جہاد
خطاب (1939-04-13 · ٹاؤن ہال، لاہور)سید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کا وہ خطاب ہے جو ۱۳ اپریل ۱۹۳۹ء کو یومِ اقبال کے موقع پر ٹاؤن ہال لاہور میں کیا گیا۔ خطاب کا مقصد لفظ "جہاد" کے گرد پیدا کی گئی اس مغربی تصویر کو رد کرنا ہے جس میں اسے محض خونریز مذہبی جنون کے مترادف بنا دیا گیا ہے، جبکہ خود انہی اقوام کی اپنی جنگیں دولت، خام مال اور نوآبادیات کے حصول کے لیے ہوتی رہی ہیں۔
مقرر جہاد کی حقیقی تعریف کو "فی سبیل اللہ" کی قید کے ساتھ واضح کرتے ہیں: یہ کوئی مادی یا نسلی مقصد کے لیے جنگ نہیں بلکہ اللہ کے قانون کو زمین پر قائم کرنے کی جدوجہد ہے۔ اس کے بعد اسلام کو ایک انقلابی دعوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو پوری دنیا میں عالمگیر انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے، اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہاد کو محض "جارحانہ" یا "مدافعانہ" کے خانوں میں تقسیم کرنا اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دیتا ہے۔ آخر میں ذمیوں کی حیثیت اور اسلام پر لگائے جانے والے سامراجیت (امپیریلزم) کے الزام کا جائزہ لے کر اسے رد کیا گیا ہے۔
یہ متن Read Maududi سے حاصل کیا گیا ہے، اور مستقل رسائی کے لیے یہاں محفوظ کیا گیا ہے۔ اصل صفحہ ملاحظہ کریں ↗
جہاد کے متعلق غلط فہمی کے اسباب
خیر، یہ تو سیاسی چالوں کی بات ہے مگر خالص علمی حیثیت سے ہم ان اسباب کا تجزیہ کرتے ہیں جن کی وجہ سے ’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘ کی حقیقت کو سمجھنا غیر مسلموں ہی کے لیے نہیں ، خود مسلمانوں کے لیے بھی دشوار ہو گیا ہے تو ہمیں دو بڑی اور بنیادی غلط فہمیوں کا سراغ ملتا ہے۔
پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اسلام کو ان معنوں میں ایک مذہب سمجھ لیا گیا ہے جن میں یہ لفظ عموماً بولا جاتا ہے۔ دوسری غلط فہمی یہ کہ مسلمانوں کو ان معنوں میں محض ایک قوم سمجھ لیا گیا ہے، جن میں یہ لفظ عموماً مستعمل ہے۔
ان دو غلط فہمیوں نے صرف ایک جہاد ہی کے مسئلہ کو نہیں بلکہ مجموعی حیثیت سے پورے اسلام کے نقشہ کو بدل ڈالا ہے اور مسلمانوں کی پوزیشن کلی طور پر غلط کر کے رکھ دی ہے۔
’’مذہب‘‘ کے معنی عام اصطلاح کے اعتبار سے بجز اس کے اور کیا ہیں کہ وہ چند عقائد اور عبادات اور مراسم کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے مذہب کو واقعی ایک پرائیویٹ معاملہ ہی ہونا چاہیے۔ آپ کو اختیار ہے کہ جو عقیدہ چاہیں رکھیں ، اور آپ کا ضمیر جس کی عبادت کرنے پر راضی ہو اس کو جس طرح چاہیں پکاریں۔ زیادہ سے زیادہ اگر کوئی جوش اور سرگرمی آپ کے اندر اس مذہب کے لیے موجود ہے تو آپ دنیا بھر میں اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے پھرئیے اور دوسرے عقائد والوں سے مناظرے کیجیے۔ اس کے لیے تلوار ہاتھ میں پکڑنے کا کون سا موقع ہے؟ کیا آپ لوگوں کو مار مار کر اپنا ہم عقیدہ بنانا چاہتے ہیں ؟ یہ سوال لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے جب کہ آپ اسلام کو عام اصطلاح کی رو سے ایک ’’مذہب‘‘ قرار دے لیں۔ اور یہ پوزیشن اگر واقعی اسلام کی ہو تو جہاد کے لیے حقیقت میں کوئی وجہ جواز ثابت نہیں کی جا سکتی۔
اسی طرح ’’قوم‘‘ کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ وہ ایک متجانس گروہ اشخاص (Homogenous Group of Men) کا نام ہے- جو چند بنیادی امور میں مشترک ہونے کی وجہ سے باہم مجتمع اور دوسرے گروہوں سے ممتاز ہو گیا ہو۔ اس معنی میں جو گروہ ایک قوم ہو، وہ دو ہی وجوہ سے تلوار اٹھاتا ہے اور اٹھا سکتا ہے۔یا تو ا س کے جائز حقوق چھیننے کے لیے کوئی اس پر حملہ کرے یا وہ خود دوسروں کے جائز حقوق چھیننے کے لیے حملہ آور ہو۔ پہلی صورت میں تو خیر تلوار اٹھانے کے لیے کچھ نہ کچھ اخلاقی جواز بھی موجود ہے (اگرچہ بعض دھرماتماؤں کے نزدیک یہ بھی ناجائز ہے)۔ لیکن دوسری صورت کو تو بعض ڈکٹیٹروں کے سوا کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا، حتیٰ کہ برطانیہ اور فرانس جیسی وسیع سلطنتوں کے مدبرین بھی آج اس کو جائز کہنے کی جرأت نہیں رکھتے۔