مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

ایک نہایت اہم استفتاء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ کتاب، جس کا عنوان "ایک نہایت اہم استفتاء" ہے، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی قلمی تحریر ہے جو ایک خاص فقہی سوال کے تناظر میں لکھی گئی ہے، لیکن اس کی اہمیت صرف اس فردی مسئلہ تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ اسلامی نظامِ حکومت، شریعت کی بالادستی، اور غیر اسلامی عدالتی نظام کے مقابلے میں ایک بنیادی اصولی موقف کا اظہار کرتی ہے۔ کتاب کا آغاز ایک استفتاء کے ذریعے ہوتا ہے جو دہلی سے بھیجا گیا تھا اور جس میں دریافت کیا گیا ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم حاکم یا ثالث (جیسے پنچایت) کسی مسلمان جوڑے کے نکاح کو فسخ کر دے یا عورت کے حق میں طلاق دے دے، تو کیا یہ فیصلہ شرعاً درست ہوگا؟ اور اگر عورت بعدِ عدت دوسرے مرد سے نکاح کر لے، تو کیا وہ نکاح درست ہوگا یا نہیں؟ اس کے ساتھ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ اگر یہ نکاح باطل ہو تو اس سے پیدا ہونے والی اولاد کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟

مولانا مودودی اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فوری طور پر اس کی بنیادی غلطی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سوال کرنے والے نے معاملہ صرف "غیر مسلم حاکم" یا "غیر مسلم ثالث" تک محدود کر دیا ہے، جبکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا وہ نظامِ عدل جو اللہ کے قانون سے بے تعلق ہو، انسانی ساختہ قوانین پر مبنی ہو، اور جو اللہ کی ذات کے بغیر خود کو حاکم سمجھتا ہو—کیا ایسا نظام شریعت کی نظر میں کسی بھی معاملے میں فیصلہ کرنے کا مجاز ہے؟

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

ایک نہایت اہم استفتاء

ہمارے پاس دہلی سے ایک صاحب نے ایک مطبوعہ استفتاء بھیجا ہے جس کا موضوع بجائے خود نہایت اہم ہے اور اس لحاظ سے اسکی اہمیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ہمارے اکابر علما اس مسئلہ کو غیر شرعی طریقہ پر حل کرنے کی طرف مائل نظر آتے ہیں۔ ذیل میں استفتاء اور اس کا جواب درج کیا جاتا ہے۔

"ماہرین علوم اسلامیہ و مفتیان شرع متین سے حسب ذیل سوالوں کا مدلل جواب کتاب و سنت اور فقہ کی روشنی میں جلد مطلوب ہے:

۱- اگر کوئی غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم ثالث و پنچ مسلمان مرد و عورت کے نکاح کو اسلامی احکام کے مطابق فسخ کر دے: یا غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم ثالث و پنچ عورت پر مرد کا ظلم ثابت ہو جانے کی صورت میں مرد کی طرف سے عورت کو طلاق دیدے جیسا کہ بعض صورتوں میں مسلمان قاضی کو یہ حق حاصل ہے تو کیا یہ نکاح فسخ ہو جائیگا اور عورت پر طلاق واقع ہو جائیگی اور عورت کو شرعاً یہ حق حاصل ہو جائے گا کہ وہ غیر مسلم کے فسخ کردہ نکاح اور ایقاع طلاق کو شرعاً درست سمجھ کر بعد عدت یا جیسی صورت ہو دوسرے مسلمان مرد سے نکاح کر سکتی ہے؟

۲- اگر سوال مذکورۃ الصدر کا جواب نفی میں ہو، یعنی شرعاً غیر مسلم کے حکم فسخ نکاح اور ایقاع طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور غیر مسلم کے فسخ نکاح یا ایقاع طلاق کے بعد بھی وہ عورت شوہر اوّل کی زوجیت میں باقی رہتی ہے تو اس صورت میں جو عورت دوسرے مرد سے نکاح کر یگی، اور اس دوسرے مرد کو یہ علم بھی ہو کہ اس عورت نے غیر مسلم ثالث و پنچ کے ذریعہ سے طلاق حاصل کی ہے، تو وہ نکاح باطل و فاسد ہوگا یا نہیں؟ اور دوسرے مرد سے نکاح کے باوجود اس عورت کا دوسرے مرد سے زن و شوہر کا تعلق رکھنا حرام ہوگا یا نہیں؟ اور وہ دونوں شرعاً زنا کے مرتکب سمجھے جائیں گے یا نہیں؟

۳- اور دوسرے مرد سے نکاح باطل ہونے کی صورت میں جب اس دوسرے مرد سے کوئی اولاد ہوگی تو وہ ولد الحرام ہوگی یا نہیں؟ اور یہ اولاد اس دوسرے مرد کے ترکہ سے محروم ہوگی یا نہیں؟

مہربانی فرما کر ان سوالوں کے جواب نمبردار مدلّل تحریر فرمائیے" الخ

جواب:

اس سوال میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ صرف غیر مسلم حاکم یا غیر مسلم ثالث و پنچ کے بارے میں سوال کیا گیا ہے۔ حالانکہ سوال یہ کرنا چاہیئے تھا کہ جو خدا نظام خدا سے بے نیاز ہو کر انسان نے خود قائم کر لیا ہو اور جسکے فیصلے انسانی ساخت کے قوانین پر مبنی ہوں، اُسکو خدا کا قانون جائز تسلیم کرتا ہے یا نہیں۔ اسکے ساتھ ضمنی غلطی یہ بھی ہے کہ سوال صرف فسخ و تفریق کے معاملات کے متعلق کیا گیا ہے، حالانکہ اصولی حیثیت سے ان معاملات کی نوعیت دوسرے معاملات سے مختلف نہیں ہے۔

صرف نکاح و طلاق ہی کے معاملہ میں نہیں بلکہ جملہ معاملات میں غیر اسلامی عدالت کا فیصلہ اسلامی شریعت کی رو سے غیر مسلم ہے۔ اسلام نہ اس حکومت کو تسلیم کرتا ہے جو اصل مالک الملک یعنی اللہ سے بے تعلق ہو کر آزادانہ وجود مختارانہ قائم ہوئی ہو، نہ اس قانون کو تسلیم کرتا ہے جو کسی فرد یا انسانوں کی کسی جماعت نے بطور خود بنا لیا ہو، نہ اس عدالت کے حق سماعت و فصل خصومات کو تسلیم کرتا ہے جو اصل مالک فرمانروا کے ملک میں اسکی اجازت (SANCTION) کے بغیر اس کے باغیوں نے قائم کر لی ہو۔ اسلامی نقطہ نظر سے ایسی عدالتوں کی حیثیت وہی ہے جو انگریزی قانون کی رو سے ان عدالتوں کی قرار پاتی ہے جو برطانوی سلطنت کے حدود میں ”تاج“ کی اجازت کے بغیر قائم کی جائیں۔ ان عدالتوں کے جج، اُنکے کارندے اور وکیل اور اُن سے فیصلہ کرانے والے جس طرح انگریزی قانون کی نگاہ میں باغی و مجرم اور سزائے خود مستلزم سزا ہیں، اُسی طرح اسلامی قانون کی نگاہ میں وہ پورا عدالتی نظام مجرمانہ و باغیانہ ہے جو بادشاہ ارض سما کی مملکت میں اسکے ”سلطان“ (چارٹر) کے بغیر قائم کیا گیا ہو اور جس میں اسکے منظور کردہ قوانین کے بجائے کسی دوسرے کے منظور کردہ قوانین پر فیصلہ کیا جاتا ہو تو ایسا نظام عدالت مجرم جسم ہے۔ اس کے جج مجرم ہیں، اس کے کارکن مجرم ہیں، اس کے وکیل مجرم ہیں، اس کے سامنے اپنے معاملات لیجانے والے فریقین مجرم ہیں، اور اس کے جملہ احکام قطعی طور پر کالعدم ہیں۔ اگر ان کا فیصلہ کسی خاص معاملہ میں شریعت اسلامی کے مطابق ہو تب بھی وہ فی الاصل غلط ہے۔ کیونکہ بغاوت اُسکی جڑ میں موجود ہے۔ بالفرض اگر وہ جج کا ہاتھ کاٹیں، زانی پر سنگسار پر کوڑے یا رجم کی سزا نافذ کریں، شرابی پر حد جاری کریں، تب بھی شریعت کی نگاہ میں چور، زانی اور شرابی اپنے جرم سے اس سزا کی بنا پر پاک نہ ہونگے، اور خود یہ عدالتیں، بغیر کسی حق کے ایک شخص کا ہاتھ کاٹنے یا اس پر کوڑے یا پتھر برسانے کی مجرم ہونگی، کیونکہ انہوں نے خدا کی رعیت پر وہ اختیار استعمال کیئے جو خدا کے قانون کی رُو سے انکو حاصل نہ تھے۔

ان عدالتوں کی یہ شرعی حیثیت اس صورت میں بھی علیٰ حالہ قائم رہتی ہے جبکہ غیر مسلم کے بجائے کوئی نام نہاد مسلمان انکی کرسی پر بیٹھا ہو۔ خدا کی باغی حکومت سے فیصلہ نافذ کرنے کے اختیارات لے کر جو شخص مقدر، ت کی مسند عدت کرتا ہے، اور جو انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کی رُو سے احکام جاری کرتا ہے وہ کم از کم جج کی حیثیت سے تو مسلمان نہیں ہے بلکہ خود باغی کی حیثیت رکھتا ہے، پھر بھلا اسکے احکام کالعدم ہونے سے کس طرح محفوظ رہ سکتے ہیں؟

یہی قانونی پوزیشن اس صورت میں بھی قائم رہتی ہے جبکہ حکومت جمہوری ہو اور اس میں مسلمان شریک ہوں۔ خواہ مسلمان کسی جمہوری حکومت میں قلیل التعداد ہوں یا کثیر التعداد، یا وہ ساری آبادی مسلمان ہو جس نے جمہوری اصول پر نظام حکومت قائم کیا ہو، بہر حال جس حکومت کی بنیاد اس نظریہ پر ہو کہ اہلِ ملک خود مالک الملک (Sovereign People) ہیں اور ان کو خود اپنے لئے قانون بنا لینے کا اختیار حاصل ہے، اُس کی حیثیت اسلام کی نگاہ میں بالکل ایسی ہے جیسے کسی بادشاہ کی رعیت اس کے خلاف علم بغاوت بلند کرے اور اس کے بالمقابل اپنی خود مختارانہ حکومت قائم کرلے۔ جس طرح ایسی حکومت کو اس بادشاہ کا قانون کبھی جائز تسلیم نہیں کرسکتا اسی طرح اس نوع کی جمہوری حکومت کو خدا کا قانون بھی تسلیم نہیں کرتا۔ ایسی جمہوری حکومت کے تحت جو عدالتیں قائم ہوگی، خواہ اسکے جج قومی حیثیت سے مسلمان ہوں یا غیر مسلم، اُسکے فیصلے بھی اسی طرح کالعدم ہونگے جس طرح کہ صورت اوّل و دوم میں بیان کئے گئے ہیں۔

یہ جو کچھ عرض کیا گیا ہے اس کی صحت پر پورا قرآن دلیل ہے۔ تاہم چونکہ سائل نے کتاب و سنت کی تصریحات کا مطالبہ کیا ہے اس لئے محض چند آیات قرآنی پیش کی جاتی ہیں:

۱- قرآن کی رو سے اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے۔ خلق اسی کی ہے۔ لہٰذا فطرۃً امر کا حق (RIGHT TO RULE) بھی صرف اسی کو پہنچتا ہے۔ اس کے ملک (DOMINION) میں، اس کی خلق پر، خود اس کے سوا کسی دوسرے کا امر جاری ہونا اور حکم چلنا بنیادی طور پر غلط ہے:۔

<<قُلِ اللَّهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِى الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ>> (آل عمران - ۳) کہو اے اللہ، مالک الملک! تو جس کو چاہے ملک دے اور جس سے چاہے چھین لے۔

<<ذٰلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ ۖ لَهُ الْمُلْكُ ۚ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِى الْمُلْكِ>> (بنی اسرائیل - ۱۲) وہ ہے اللہ تمہارا رب، ملک اسی کا ہے بادشاہی میں کوئی اس کا شریک (PARTNER) نہیں ہے۔

<<فَالْحُكْمَ لِلَّهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيرِ>> (المؤمن - ۳) لہٰذا حکم اللہ بزرگ و برتر ہی کے لئے خاص ہے۔

<<وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًا>> (الکہف - ۴) اور وہ اپنے حکم میں کسی کو اپنا حصہ دار نہیں بناتا۔

<<أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ>> (اعراف - ۷) خبردار! خلق اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے۔

<<يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ الْأَمْرِ مِن شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الْأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ>> (آل عمران - ۱۶) لوگ پوچھتے ہیں کیا امر میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے؟ کہہ دو کہ امر سارا اللہ کے لئے مخصوص ہے۔

۲- اس اصل الاصول کی بنا پر قانون سازی کا حق انسان سے بالکلیہ سلب کر لیا گیا ہے، کیونکہ انسان مخلوق اور رعیت ہے، بندہ اور محکوم ہے، اور اس کا کام صرف اس قانون کی پیروی کرنا ہے جو مالک الملک نے بنایا ہو۔ اس کے قانون کو چھوڑ کر جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو تسلیم کر کے اسکے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ طاغوت (باغی اور خارج از اطاعتِ حق) ہے، اور اس سے فیصلہ چاہنے والا اور اس کے فیصلہ پر عمل کرنے والا بھی بغاوت کا مجرم ہے:

<<وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هَذَا حَلَالٌ وَهَذَا حَرَامٌ>> (النحل - ۱۵) اور تم اپنی زبانوں سے جن چیزوں کا ذکر کرتے ہو انکے متعلق جھوٹ گھڑ کر یہ نہ کہہ دیا کرو کہ یہ حلال (LAWFUL) ہے اور یہ حرام (UNLAWFUL) ہے۔

<<اتَّبِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا مِنْ دُوْنِهِ اَوْلِيَآءَ>> (اعراف ۔ ۱) جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف اُتارا گیا ہے اسکی پیروی کرو اور اُس کے سوا دوسرے اولیاء (اپنے ٹھیرائے ہوئے کارسازوں) کی پیروی نہ کرو۔

<<وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللهُ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ>> (المائدة ۔ ۷۰) اور جو اس قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو ایسے تمام لوگ کافر ہیں۔

<<اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَحَاكَمُوْآ اِلَى الطَّاغُوْتِ وَقَدْ اُمِرُوْآ اَنْ يَّكْفُرُوْا بِهٖ>> (النساء ۔ ۹) اے نبیؐ! کیا تم نے نہیں دیکھا ان لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں اس ہدایت پر ایمان لانے کا جو تم پر اور تم سے پہلے کے انبیاء پر اتاری گئی ہے اور پھر چاہتے ہیں کہ اپنے معاملہ کا فیصلہ طاغوت سے کرائیں حالانکہ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ طاغوت سے کفر کریں (یعنی اس کے حکم کو تسلیم نہ کریں)۔

۳- خداوند عالم کی زمین پر صحیح حکومت اور عدالت صرف وہ ہے جو اس قانون کی بنیاد پر قائم ہو جو اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ سے بھیجا ہے۔ اسی کا نام خلافت ہے۔

<<وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللهِ>> (النساء - ۹) اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لئے بھیجا ہے کہ حکم الٰہی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔

<<اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللهُ>> (النساء - ۱۶) اے نبیؐ! ہم نے تمہاری طرف کتاب برحق نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان اس روشنی کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں دکھائی ہے۔

<<وَأَنِ احْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللهُ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ وَاحْذَرْهُمْ أَن يَفْتِنُوكَ عَن بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللهُ إِلَيْكَ .... أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ>> (المائده ۔ ۴)

اور یہ کہ تم ان کے درمیان حکومت کرو اس ہدایت کے مطابق جو اللہ نے اتاری ہے اور انکی خواہشات کی پیروی نہ کرو اور ہوشیار رہو کہ وہ تمہیں فتنہ میں مبتلا کر کے اس ہدایت کے کسی جزء سے نہ پھیر دیں جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کی ہے۔ ۔ ۔ ۔ کیا یہ لوگ جاہلیت کی حکومت چاہتے ہیں؟

<<يَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللهِ>> (ص ۔ ۲)

اے داؤد! ہم نے تم کو خلیفہ مقرر کیا ہے لہٰذا تم حق کے ساتھ لوگوں کے درمیان حکومت کرو اور اپنی خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ اللہ کے راستہ سے وہ تم کو بھٹکا لے جائیگی۔

۴- اس کے برعکس ہر وہ حکومت اور ہر وہ عدالت یا غیاثہ ہے جو خدا وند عالم کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کے لائے ہوئے قانون کے بجائے کسی دوسری بنیاد پر قائم ہو بلا لحاظ اس کے کہ تفصیلات میں ایسی حکومتوں اور عدالتوں کی نوعیتیں باہم کتنی ہی مختلف ہوں۔ ان کے تمام افعال بے اصل، بے وزن، اور باطل ہیں۔ ان کے حکم اور فیصلہ کے لئے سرے سے کوئی جائز بنیاد ہی نہیں ہے۔ حقیقی مالک الملک نے جب انہیں سلطان (CHARTER) عطا ہی نہیں کیا تو وہ جائز حکومتیں اور عدالتیں کس طرح ہو سکتی ہیں؟ وہ تو جو کچھ کرتی ہیں، خدا کے قانون کی رُو سے سب کا سب کالعدم ہے۔ اہل ایمان (یعنی خدا کی وفادار رعایا) اُن کے وجود کو بطور ایک خارجی واقعہ کے (DE FACTO) تسلیم کر سکتے ہیں، مگر بطور ایک جائز وسیلہ انتظام وفصل قضا یا کے (DE JURE) تسلیم نہیں کر سکتے۔ ان کا کام اپنے اصلی فرمانروا (اللہ) کے باغیوں کی اطاعت کرنا اور ان سے اپنے معاملات کا فیصلہ چاہنا نہیں ہے۔ اور جو ایسا کریں وہ ادعائے اسلام وایمان کے باوجود وفاداروں کے زمرہ سے خارج ہیں۔ یہ بات صریح عقل کے خلاف ہے کہ کوئی حکومت اپنی رعایا پر باغیوں کے اقتدار کو جائز رکھے اور اسے ان کا حکم ماننے کی اجازت دے۔

<<قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا>> اے نبیؐ ان سے کہو، کیا میں تمہیں بتاؤں کہ اپنے اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ ناکام نامراد کون ہیں؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جنکی پوری سعی بھٹک گئی (یعنی انسانی کوششوں کے فطری مقصود و منشائے الہی سے ہٹ کر دوسرے مقاصد کی راہ میں صرف ہوئی) اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم خوب کام کر رہے ہیں۔

<<أُولَٰئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا>> یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اور اسکی ملاقات (یعنی اس کے سامنے پیش ہونے) سے انکار کیا۔ سامنے حاضر ہو کو حساب دینے) کا عقیدہ قبول نہ کیا۔ اس لئے ان کے سب اعمال حبط (کالعدم) ہو گئے اور قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ (الکہف ۔ ۱۲)

<<تِلْكَ عَادٌ جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهٗ وَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ>> (ہود ۔ ۵)

یہ عاد ہیں جنہوں نے اپنے رب کے احکام ماننے سے انکار کیا اور اس کے رسولوں کی اطاعت نہ کی اور ہر جبار دشمن حق کے امر کا اتباع کیا۔

<<وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَا وَسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۠ئِهٖ فَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَآ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيْدٍ>> (ہود ۔ ۹)

اور ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات اور واضح و روشن سلطان کیساتھ فرعون اور اس کے اعیان ریاست کے پاس بھیجا مگر ان لوگوں نے (بجائے فرستادہ شخص کے بجائے) فرعون کے امر کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا امر درست نہ تھا (یعنی مالک الملک کے سلطان پر مبنی نہ تھا)۔

<<وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا>> (الکہف ۔40)

اور تو کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سے (یعنی اس حقیقت کے شعور و ادراک سے کہ ہم اسکے رب ہیں) غافل پایا اور جس نے اپنی خواہش نفس کی پیروی کی اور جس کا امر حق سے ہٹا ہوا ہے۔

<<قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا>> اے نبیؐ کہہ دے کہ میرے رب نے حرام کیا ہے فحش کاموں کو خواہ وہ کھلے ہوں یا چھپے اور معصیت کو، اور حق کے بغیر ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہو، اور اس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ (حاکمیت یا الوہیت میں) ان کو شریک کرو جن کے لئے اللہ نے کوئی سلطان نازل نہیں کیا ہے۔ (اعراف - ۴)

<<وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِيَّاهُ>> اور تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی بندگی کرتے ہو وہ تو محض نام ہیں جو تم نے اور تمہارے اگلوں نے رکھ لئے ہیں۔ اللہ نے ان کے لئے کوئی سلطان نازل نہیں کیا ہے۔ حکم صرف اللہ کے لئے خاص ہے۔ اس کا فرمان ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ بجا لاؤ۔ (یوسف - ۵)

<<وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ وَسَآءَتْ مَصِيْرًا>> اور جو کوئی رسولؐ سے جھگڑا کرے درآں حالیکہ اُسے راست اسکو دکھا دیا گیا، اور ایمانداروں کا رستہ چھوڑ کر دوسری راہ چلنے لگے اس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود مڑ گیا اور اُسے جہنم میں جھونکیں گے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ (النساء - ۱۸)

<<فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ>> پس تیرے ربّ کی قسم وہ ہرگز مومن نہ ہونگے جب تک کہ اے نبیؐ! تجھ کو اپنے باہمی اختلاف میں فیصلہ کرنے والا نہ تسلیم کریں۔ (النساء - ۹)

<<وَاِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَيْتَ الْمُنٰفِقِيْنَ يَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًا>> اور جب ان سے کہا گیا کہ آؤ اس حکم کی طرف جو اللہ نے اتارا ہے اور آؤ رسولؐ کی طرف تو تو نے منافقوں کو دیکھا کہ تجھ سے پھر اک رہے ہیں۔ (النساء - ۶۱)

<<وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِيْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ سَبِيْلًا>> اور اللہ نے کافروں (یعنی اپنی سلطنت کے باغیوں، کیلئے اہل ایمان (یعنی اپنی وفادار رعایا) پر کوئی راہ نہیں رکھی ہے۔ (النساء - 20)

یہ قرآن کے محکمات ہیں۔ ان میں کچھ بھی متشابہ نہیں ہے۔ اسلام کے نظام فکر، نظام اخلاق اور نظام تمدن کی بنیاد جس مرکزی عقیدہ پر رکھی گئی ہے وہی اگر متشابہ رہ جاتا تو قرآن کا نزول ہی معاذ اللہ بے کار ہوتا۔ اس لئے قرآن نے اس کو اتنے صاف اور قطعی طریقہ سے بیان کر دیا ہے کہ اس میں دورائیں ہونے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ اور قرآن کی ایسی تصریح کے بعد ہم کو ضرورت نہیں کہ حدیث یا فقہ کی طرف رجوع کریں۔

پھر جب کہ اسلام کی ساری عمارت ہی اس سنگ بنیاد پر کھڑی ہے کہ اللہ نے جس چیز کے لئے کوئی سلطان نہ اتارا ہو وہ بے اصل ہے اور اللہ کے سلطان سے بے نیاز ہو کر جو چیز بھی قائم کی گئی ہو اس کی قانونی حیثیت سراسر کالعدم ہے، تو کسی خاص معاملہ کے متعلق یہ دریافت کرنے کی کوئی حاجت نہیں رہتی کہ اس معاملہ میں بھی کسی غیر الہی حکومت کی عدالتوں کا فیصلہ شرعاً نافذ ہوتا ہے یا نہیں؟ جس بچے کا نطفہ ہی حرام سے قرار پایا ہو اس کے بارے میں یہ کب پوچھا جاتا ہے کہ اس کے ناخن یا اس کے بال بھی حرامی ہیں یا نہیں؟ خنزیر جب پورا کا پورا حرام ہے تو اس کی کسی خاص بوٹی کے متعلق یہ سوال کب پیدا ہوتا ہے کہ وہ بھی حرام ہے یا نہیں؟ پس یہ سوال کرنا کہ فسخ نکاح اور تفریق بین الزوجین اور ایقاع طلاق کے بارے میں غیر الہی عدالتوں کا فیصلہ نافذ ہوتا ہے یا نہیں، اسلام سے ناواقفیت کی دلیل ہے، اور اس سے زیادہ ناواقفیت کی دلیل یہ ہے کہ سوال صرف غیر مسلم ججوں کے بارے میں کیا جائے۔ گویا سائل کے نزدیک جو نام کے مسلمان غیر الہی نظام عدالت کے پرزوں کی حیثیت سے کام کر رہے ہوں ان کا فیصلہ تو نافذ ہو ہی جاتا ہوگا۔ حالانکہ خنزیر کے جسم کی کسی بوٹی کا نام ”بکرے کی بوٹی“ رکھ دینے سے نہ تو وہ بوٹی فی الواقع بکرے کی بوٹی بن جاتی ہے اور نہ حلال ہی ہو سکتی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ اسلام کے اس اصل الاصول کو تسلیم کرنے کے بعد غیر الہی حکومت کے تحت مسلمانوں کی زندگی مشکل ہو جاتی ہے۔ لیکن مسلمانوں کی زندگی کو آسان کرنے کے لئے اسلام کے اولین بنیادی اصول میں ترمیم نہیں کی جا سکتی۔ مسلمان اگر غیر الہی حکومتوں کے اندر رہنے کی آسانی چاہتے ہیں تو انہیں اصول اسلام میں ترمیم کرنے، یا بالفاظ دیگر اسلام کو غیر اسلام بنانے کا اختیار حاصل نہیں ہے، البتہ مرتد ہونے کا موقع ضرور حاصل ہے۔ کوئی چیز یہاں ارتداد سے مانع نہیں۔ شوخی سے اسلام کو چھوڑ کر کسی آسان طریق زندگی کو قبول کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ مسلمان رہنا ہی چاہتے ہیں تو اُن کے لئے صحیح اسلامی طریقہ یہ نہیں ہے کہ غیر الٰہی حکومت میں رہنے کی آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ایسے حیلے ڈھونڈتے پھریں، جو اسلام کے بنیادی اصولوں سے متعارض ہوں، بلکہ صرف ایک راستہ ان کے لئے کھلا ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ جہاں بھی وہ ہوں حکومت کے نظریہ کو بدلنے اور اصول حکمرانی کو درست کرنے کی سعی میں اپنی پوری قوت صرف کر دیں۔