مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

دین حق

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "دین حق" ایک ایسی علمی و فکری تقریر ہے جو 21 مارچ 1943ء کو جامعہ ملیہ، دہلی میں پیش کی گئی تھی۔ یہ تقریر قرآن کریم کے اس اہم اور بنیادی دعوے کی وضاحت، تشریح اور دفاع کرتی ہے: «اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامُ» (آل عمران: 19)۔ مولانا مودودی اس فقرے کو صرف ایک مذہبی نعرہ نہیں بلکہ انسانی زندگی کے لیے ایک جامع، عالمگیر اور دائمی نظامِ حیات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اسلام کی برتری ثابت کرنا نہیں، بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ انسانی فطرت، کائناتی حقیقت اور وجودی ضروریات کے تناظر میں صرف ایک ہی صحیح راستہ ہے—وہ ہے خدا کی جانب سے نازل کردہ 'الدین'، جس کا نام 'الاسلام' ہے۔

تقریر کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ عام طور پر لوگ اس آیت کو محض ایک مذہبی دعوے کے طور پر لیتے ہیں، جبکہ درحقیقت یہ ایک وجودی اور کائناتی حقیقت کا اعلان ہے۔ مودودی پہلے 'الدین' اور 'الاسلام' کے الفاظ کی لغوی اور قرآنی معنویت کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ 'دین' صرف عبادات یا روحانی تعلقات تک محدود نہیں، بلکہ پوری انسانی زندگی—فردی، اجتماعی، معاشی، سیاسی، ثقافتی اور تمدنی—کا جامع نظام ہے۔ اسی طرح 'الاسلام' کا مطلب صرف محمد ﷺ کے دور میں ظاہر ہونے والا ایک مذہب نہیں، بلکہ وہ واحد طریقِ حیات ہے جس کی طرف تمام انبیاء علیہم السلام نے دعوت دی، اور جو نوعِ انسانی کے لیے ہر زمانے اور ہر مکان میں واحد صحیح راستہ ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

زندگی کی زمانی تقسیم

ان مہملات اور جدید زمانے کے عالمانہ مہملات میں سے ایک اور بات، جو حقیقت کے اعتبار سے مہمل ترین ہے مگر حیرت ہے کہ یقینیت کے پورے وثوق کے ساتھ پیش کی جاتی ہے انسانی زندگی کی زمانی تقسیم ہے۔ یعنی کہا جاتا ہے، کہ جو نظامِ زندگی ایک دور میں حق ہوتا ہے وہ دوسرے دور میں باطل ہو جاتا ہے کیوں کہ زندگی کے مسائل ومعاملات ہر دَور میں بدل جاتے ہیں، اور نظامِ زندگی کا حق یا باطل ہونا سراسر ان مسائل ومعاملات ہی کی نوعیت پر منحصر ہے۔ یہ بات اسی انسانی زندگی کے متعلق کہی جاتی ہے جس کے متعلق ساتھ ارتقا کی گفتگو بھی کی جاتی ہے، جس کی تاریخ میں کارفرما قوانین بھی تلاش کیے جاتے ہیں، جس کے گزشتہ تجربات سے حال کے لیے سبق اور مستقبل کے لیے احکام بھی مستنبط کیے جاتے ہیں، اور جس کے لیے ’’انسانی فطرت‘‘ نامی ایک چیز بھی ثابت کی جاتی ہے۔ میں پوچھتا ہوں کیا آپ کے پاس کوئی ایسا آلۂ پیمائش ہے جس سے آپ نوعِ انسانی کی اس مسلسل تاریخی حرکت کے درمیان دَور یا زمانے یا عہد کی واقعی حد بندیاں کر سکتے ہوں؟ اور کیا یہ ممکن ہے کہ ان حد بندیوں میں سے کسی ایک خط پر انگلی رکھ کر آپ کہہ سکتے ہوں کہ اس خط کے اس پار جو مسائل زندگی تھے وہ اس پار آ کر تبدیل ہو گئے، اور جو حالات اس پار تھے وہ اس پار باقی نہیں رہے؟ اگر فی الواقع انسانی سرگزشت ایسے ہی الگ الگ زمانی ٹکڑوں میں منقسم ہے تب تو یوں سمجھنا چاہیے کہ ایک ٹکڑا جو گزر چکا ہے وہ بعد والے ٹکڑے کے لیے محض ایک فضول ولا یعنی چیز ہو گیا۔ اس کے گزرتے ہی وہ سب کچھ ضائع ہو گیا جو انسان نے اس حصۂ دہر میں کیا تھا۔ اس زمانے میں جو تجربات انسان کو ہوئے وہ بعد والے زمانے کے لیے کوئی سبق اپنے اندر نہیں رکھتے۔ کیوں کہ وہ حالات ومسائل ہی فنا ہو گئے جن میں انسان نے بعض طریقوں کا، بعض اصولوں کا، بعض قدروں کے لیے سعی وجہد کا تجربہ کیا تھا۔ پھر یہ ارتقا کی گفتگو کیوں؟ یہ قوانینِ حیات کی تلاش کس لیے؟ یہ تاریخی استنباط کس بنا پر؟ جب آپ ارتقا کا نام لیتے ہیں تو لامحالہ یہ اس بات کو متضمن ہے کہ وہاں کوئی چیز ضرور ہے جو تمام تغیرات کا موضوع بنتی ہے اور ان تغیرات کے اندر اپنے آپ کو باقی رکھتے ہوئے پیہم حرکت کرتی ہے۔ جب آپ قوانینِ حیات پر بحث کرتے ہیں تو یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ ان ناپائدار حالات میں، ان رواں دواں مظاہر میں، ان بننے اور بگڑنے والی صورتوں میں کوئی پائدار اور زندہ حقیقت بھی ہے جو اپنی ایک ذاتی فطرت اور اپنے کچھ مستقل قوانین بھی رکھتی ہے۔ جب آپ تاریخی استنباط کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تاریخ کے اس طول طویل رستے پر جو مسافر مختلف مرحلوں سے گزرتا ہوا آ رہا ہے اور منزلوں پر منزلیں طے کرتا چلا آ رہا ہے، وہ خود اپنی کوئی شخصیت اور اپنا کوئی مستقل مزاج رکھتا ہے جس کے متعلق یہ حکم لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مخصوص حالات میں مخصوص طور پر کام کرتا ہے، ایک وقت میں بعض چیزوں کو قبول کرتا ہے اور دوسرے وقت میں انھیں رد کر دیتا ہے اور بعض دوسری چیزوں کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ زندہ حقیقت، یہ پائدار موضوعِ تغیرات، یہ شاہراہِ تاریخ کا مستقل مسافر وہی تو ہے جسے آپ غالباً ’’انسانیت‘‘ کہتے ہیں مگر کیا بات ہے کہ جب آپ راستے کی منزلوں اور ان میں پیش آنے والے حالات اور اُن سے پیدا ہونے والے مسائل پر گفتگو شروع کرتے ہیں تو اس گفتگو میں ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ خود مسافر آپ کو یاد نہیں رہتا؟ کیا یہ سچ ہے کہ منزلیں اور اُن کے حالات اور اُن کے مسائل بدل جانے سے مسافر اور اس کی حقیقت بھی بدل جاتی ہے؟ ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ ابتدائے آفرینش سے آج تک اس کی ساخت بالکل نہیں بدلی۔ اس کے عناصر ترکیبی وہی ہیں، اس کی فطرت کے تقاضے وہی ہیں، اس کی صفات وخصوصیات وہی ہیں، اس کے رجحانات ومیلانات وہی ہیں، اس کی قوتیں اور صلاحیتیں وہی ہیں، اس کی کم زوریاں اور قابلیتیں وہی ہیں، اس پر کار فرمائی کرنے والی قوتیں وہی ہیں، اور اس کا کائناتی ماحول بھی وہی ہے۔ ان میں سے کسی چیز میں بھی ابتدائے آفرینش سے آج تک ذرّہ برابر فرق نہیں آیا ہے۔ کوئی شخص یہ دعوٰی کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا کہ تاریخ کے دوران میں حالات اور اُن سے پیدا ہونے والے مسائلِ زندگی کے تغیر سے خود انسانیت بھی بدلتی چلی آئی ہے یا وہ بنیادیں بھی متغیر ہوتی رہی ہیں جو انسانیت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پھر جب حقیقت یہ ہے تو اس دعوے میں کیا وزن ہو سکتا ہے کہ انسان کے لیے جو چیز کل تریاق تھی وہ آج زہر ہے، جو چیز کل حق تھی وہ آج باطل ہے، جو چیز کل قدر رکھتی تھی وہ آج بے قدر ہے۔