دیہات میں نمازِ جمعہ اور مسلکِ حنفی
اشاعت: 1938ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مضمون "دیہات میں نمازِ جمعہ" کے موضوع پر پیش کردہ مسلکِ حنفی کی تعبیر پر دو بزرگوں کے اعتراضات کے جواب میں لکھا گیا ہے، جن کا کہنا تھا کہ یہ تعبیر مذاہبِ اربعہ میں سے کسی پر بھی منطبق نہیں ہوتی۔
مولانا مودودی فقہ حنفی کی معتبر کتابوں (مبسوط، فتح القدیر، شرح العنایہ) کے حوالوں سے فرضیتِ جمعہ اور اس کی شرائط کی تفصیل پیش کرتے ہیں، اور یہ دکھاتے ہیں کہ جس طرح فقہائے حنفیہ نے تاریخ میں شرطِ سلطان اور مصر کی تعریف میں حالات کے مطابق تدریجاً ترمیم کی ہے، اسی طرح دیہات میں جمعہ کے قیام کے لیے تجویز کردہ نیا نظام بھی اصولِ مذہبِ حنفی کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک جائز تطبیق ہے، محض فقہا کے فتاویٰ سے مختلف ہونا اسے حنفیت کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔
آخری تنقیح
اب میں آخری تنقیح کی طرف توجہ کرتا ہوں جس پر مسئلے کے تصفیے کا مدار ہے۔ اس تنقیح کے الفاظ پھر ایک مرتبہ ملاحظہ فرما لیجیے!
”کیا یہ جائز ہے کہ اس فرض کو ادا کرنے کے لیے ایک ایسا نظام اختیار کیا جا سکے جو فقہائے حنفیہ کے فتاویٰ سے چاہے مختلف ہو، مگر ان کے اصول کے خلاف نہ ہو“۔
اوپر میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اس سے یہ تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے۔ اگر شرطِ سلطان کو بالکل ساقط کر دینے اور مصر کی تعریفات میں پے در پے ترمیمات کرنے کے باوجود حنفیت کے دائرے سے کوئی شخص خارج نہیں ہوتا، تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس مذہب کے دائرے میں ادائے فرض کے کسی ایسے نظام کی گنجائش نہ ہو جو اصولِ مذہب حنفی پر پورا اترتا ہو۔ لہٰذا اب مجھ پر صرف اس امر کا بارِ ثبوت رہ جاتا ہے کہ جو نظام میں تجویز کر رہا ہوں، وہ اصولِ مذہب حنفی کے مطابق ہے۔
میں نے جہاں تک احکام پر غور کیا ہے، اس سے مجھے شریعت کا منشا یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمازِ جمعہ کو منتشر طور پر چھوٹے چھوٹے قریوں میں الگ الگ ادا کرنا مقاصدِ جمعہ کے لیے مفید نہیں ہے، اس لیے شارع نے حکم دیا کہ جمعہ ”مصر جامع“ میں ادا کیا جائے۔ ”مصر جامع“ کا لفظ خود اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ اس سے مراد کوئی ایسی بستی ہے جو چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو یک جا کرنے والی یا جامع الجماعات ہو، یعنی جہاں بہت سی چھوٹی بستیوں کے لوگ اکٹھے ہو کر جمعہ ادا کریں۔ اس غرض کے لیے دکانوں اور بازاروں، اور آبادی کی تعداد اور ایسی ہی دوسری چیزوں کو مصر کی جامعیت میں کوئی دخل نہیں ہے۔ نہ اقامتِ جمعہ سے ان اجزائے مصر کا براہِ راست کوئی تعلق ہے کہ جمعہ کی نماز اپنی صحت کے لیے بازار اور بہت سی دکانیں مانگتی ہو۔ اس کے لیے صرف ایک ایسی بستی کی ضرورت ہے جو مرکزی حیثیت رکھتی ہو تاکہ اطراف کے منتشر مسلمان وہاں مجتمع ہو جائیں۔ اگر کوئی بڑا شہر موجود ہو، جسے تمدن نے خود ہی ایک مرکزی حیثیت دے رکھی ہو تو بہت اچھا، ورنہ امامِ وقت جس بستی کو مناسب سمجھے ’مصر جامع‘ قرار دے کر اطراف کے لوگوں کو وہاں جمع ہونے کا حکم دے سکتا ہے۔
چنانچہ علامہ ابن ہمام، فتح القدیر میں لکھتے ہیں کہ: <<ولو مصر الامام موضعا وامرهم بالاقامة فيه جاز ولو منع اهل مصر ان يجمعوا لم يجمعوا ۔>> یعنی اگر امام کسی جگہ کو مصر ٹھہرا دے اور لوگوں کو وہاں جمع کرنے کا حکم دے تو وہاں نماز جائز ہے، اور اگر کسی مقام کے باشندوں کو جمعہ قائم کرنے سے منع کر دے تو ان کو قائم نہ کرنا چاہیے۔ (جلد اول ص ۴۰۹) لیکن اگر امام موجود نہ ہو تو جس طرح مسلمانوں کی تراضی سے جمعہ قائم ہوسکتا ہے، اور جس طرح ان کی تراضی سے قاضی مقرر ہوسکتا ہے، اسی طرح ان کی تراضی ، امام کی قائم مقام بن کر، کسی بستی کو ”مصر جامع“ بھی ٹھہرا سکتی ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس میں کون سی نص مانع ہے، یا یہ بات اصول میں سے کس اصول کے خلاف پڑتی ہے۔
مصر جامع کی شرط لگانے سے شارع کا منشا تو یہ تھا کہ دیہات کے لوگ فریضہ جمعہ کو منتشر طور پر ادا کرنے کے بجائے ایک مرکزی مقام پر مجتمع ہو کر ادا کریں، مگر نہ معلوم کن وجوہ سے اس شرط کے معنی بالکل الٹ دیے گئے اور دیہات کے لوگوں کو اجتماع کا حکم دینے کے بجائے اُلٹا فریضۂ جمعہ ہی سے سبکدوش کر دیا گیا۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہوئی کہ لفظ ”مصر“ سے علما کا ذہن ”شہر“ کے عرفی مفہوم کی طرف منتقل ہو گیا اور انھوں نے حدیث کا مطلب یہ سمجھا کہ جمعہ صرف شہروں میں قائم کیا جاسکتا ہے۔ پھر چونکہ شہر بہت دور دور ہوتے ہیں، اور مسافتِ بعیدہ طے کر کے ان کی طرف جانے سے آدمی مسافر کی تعریف میں آجاتا ہے، جس پر جمعہ از رُوئے نص فرض ہی نہیں ہے، اس لیے بات یہاں تک پہنچ گئی کہ مضافاتِ شہر کے سوا باقی تمام دیہات کے باشندوں پر سے فریضۂ جمعہ ساقط ہے۔ حالانکہ جس چیز کو قرآن اور احادیث مشہورہ اور سنت واجماع نے مسلمانوں پر فرضِ عین ٹھہرایا ہو، اسے دیہات کے رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کے لیے غیر فرض بنا دینا، اور وہ بھی ایک ضعیف الاسناد، مختلف فیہ اور مبہم المعنی حدیث کی بنا پر، کسی طرح مقتضائے احتیاط نہیں ہے۔ حدیث نے تو اقامتِ جمعہ کے لیے محض ”مصر جامع“ کی شرط لگائی ہے۔ مردم شماری کی ایک خاص مقدار اور دکانوں کی ایک خاص تعداد اور ایسی ہی دوسری چیزوں کی تصریح اس میں نہیں ہے۔ لہٰذا یہ چیزیں بجائے خود اقامتِ جمعہ کے لیے شرطِ منصوص نہیں ہیں، بلکہ ان کو اُس مفہوم نے شرط بنایا ہے جو لفظِ مصر سے علما نے سمجھا۔ بالفاظِ دیگر فریضۂ منصوصہ کو دیہات کے مسلمانوں پر سے ساقط کرنے والی چیز خود نص نہیں ہے، بلکہ وہ مفہوم ہے جو نص سے اخذ کیا گیا ہے۔ اگر اس مفہوم کے سوا نص کا کوئی اور مفہوم نہ ہوتا، یا نص اپنے الفاظ میں صریح ہوتی، تو بلاشبہ اس کی بنا پر اسقاطِ فرض درست ہوتا، مگر جبکہ اس کا کوئی دوسرا مفہوم بھی ہوسکتا ہے، تو میرے نزدیک تقویٰ اور خشیت کا تقاضا یہ ہے کہ اسقاطِ فرض کا راستہ کھولنے والے مفہوم کی بہ نسبت اقامتِ فرض کا راستہ کھولنے والا مفہوم زیادہ لائقِ ترجیح ہو۔
میں نے مصر کی جو تعریف کی ہے، اس کو اختیار کرنے سے اکثر و بیشتر دیہاتی مسلمانوں کے لیے، بلکہ خانہ بدوش مسلمانوں کے لیے بھی، صحیح شرعی طریق پر جمعہ ادا کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ دیہی علاقوں کو چھوٹے چھوٹے حلقوں میں تقسیم کیا جائے، جن کا دَور مقامی حالات کا لحاظ کرتے ہوئے ۴، ۵ میل سے لے کر ۸، ۹ میل تک ہو۔ ان حلقوں میں ایک مرکزی مقام کو مسلمان باشندوں کی باہمی رضامندی سے مصر جامع قرار دے دیا جائے، اور گردو پیش کے دیہات کو توابع مصر قرار دے کر اعلان کر دیا جائے کہ ان کے مسلمان باشندے وہاں آ کر جمعہ کی نماز ادا کریں۔ یہ نظام نہ صرف احادیثِ صحیحہ کی رُو سے درست ہوگا بلکہ فقہائے حنفیہ کی تصریحات کے بھی خلاف نہ ہوگا۔ فقہا نے توابع مصر کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ بعض لوگوں نے توابع مصر کی حد ۹ میل مقرر کی ہے، بعض نے ۲ میل، بعض نے ۶ میل، اور بعض کہتے ہیں کہ جس مقام سے مصر میں آ کر نماز ادا کرنے کے بعد آدھی رات ہونے سے پہلے پہلے گھر پہنچ سکے وہ توابع مصر میں شمار ہوگا۔ صاحب بدائع نے اسی آخری تعریف کو پسند کیا ہے، اور حدیث سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ ترمذی میں حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے:
<<عن النبی ﷺ قال الجمعة على من اواه الليل الى اهله۔>>[ اس حدیث کی سند اگرچہ ضعیف ہے، لیکن یہ مضمون متعدد طریقوں سے حضرت ابو ہریرہؓ، حضرت انسؓ، حضرت ابن عمرؓ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہوا ہے۔ اور اسے نافع، حسن اور عکرمہ اور ابراہیم نخعی اور عطا اور اوزاعی اور ابوثور نے قبول کیا ہے۔]
نبیؐ نے فرمایا کہ جمعہ اس پر فرض ہے جو رات سے پہلے اپنے گھر پہنچ جائے۔
اور بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
<<كان الناس ينتابون الجمعة من منازلهم والعوالي.>>
لوگ جمعہ کے روز اپنی فرودگاہوں اور عوالی سے آیا کرتے تھے۔
ایک اور دوسری حدیث میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے:
<<قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الاهل عسى احدكم ان يتخذ الصبة من الغنم على راس ميل او ميلين فتعذر عليه الكلاء فيرتفع ثم تجئى الجمعة فلا يجئى ولا يشهدها (ثلاثاً) حتى يطبع على قلبه.>>
حضورؐ نے فرمایا کہ سنو! تم میں سے ایک شخص بکریوں کا ریوڑ لیے ہوئے چارے کی تلاش میں تو میل دو میل چلا جائے مگر جب جمعہ آئے تو اس میں شریک ہونے کے لیے یہاں نہ آئے! (یہ جملہ آپؐ نے تین مرتبہ دہرایا، پھر فرمایا:) ایسے شخص کے دل پر مہر لگائی جائے گی۔
ان احادیث اور فقہا کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ توابع مصر کی حد ۶ ، ۷ میل یا اس کے قریب قریب ہے، جہاں کے باشندے نماز پڑھ کر شام تک اپنے گھر پہنچ سکیں۔ اس حد کے اندر رہنے والے تمام مسلمانوں پر، خواہ وہ مستقل دیہات میں رہتے ہوں، یا خانہ بدوش ہوں، مصر جامع میں حاضر ہو کر نماز جمعہ ادا کرنا فرض ہے۔ جیسا کہ ابن ہمام نے فتح میں لکھا ہے:
<<ومن كان من مكان من توابع المصر فحكمه حكم اهل المصر فى وجوب الجمعة عليه بان يأتى المصر فليصلها فيه. (ج ۱ ص ۴۱۱)>>
اور جو شخص توابع مصر میں سے کسی جگہ ہو، اس کے لیے خود اہل مصر کی طرح جمعہ واجب ہے۔ اسے مصر میں حاضر ہو کر نماز ادا کرنی چاہیے۔