مرکزی مواد پر جائیں
تمام کتابوں کی طرف واپس

دعوت اسلامی اور اس کا طریق کار

سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "دعوت اسلامی اور اس کا طریق کار" ایک ایسی تحریر ہے جو صرف دینی تبلیغ کے روایتی تصورات کو نہیں بلکہ اسلام کے حقیقی نظامِ حیات کو سمجھنے، قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کے جامع منصوبے کو پیش کرتی ہے۔ اس کتاب کا بنیادی مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ یا روحانی تقویٰ کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے جو فرد و معاشرہ دونوں کو اللہ کی حاکمیت کے تحت لانے کا تقاضا کرتا ہے۔ مصنف نے اس دعوت کو نہ تو دنیاوی شہرت کے لیے، نہ سستی تقریبات یا مظاہروں کے ذریعے، بلکہ سچائی، سادگی اور حق کی ذاتی کشش کے ذریعے پھیلانے کا طریقہ اختیار کیا ہے۔

پہلے باب میں مصنف دعوتِ اسلامی کے تین بنیادی مقاصد بیان کرتے ہیں: (۱) عام لوگوں، خصوصاً مسلمانوں کو اللہ کی بندگی کی دعوت دینا؛ (۲) جو شخص اسلام کا دعویٰ کرے، اُسے منافقت اور تناقض سے پاک زندگی گزارنے کی ترغیب دینا؛ اور (۳) دنیا کے انتظام کو باطل قوتوں سے چھین کر مومن و صالحین کے ہاتھ میں منتقل کرنا۔ یہاں مصنف بندگی کے حقیقی مفہوم کو واضح کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بندگی صرف نماز، روزہ یا زبانی اقرار تک محدود نہیں، بلکہ زندگی کے تمام شعبوں — اخلاق، معیشت، سیاست، علوم و فنون — کو اللہ کی ہدایت کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اس کے بعد وہ منافقت کی تعریف کرتے ہیں، جس میں زبان سے ایمان کا اقرار ہو مگر عمل غالبہ طور پر دین کے خلاف ہو۔ ان کے نزدیک یہی منافقت امتِ مسلمہ کی اخلاقی اور اعتقادی کمزوری کی جڑ ہے۔

یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗

علماء اور مشائخ کی آڑ :

ایک اعتراض جو پہلے بھی بار بار سن چکا ہوں اور آج بھی وہ میرے پاس تحریری شکل میں آیا ہے، یہ ہے کہ ایسے بڑے بڑے علماء اور پیشوایانِ دین (جن کے کچھ نام بھی گنائے گئے ہیں)کیا دین سے اس قدر نا واقف تھے کہ نہ صرف یہ کہ خود انہوں نے دین کے ان تقاضوں کو جوتم بیان کرتے ہو نہیں سمجھا اور پورا کرنے کی طرف توجہ نہیں کی بلکہ تمہارے بیان کرنے کے بعد بھی انہوں نے اسے تسلیم نہیں کیا اور نہ تمہارے ساتھ تعاون کرنا قبول کیا؟کیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سب دین سے ناواقف ہیں ؟یا اس بات کا کہ تم نے خود دین کے نام سے ایک ایسی چیز پیش کی ہے جو مقتضیاتِ دین میں سے نہیں ہے‘‘؟اس سوال کا بہت مختصر جواب میرے پاس یہ ہے کہ میں نے دین کو حال یا ماضی کے اشخاص سے سمجھنے کے بجائے ہمیشہ قرآن اورسنت ہی سے سمجھنے کی کوشش کی ہے اس لیے میں کبھی یہ معلوم کرنے کے لیے کہ خدا کا دین مجھ سے اور ہر مومن سے کیا چاہتا ہے، یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ فلاں اور فلاں بزرگ کیا کہتے ہیں بندہ صرف یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہو کہ قرآن مجید کیا کہتا ہے؟اور رسول ﷺنے کیا کیا؟اسی ذریعہ معلوما ت کی طرف میں آپ لوگوں کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔آپ یہ دیکھیے کہ جس چیز کی طرف میں آپ کو دعوت دے رہا ہوں اورجو طریق کا ر اس کے لیے پیش کررہا ہوں آیا قرآن کی دعوت وہی ہے اور انبیائہ علیہم السلام کا طریق کا ر وہی رہا ہے یا نہیں۔اگر قرآن وسنت سے یہ بات ثابت ہوجائے اور آپ کے نزدیک قرآن وسنت ہی اصل ذریعہ ہدایت ہوں تو میری بات مانئے اور میر ے ساتھ آجائیے اور اگر اس دعوت اور اس طریق کار میں کوئی چیز قرآن وسنت سے ہٹی ہوئی ہوتو بے تکلّف اسے ظاہر کر دیجئے ،جس وقت مجھ پر اور میرے رفقاء پر یہ منکشف ہو گا کہ ہم کہیں بال برابر بھی قرآن اور سنت سے ہٹے ہیں تو آپ انشاء اللہ دیکھ لیں گے کہ ہم حق کی طرف رجوع کرنے میں ایک لمحے کے لیے بھی تامّل کرنے والے نہیں ہیں لیکن اگر آپ حق وباطل کا فیصلہ خدا کی کتا ب اور اس کے رسول ﷺکی سنت کی بجائے اشخاص پررکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو پورا اختیار ہے کہ آپ اپنے آپ کو اور مستقبل کو اشخاص ہی کے حوالے کر دیجیے اور خدا کے ہاں بھی یہی جواب دیجیے گا کہ ہم نے اپنا دین تیری کتا ب اور تیرے رسولﷺکی سنت کے بجائے فلاں اورفلاں لوگوں کے حوالے کردیا تھا۔ یہ جواب دہی اگر آپ کو خداکے ہاں بچاسکتی ہے تو اسی پراطمینان سے کام کرتے رہیے۔