مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

غلاموں اور لونڈیوں کے متعلق چند سوالات

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ مضمون اس سوال کے جواب میں لکھا گیا ہے کہ اسلامی شریعت میں نکاح کے لیے تو چار بیویوں کی حد مقرر ہے، مگر لونڈیوں کے لیے کوئی تعداد کی قید نہیں رکھی گئی، اور کیا اس اجازت نے چار کی حد کے فوائد کو زائل نہیں کر دیا۔

مولانا مودودی جواب میں یہ بتاتے ہیں کہ لونڈیوں سے تمتع کی اجازت دراصل جنگی قیدیوں کی غیر متعین تعداد سے پیدا ہونے والی تمدنی ضرورت کے تحت دی گئی تھی، اور چونکہ کسی خاص وقت میں کتنی عورتیں اسیرانِ جنگ کی حیثیت سے دارالاسلام میں آئیں گی اس کا تعین ممکن نہیں تھا، اس لیے اس معاملے میں تعداد کی کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی تھی، جب کہ نکاح میں چونکہ آدمی کا اپنا اختیار اور ارادہ کارفرما ہوتا ہے وہاں حد مقرر کرنا ممکن تھا۔

غلاموں اور لونڈیوں کے متعلق چند سوالات

سوال: اسلامی شریعت میں نکاح کے لیے تو چار کی حد مقرر ہے کہ ایک وقت میں آدمی چار بیویوں سے زیادہ نہیں رکھ سکتا، لیکن لونڈیوں کے لیے کوئی حد سرے سے رکھی ہی نہیں گئی، اس کی کیا وجہ ہے؟ بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس اجازت نے چار کی حد مقرر کرنے کے سارے فوائد کو باطل کر دیا۔ اس نے خوش حال لوگوں کے لیے بے تحاشا عیاشی کا دروازہ کھول دیا۔ امرا اور رُوسا کے لیے یہ گنجائش نکال دی کہ بے شمار عورتوں کو خرید خرید کر گھروں میں ڈال لیں اور خوب دادِ عیش دیں۔ یہ محض مفروضہ ہی نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی پچھلی تاریخ میں عملاً یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔ کیا آپ اس کی کوئی معقول توجیہہ کر سکتے ہیں؟

جواب: آپ کے سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ لونڈیوں سے تمتع کی اجازت جن اہم تمدنی مصالح کی بنا پر دی گئی ہے، وہ تعداد کے تعین سے فوت ہو جاتے ہیں۔ اس امر کا تعین نہیں کیا جا سکتا کہ کس زمانے اور کس لڑائی میں کتنی عورتیں سبایا کی حیثیت سے دارالاسلام میں آئیں گی اور ایک خاص وقت میں مسلمان آبادی کے اندر سبایا کا تناسب کس قدر ہوگا۔ اب اگر تمتع کی اجازت دینے کا مقصد ہی عورتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے تمدنی خطرات کا سدِّ باب تھا، تو آپ خود غور کیجیے کہ اضافے کی مقدار متعین نہ ہونے کی صورت میں تمتع کی حد کا تعین آخر کس طرح کیا جاسکتا تھا۔ جس حکیم نے یہ قانون بنایا ہے، وہ یک چشم نہیں ہے کہ ایک وقت میں معاملے کے ایک ہی رُخ کو دیکھ سکتا ہو۔ اس کی حاوی نگاہ بیک وقت تمام پہلوؤں پر پڑتی ہے۔ اس لیے اس سے وضع قانون میں وہ بے اعتدالی صادر نہیں ہوئی، جس کے صادر نہ ہونے کی شکایت انسان نے اکثر اس سے کی ہے۔

رہا آپ کا یہ شبہ کہ لونڈیوں کی ان گنت تعداد سے تمتع کرنے کی اجازت جنسی آوارگی کا دروازہ کھولتی ہے اور یہ کہ لونڈیوں کے قابلِ بیع وشرا ہونے کی وجہ سے اس کا امکان ہے کہ مال دار لوگ لونڈیاں خرید خرید کر عورتوں کا ایک پورا بیڑا فراہم کرلیں اور اپنے گھروں کو عیاشی کا اڈا بنا کر رکھ دیں، تو یہ اور اس نوعیت کے اکثر شبہات عموماً اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ معاملے کا ایک ہی پہلو نگاہ کے سامنے ہوتا ہے اور دوسرے پہلو چھپے رہتے ہیں۔ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے کہ شارع نے اپنا قانون انسان کی بھلائی کے لیے بنایا ہے اور اس قانون میں جو سہولتیں اور گنجائشیں رکھی ہیں، وہ ان حقیقی ضرورتوں کے لیے رکھی ہیں جو عموماً انسان کو پیش آتی ہیں یا پیش آسکتی ہیں۔ اگر بعض لوگ ان گنجائشوں سے اس قسم کے غلط فائدے اٹھاتے ہیں جن کے لیے دراصل شارع نے یہ گنجائشیں نہیں رکھی تھیں، تو یہ اُن کی اپنی نافہمی ہے یا شرارتِ نفس، لیکن اس قسم کی انفرادی غلطیوں کے امکان یا وقوع سے ڈر کر قانون میں ایسی تنگی پیدا کرنا جس سے عام لوگوں کی حقیقی ضرورتیں پوری ہونے میں مشکلات واقع ہوں، کسی حکیم کا کام نہیں ہو سکتا۔

شارع نے لونڈیوں کی غیر محدود تعداد سے تمتع کی اجازت اس لیے نہیں دی تھی کہ ایک ایک مسلمان اپنے گھر میں راجہ اندر بن جائے اور بے شمار عورتوں کے جھرمٹ میں بس رات دن دادِ عیش ہی دیتا رہے بلکہ دراصل مقصد یہ تھا کہ اگر کبھی غیر معمولی حالات پیش آ جانے کی وجہ سے سوسائٹی میں عورتوں کی تعداد یکا یک بہت بڑھ جائے تو اس کو آسانی کے ساتھ جذب کیا جاسکے، اور اس کی بدولت اخلاقی مفاسد نہ پھیلنے پائیں۔ اس غرض کے لیے کئی صورتیں رکھی گئیں۔ مثلاً یہ کہ لونڈیوں کے نکاح غلاموں سے کر دیے جائیں۔ لونڈیوں کے نکاح کم استطاعت مردوں سے کر دیے جائیں۔ لونڈیوں کو آزاد کر کے خود مالک ان سے نکاح کرلیں۔ جن لوگوں کے پاس لونڈیاں ہوں وہ خود آزاد کیے بغیر ہی ان سے تمتع کریں۔

اسی طرح لونڈیوں کی بیع وشرا کو جائز کرنے کا مقصد بھی یہ نہیں تھا کہ آوارہ مزاج لوگ محض عیاشی کی خاطر بہت سی لونڈیاں خرید خرید کر جمع کر لیا کریں، اور جب دل بھر جائے تو انھیں بیچ کر دوسرا بیڑا بھرتی کرلیں بلکہ دراصل یہ سہولت ان ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر دی گئی تھی جو عموماً انسان کو پیش آتی ہیں، مثلاً ایک شخص مفلس ہو گیا ہے اور لونڈی غلام رکھنے کی استطاعت اس میں نہیں رہی ہے۔ یا اس کے پاس ضرورت سے زائد لونڈی غلام جمع ہو گئے ہیں۔ یا ان میں سے کسی کو وہ پسند نہیں کرتا۔ کیا ان حقیقی ضرورتوں کو نظر انداز کر کے محض اس خوف سے لونڈیوں اور غلاموں کی خرید و فروخت ممنوع کر دی جاتی کہ بعض لوگ اس قانونی حق سے ناجائز فائدہ اٹھائیں گے؟ ایسی برائیوں کے امکانات تو خود نکاح و طلاق کے قانون میں بھی ہیں۔ اگر کوئی شریر آدمی ”جائز زنا کاری“ پر اتر آئے تو وہ روز ایک نئی عورت سے چند روپوں پر نکاح کر سکتا ہے اور دوسرے دن اسے طلاق دے کر کسی دوسری عورت کو تلاش کر سکتا ہے۔ پھر کیا ایسی انفرادی شرارتوں کے خوف سے یہ صحیح ہوگا کہ طلاق اور نکاح کے قانون میں ایسی بندشیں بڑھا دی جائیں جن سے عام لوگوں کی زندگی تنگ ہو جائے۔

(ترجمان القرآن، مئی جون ۱۹۴۰ء۔ ربیع الاول، ربیع الثانی ۱۳۵۹ھ)

(۳)

سوال: (۱) کیا نظامِ شریعت میں جنگ کے قیدیوں کو غلام اور لونڈی بنانے کی اجازت ہو گی؟ کیا ان غلاموں اور لونڈیوں کو فروخت کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا؟ کیا ان لونڈیوں سے بیویوں کے علاوہ تمتع جائز ہوگا اور اس پر تعداد کی کوئی قید نہ ہوگی؟

(۲) کیا اس نظامِ شریعت میں لونڈی و غلام کی خرید و فروخت (علاوہ ان لونڈی و غلام کے جو جنگی قیدی ہوں) بھی پاکستان کے اندر جائز ہوگی جس طرح آج کل حجاز میں بردہ فروشی ہوتی ہے؟

جواب: نظامِ شریعت میں جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے کی اجازت ایسی حالت میں دی گئی ہے جب کہ وہ قوم جس سے ہماری جنگ ہو نہ قیدیوں کے تبادلے پر راضی ہو، نہ فدیہ لے کر ہمارے قیدی چھوڑے، اور نہ فدیہ دے کر اپنے قیدی چھڑائے۔ آپ خود غور کریں تو سمجھ سکتے ہیں کہ اس صورت میں جو قیدی کسی حکومت کے پاس رہ جائیں وہ یا تو انھیں قتل کرے گی، یا انھیں عمر بھر اس قسم کے ”انسانی باڑوں“ میں رکھے گی جنھیں آج کل concentration camps کہا جاتا ہے۔ اور کسی قسم کے انسانی حقوق دیئے بغیر ان سے جبری محنت لیتی رہے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ صورت بے رحمانہ بھی ہے اور خود اُس ملک کے لیے بھی کچھ بہت مفید نہیں ہے، جس میں اس طرح کے قیدیوں کی ایک بڑی تعداد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک خارجی عنصر کی حیثیت سے موجود رہے۔ اسلام نے ایسے حالات کے لیے جو شکل اختیار کی ہے، وہ یہ ہے کہ ان قیدیوں کو فرداً فرداً مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ان کی ایک قانونی حیثیت مشخص کر دی جائے مگر اس طرح جو انفرادی رابطہ ایک ایک قیدی کو ایک ایک مسلم خاندان سے پیدا ہو گا، اس میں اس امر کا امکان زیادہ ہے کہ ان سے انسانیت اور شرافت کا برتاؤ ہو اور ان کا ایک اچھا خاصا حصہ بتدریج مسلمانوں کی سوسائٹی میں جذب ہو جائے۔

جن مسلمانوں کو ایسے اسیرانِ جنگ پر حقوقِ ملکیت حاصل ہوتے ہیں، اُن کے لیے شریعت نے یہ ضابطہ مقرر کیا ہے کہ اگر کوئی لونڈی یا غلام اپنے مالک سے درخواست کرے کہ میں محنت مزدوری کر کے اپنے فدیے کی رقم فراہم کرنا چاہتا ہوں، تو مالک اس کی درخواست کو رَدّ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ اسے ازروئے قانون ایک خاص مدت تک کے لیے اس کو مہلت دینی ہو گی اور اس مدت میں اگر وہ فدیے کی رقم ادا کرے تو اسے آزاد کر دینا پڑے گا [ سورۂ نور، رکوع ۴ میں ہے: <<وَالَّذِيْنَ يَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِيْهِمْ خَيْرًا>> النور 33:24]

اس قسم کے لونڈی غلاموں کو بیچنے کی اجازت دراصل اس معنی میں ہے کہ ایک شخص کو اُن سے فدیہ وصول کرنے، اور فدیہ وصول نہ ہونے تک ان سے خدمت لینے کا جو حق حاصل ہے، اس کو وہ معاوضہ لے کر دوسرے شخص کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔ قانون میں یہ گنجائش جس مصلحت سے رکھی گئی ہے اس کو آپ پوری طرح اُسی صورت میں سمجھ سکتے ہیں جبکہ دشمن فوج کے کسی سپاہی کو بطور قیدی رکھنے کا آپ کو اتفاق ہوا ہو۔ فوجی سپاہیوں سے خدمت لینا کوئی آسان کام نہیں ہے، اور اسی طرح دشمن قوم کی کسی عورت کو گھر میں رکھنا بھی کوئی کھیل نہیں ہے، اگر کسی شخص کے لیے یہ گنجائش نہ چھوڑی جاتی کہ جس قیدی مرد یا عورت سے وہ عہدہ برآ نہ ہو سکے اس کے حقوق ملکیت کسی دوسرے کی طرف منتقل کر دے تو یہ لوگ جس کے بھی حوالے کیے جاتے ، اس کے حق میں بلائے جان بن جاتے۔

جنگ میں گرفتار ہونے والی عورتوں کے لیے (جبکہ نہ ان کا تبادلہ ہوا ہو اور نہ فدیے کا معاملہ ہی طے ہو سکے) اس سے بہتر حل اور کیا ہو سکتا ہے کہ جو عورت حکومت کی طرف سے جس شخص کی ملکیت میں دی جائے ، اُس کے ساتھ اُس شخص کو جنسی تعلقات قائم کرنے کا قانونی حق دے دیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو یہ عورتیں ملک میں بد اخلاقی پھیلنے کا ایک مستقل ذریعہ بن جاتیں۔ قانونی حیثیت سے ملک یمین اور عقدِ نکاح میں کوئی خاص فرق نہیں ہے، بلکہ اس صورت میں تو خود حکومت باقاعدہ طریقے سے ایک عورت کو ایک مرد کے حوالے کرتی ہے۔ پھر جو معاشرتی حیثیت ان عورتوں کو شریعت میں دی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ کسی شخص کی ملکِ یمین میں جانے کے بعد اس عورت کے ساتھ کسی دوسرے شخص کو جنسی تعلق رکھنے کا حق نہیں ہوتا ۔ جو اولاد اس سے ہو، اس کا نسب اُسی شخص سے ثابت ہوتا ہے اور وہ اپنے باپ کی اسی طرح جائز وارث ہوتی ہے ، جس طرح کسی آزاد بیوی کی اولاد ۔ جس لونڈی سے اولاد ہو جائے اسے بیچنے کا مالک کو حق نہیں رہتا اور مالک کے مرنے کے بعد وہ خود بخود آزاد ہو جاتی ہے۔

لونڈیوں سے تمتع کے لیے تعداد کی قید اس لیے نہیں لگائی گئی کہ اُن عورتوں کی تعداد کا کوئی تعین ممکن نہیں ہے جو کسی جنگ میں گرفتار ہو کر آ سکتی ہیں ۔ بالفرض اگر ایسی عورتوں کی بہت بڑی تعداد جمع ہو جائے تو سوسائٹی میں انھیں کھپانے کی کیا تدبیر ہو سکتی ہے، جب کہ لونڈیوں سے تمتع کے لیے تعداد کا تعین پہلے ہی کر دیا گیا ہو؟

بعد کے زمانے میں امرا و رؤسا نے اس قانونی گنجائش کو جس طرح عیاشی کا حیلہ بنالیا، وہ ظاہر ہے کہ شریعت کے منشا کے خلاف تھا۔ کوئی رئیس اگر عیاشی کرنا چاہے اور قانون کے منشا کے خلاف قانون کی گنجائشوں سے فائدہ اُٹھانے پر اتر آئے تو نکاح کا ضابطہ ہی کب اس کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہے۔ وہ روز ایک نئی عورت سے نکاح کر سکتا ہے اور دوسرے دن اسے طلاق دے سکتا ہے۔

حجاز میں جو بردہ فروشی آج کل ہوتی ہے اس کی تفصیل مجھے نہیں معلوم، لیکن اصولی طور پر میں یہ عرض کر سکتا ہوں کہ جنگ کے سوا کسی طریقے سے آزاد انسانوں کو پکڑنا اور ان کی خرید و فروخت کرنا شریعت میں حرام ہے [ غلامی کے مسئلے پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ہماری کتاب رسائل و مسائل اور تفہیم القرآن جلد اوّل].

ترجمان القرآن

(ذی القعدہ ۱۳۵۷ھ۔ ستمبر ۱۹۳۸ء)