مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

دیباچہ و مقدمہ تفہیم القرآن

اشاعت: 1949ء

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

یہ تفہیم القرآن کا دیباچہ اور مقدمہ ہے جس میں مولانا مودودی اپنے اس تفسیری منصوبے کی وجہ اور طریقِ کار بیان کرتے ہیں۔ وہ وضاحت کرتے ہیں کہ چونکہ قرآن کے لفظی تراجم (شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالقادر، مولانا محمود حسن وغیرہ کے) پہلے سے موجود اور کافی ہیں، اس لیے انہوں نے لفظی ترجمے کے بجائے "ترجمانی" یعنی آزاد اور تفہیمی اسلوب اختیار کیا ہے تاکہ عام تعلیم یافتہ قاری قرآن کی روح اور تاثیر تک رسائی حاصل کر سکے۔

مقدمے میں وہ ان بنیادی سوالات کا جواب دیتے ہیں جو قرآن کا مطالعہ شروع کرنے والے کے ذہن میں عموماً پیدا ہوتے ہیں، تاکہ ابتدا ہی میں قاری کے لیے فہمِ قرآن کی راہ ہموار ہو جائے اور وہ محض سطحی معنی پر رکے بغیر کتاب کی گہرائی تک اتر سکے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

دیباچہ

قرآن مجید کے ترجمہ و تفسیر پر ہماری زبان میں اب تک اتنا کام ہو چکا ہے کہ اب کسی شخص کا محض برکت و سعادت کی خاطر ایک نیا ترجمہ یا ایک نئی تفسیر شائع کر دینا وقت اور محنت کا کوئی صحیح مصرف نہیں ہے۔ اس راہ میں مزید کوشش اگر معقول ہوسکتی ہے تو صرف اُس صورت میں جب کہ آدمی کسی ایسی کسر کو پورا کر رہا ہو جو سابق مترجمین و مفسرین کے کام میں رہ گئی ہو، یا طالبینِ قرآن کی کسی ایسی ضرورت کو پورا کرے جو پچھلے تراجم و تفاسیر سے پوری نہ ہوتی ہو۔

اِن صفحات میں ترجمانی و تفہیمِ قرآن کی جو سعی کی گئی ہے، وہ دراصل اسی بنیاد پر ہے۔ میں ایک مدت سے محسوس کر رہا تھا کہ ہمارے عام تعلیم یافتہ لوگوں میں رُوحِ قرآن تک پہنچنے اور اس کتابِ پاک کے حقیقی مُدعا سے روشناس ہونے کی جو طلب پیدا ہوگئی ہے اور روز بروز بڑھ رہی ہے، وہ مترجمین و مفسرین کی قابلِ قدر مساعی کے باوجود ہنوز تشنہ ہے۔ اس کے ساتھ میں یہ احساس بھی اپنے اندر پا رہا تھا کہ اس تشنگی کو بجھانے کے لیے کچھ نہ کچھ خدمت میں بھی کر سکتا ہوں۔ انہی دونوں احساسات نے مجھے اُس کوشش پر مجبور کیا جس کے ثمرات ہدیۂ ناظرین کیے جا رہے ہیں۔ اگر فی الواقع میری یہ حقیر پیش کش لوگوں کے لیے فہم قرآن میں کچھ بھی مددگار ثابت ہوئی تو یہ میری بہت بڑی خوش نصیبی ہوگی۔

اس کام میں میرے پیشِ نظر علما اور محققین کی ضروریات نہیں ہیں، اور نہ اُن لوگوں کی ضروریات ہیں جو عربی زبان اور علوم دینیہ کی تحصیل سے فارغ ہونے کے بعد قرآنِ مجید کا گہرا تحقیقی مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے حضرات کی پیاس بجھانے کے لیے بہت کچھ سامان پہلے سے موجود ہے۔ میں جن لوگوں کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، وہ اوسط درجے کے تعلیم یافتہ لوگ ہیں، جو عربی سے اچھی طرح واقف نہیں ہیں اور علومِ قرآن کے وسیع ذخیرے سے استفادہ کرنا جن کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اُنہی کی ضروریات کو میں نے پیشِ نظر رکھا ہے۔ اس وجہ سے بہت سے اُن تفسیری مباحث کو میں نے سرے سے ہاتھ ہی نہیں لگایا جو علمِ تفسیر میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں مگر اس طبقے کے لیے غیر ضروری ہیں۔ پھر جو مقصد میں نے اس کام میں اپنے سامنے رکھا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک عام ناظر اس کتاب کو پڑھتے ہوئے قرآن کا مفہوم و مدعا بالکل صاف صاف سمجھتا چلا جائے، اور اس سے وہی اثر قبول کرے جو قرآن اُس پر ڈالنا چاہتا ہے۔ نیز دورانِ مطالعہ میں جہاں جہاں اسے اُلجھنیں پیش آ سکتی ہوں وہ صاف کر دی جائیں اور جہاں کچھ سوالات اس کے ذہن میں پیدا ہوں ان کا جواب اُسے بروقت مل جائے۔ یہ میری کوشش ہے۔ اب اس امر کا فیصلہ عام ناظرین ہی کر سکتے ہیں کہ میں اس میں کہاں تک کامیاب ہُوا ہوں۔ بہر حال یہ حرفِ آخر نہیں ہے۔ ہر ناظر سے میری درخواست ہے کہ جہاں کوئی تشنگی محسوس ہو، یا کسی سوال کا جواب نہ ملے، یا مدعا اچھی طرح واضح نہ ہو رہا ہو اس سے مجھے مطلع کیا جائے، تاکہ میں اس خدمت کو زیادہ سے زیادہ مفید بنا سکوں۔ علمائے کرام سے بھی میں گزارش کرتا ہوں کہ مجھے میری غلطیوں سے آگاہ فرمائیں۔