل مطالعے سے خود مل جائے گا۔ بائبل اور تلمود میں ہر طرح کے رطب و یابس افسانے بھرے ہوئے ہیں اور ان میں اکثر ہیرے چھوڑ کر کوئلے چنے گئے ہیں۔ بیسیوں صفحے پڑھ جائیے تو کہیں اتفاق سے کوئی ایک کام کی بات ملے گی۔ جو قصہ بیان ہوگا اُس کی غیر ضروری تفصیلات تو بہت مل جائیں گی مگر کم ہی کوئی ایسی چیز پائی جائے گی جو اپنے اندر کوئی حکمت، کوئی موعظت، کوئی دینی، اخلاقی، شرعی یا سیاسی سبق رکھتی ہو۔ بخلاف اس کے کہ قرآن میں تمام غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ کر انبیا علیہم السلام کی سیرتوں کا عطر نکال لیا گیا ہے اور صرف وہ چیزیں پیش کی گئی ہیں، جو ہر زمانے اور ہر قوم کے انسانوں کے لیے اپنے اندر بے حد و حساب ہدایتیں رکھتی ہیں۔ بیکار تاریخی جزئیات ان کتابوں میں بہت ہیں اور قرآن میں کہیں نہیں۔ سبق آموز واقعات تمام تر قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور یہ کتابیں ان سے خالی ہیں۔

بات یہیں تک نہیں، اس سے بھی زیادہ افسوس ناک ہے۔ متعدد پیغمبروں کی زندگیوں کو بائبل اور دوسری اسرائیلی روایات میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ان کو پیغمبر ماننا تو درکنار، کوئی اعلیٰ درجے کا شریف انسان تسلیم کرنا بھی مشکل ہے۔ یہ فخر صرف قرآن کو حاصل ہے کہ اس نے انبیا علیہم السلام کی سیرتوں کو ان اسرائیلی نجاستوں سے پاک کیا ہے،

اور از سر نو دنیا میں اُن پاک شخصیتوں کی وہ عظمت و حرمت قائم کی ہے، جس کے وہ دراصل مستحق تھے۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت لوط، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت ہارون، حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم السلام کے حالات بائبل میں پڑھیے، کتنے ہی سیاہ دھبے آپ کو وہاں نظر آئیں گے۔ قرآن میں دیکھیے۔ آسمانِ عز وشرف کے چمکتے ہوئے مہ و انجم دکھائی دیں گے۔ خود حضرت سلیمان کو اسرائیلیات میں نبوت کیا معنی ایمان سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔ بائبل کہتی ہے کہ آخر عمر میں وہ زن پرستی میں ایسے غرق ہوئے کہ شرک تک میں مبتلا ہو گئے۔ اس کے برعکس قرآن کہتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کے مؤمن اور اللہ کے جلیل القدر پیغمبر تھے اور آخر وقت تک یہی کچھ رہے۔

بنی اسرائیل کا مذاق اخلاقی و روحانی معاملات میں کچھ اس درجہ پست ہو گیا تھا کہ انھوں نے صرف یہی نہیں کہ اپنی مذہبی کتابوں میں خود اپنے انبیا کی سیرتوں کو جھوٹے افسانوں سے داغ دار بنایا بلکہ جب قرآن مجید نے ان بزرگوں کے ملکاتِ فاضلہ اور اخلاقِ حسنہ اور ان کے بلند پایہ کارناموں کی صحیح تصویر کھینچی، تب بھی انھوں نے اسے قبول نہ کیا۔ ان کو یقین ہی نہ آیا کہ انسانی سیرت اتنی پاکیزہ بھی ہو سکتی ہے، بشری اخلاق اتنے بلند بھی ہو سکتے ہیں، آب و گل کے بنے ہوئے آدمی اس قدر پاک نفس، عالی حوصلہ اور فانی فی اللہ بھی ہو سکتے ہیں۔ اُن کے تصور سے یہ چیزیں بہت بالا و برتر تھیں۔ اسی لیے نزولِ قرآن کے بعد اسرائیلی مذاق کی کارفرمائی پھر شروع ہو گئی۔ قرآن مجید میں انبیا علیہم السلام کے جو قصے بیان ہوئے ہیں، ان میں سے ایک ایک پر ہاتھ صاف کیا گیا اور ہر ایک کی جان نکال لی گئی۔ قرآن کا اندازِ بیان یہ ہے کہ وہ قصوں کی غیر ضروری تفصیلات کو چھوڑ کر صرف کام کی باتیں لے لیتا ہے۔ اس طرح واقعات کے درمیان جو خلا چھوٹ جاتا ہے، پڑھنے والا خود اس کو اپنے تصور سے، یا بیرونی معلومات سے (اگر ہوں تو) بھر سکتا ہے، مگر اسرائیلی مذاق رکھنے والوں نے اس خلا کو افسانوں سے پُر کیا اور افسانے بھی ایسے پست اور گھٹیا کہ اُن کی آمیزش سے ان قصوں کے سارے اخلاقی فوائد برباد ہو کر رہ گئے۔ بدقسمتی سے قصص القرآن کی تفسیروں میں یہی اسرائیلیات کثرت سے رائج ہو گئے ہیں، اور قرآن کا مطالعہ کرنے والوں کو اکثر شبہات انھی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔

اسی قصۂ سلیمان علیہ السلام و ملکہ سبا کو دیکھ لیجیے۔ قرآن کے صاف اور سادہ بیان میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی سیرتِ پاک کا کتنا اچھا نقشہ کھینچا گیا ہے مگر اسرائیلی مذاق کی کارفرمائی نے اس کی اہم خصوصیات میں سے ایک ایک کو مٹا کر چھوڑا، اور اس کو اپنے بلند مقام سے گرا کر ایسی پستی میں پھینک دیا کہ اس میں کوئی تعلیمی روح باقی ہی نہ رہی، بلکہ پڑھنے والا اگر اس روشنی میں اس قصے کو پڑھے تو اس کو تعجب ہوگا کہ قرآن میں اس قصے کی ضرورت ہی کیا تھی۔

ملکہ سبا کے ہدیے کو واپس کرنے کی وجہ اوپر بیان ہو چکی ہے، مگر اسرائیلی مذاق نے اس کی جو توجیہہ کی ہے، وہ بھی سنئے :

ملکہ نے دوسو غلاموں اور دوسو لونڈیوں کو ایک سا لباس پہنا کر بھیجا تھا جس میں تمیز نہ ہوتی تھی کہ غلام کون ہے اور لونڈی کون۔ وہ اس سے حضرت سلیمان علیہ السلام کی عقل کا اندازہ کرنا چاہتی تھی۔ حضرت سلیمانؑ کے پاس یہ جماعت پہنچی تو انھوں نے لونڈیوں کو الگ اور غلاموں کو الگ کر دیا اور کہا کہ ان کو لے جاؤ، ایسا ہدیہ تمہی کو مبارک رہے۔ اس توجیہہ کے بعد اب ذرا پھر حضرت سلیمان کے جواب پر ایک نظر ڈالیے۔ کیا اب بھی اس میں کوئی جان، کوئی بلند اخلاقی رُوح باقی رہ جاتی ہے۔

تخت اُٹھوا کر منگوانے کی مصلحت بھی آپ کو اوپر معلوم ہو چکی ہے۔ اب ذرا اس کی توجیہہ کو بھی دیکھیے جو اسرائیلیات کے زیرِاثر کی گئی ہے۔ ہُدہُد نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے سبا کے تختِ شاہی کی بڑی تعریف کی تھی۔ سارا تخت سونے اور بیش قیمت جواہرات کا بنا ہوا ہے۔ کاریگری کا عجیب نمونہ ہے۔ ایک بے بہا چیز ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام ان تعریفوں کو سُن کر بے تاب ہو گئے۔ جب انھیں معلوم ہوا کہ فوج ملکۂ سبا اور اعیانِ سلطنت کو لیے آتی ہے تو انھیں خیال ہوا کہ اگر یہ لوگ مسلمان ہو گئے یا انھوں نے اطاعت قبول کر لی تو پھر یہ چیز ہاتھ نہ آسکے گی۔ لہٰذا انھوں نے حکم دیا کہ ان کے آنے سے پہلے تخت یہاں لے آؤ، <<انا للہ وانا الیہ راجعون>>!

کہاں وہ پاک نیت اور کہاں یہ طمع وحرص! کس بلندی سے کس پستی میں اس واقعے کو پھینکا گیا ہے۔

تخت کو ملکہ کے سامنے پیش کرنے کا اصل مقصد تو یہ بتانا تھا کہ تو جس متاع عزیز کو قفلوں میں بند کر کے بڑے چوکسی پہروں میں رکھ آئی تھی وہ یہاں حاضر ہے۔ یہ الٰہی علم کی طاقت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے اور تیری آنکھوں کے سامنے ہے۔ دلائل عقلی کے ساتھ اس دلیل مادی کو محض اس لیے پیش کیا گیا تھا کہ کسی طرح اس عورت کو ہدایت نصیب ہو جائے۔ خود حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس فعل کی غرض یہی بتائی ہے کہ << نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ >> (النمل 41:27) مگر ایسی کھلی ہوئی بات بھی افسانہ طلب حضرات کے ذہن کی رسائی سے بالاتر ثابت ہوئی۔ انھوں نے تخت کو پیش کرنے کی توجیہہ یہ کی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اس کی عقل کا امتحان لینا چاہتے تھے، اس لیے تخت کی ساخت میں کچھ ترمیم کرا دی اور اس کے سامنے رکھوا دیا، یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ اس کو پہچانتی ہے یا نہیں۔ انبیا کے کاموں کو جب عامیانہ نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے تو وہ اسی طرح بلند مقاصد اور اعلیٰ درجے کے مصالح وحکم سے خالی نظر آتے ہیں۔

سب سے زیادہ رکیک بات جو اس سلسلے میں کہی گئی ہے وہ شیش محل میں ملکہ سبا کی حاضری کے متعلق ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہوا ہے کہ حضرت سلیمان نے ملکہ کے سامنے اس کا تخت پیش کرنے کے بعد اسے اپنا شیش محل دکھایا جس کا فرش بھی شیشے یا بلور کا تھا۔ ملکہ جب وہاں پہنچی تو شیشے کے فرش کو پانی سمجھ کر اپنے پائنچے اٹھانے لگی۔ حضرت سلیمان نے کہا کہ یہ شیشے کا فرش ہے۔ اب ملکہ کی آنکھیں پوری طرح کھل گئیں۔ اُس کے دل نے گواہی دی کہ جس شخص کے پاس اتنی بڑی سلطنت ہے، اتنی دولت ہے، اس قدر اسباب عیش ونعمت ہیں، ایسی غیر معمولی طاقتیں ہیں کہ چشم زدن میں خود میرا تخت ہزاروں میل سے اٹھوا منگاتا ہے اور پھر ان سب چیزوں کے باوجود اس کے اخلاق کا، اس کی طہارتِ نفس، اس کے تقویٰ اور خلوص وللہیت کا یہ حال ہے، وہ یقیناً ایک سچا آدمی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کے دعوائے نبوت کی تکذیب کی جائے، اسی لیے وہ بے اختیار پکار اُٹھی کہ << رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ>> (النمل 44:27) اے پروردگار! میں نے اپنے اوپر ظلم کیا کہ اب تک تجھے چھوڑ کر آفتاب کی پرستش کرتی رہی۔ اب میں سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ اُس اللہ کی بندگی اختیار کرتی ہوں جو سارے جہان کا رب ہے۔ یہ تو ہے قرآن کا بیان، مگر اب ذرا اسرائیلی مذاق کی تفسیر دیکھیے جو شیاطین اور جن حضرت سلیمان علیہ السلام کے تابع فرمان تھے انھیں خوف ہوا کہ حضرت کہیں ملکہ سبا پر ریجھ نہ جائیں، اس لیے انھوں نے کہا کہ یہ عورت ایک جنی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوئی ہے اور اس کے پاؤں انسان کے سے پاؤں نہیں بلکہ گدھی کے سے کھر ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس بیان کی حقیقت معلوم کرنے کے لیے حکم دیا کہ ایک شیش محل بنایا جائے جس کا فرش بھی شیشے کا ہو اور اس فرش کے نیچے پانی بھر دیا جائے۔ مقصد یہ تھا کہ ملکہ جب وہاں داخل ہوگی تو پانی دیکھ کر اپنے پائنچے اُٹھا لے گی، اور یوں اس کی پنڈلیاں دیکھنے کا موقع مل جائے گا۔نَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ ذٰلِكَ۔ یہ ایک نبی کا قصہ ہے یا کسی نفس پرست اور دنی الطبع بادشاہ کا؟

یہ چند نمونے ہیں جن سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اسرائیلی مذاق اور اسرائیلی ذہنیت نے توریت کی تعلیمات کو مسخ کرنے کے بعد قرآن کی تعلیمات کو بھی مسخ کرنے، اور انبیا علیہم السلام کی پاک زندگیوں پر اپنے تخیل کے سیاہ دھبے ڈالنے میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی تھی، مگر خدا کا شکر ہے کہ اُس نے قرآن کو اس کے اصل الفاظ میں محفوظ کر دیا ہے جن کی طرف رجوع کر کے ہر صاحب نظر انسان حقیقت کو افسانوں سے الگ کرسکتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص قرآن کی موجودگی میں بھی اسرائیلیات سے شغف رکھے اور انھی کے افسانوں کو قرآن کی تعبیر و تفسیر کا ذریعہ سمجھتا رہے تو یہ اس کی اپنی غلطی ہے۔

ترجمان القرآن

ربیع الثانی ۱۳۵۵ھ ۔ جولائی ۱۹۳۶ء