بے اصل فتنے
اشاعت: 1939ءسید ابو الاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ · اردو
یہ مضمون کلکتہ سے موصول ہونے والے ایک استفسار کے جواب میں لکھا گیا ہے جس میں ایک تفسیر کے مصنف پر بعض آیات کی تفسیر کی بنا پر الحاد اور دہریت کا الزام لگایا گیا تھا اور معترضین اس مصنف کی تکفیر بھی کر رہے تھے۔ اقتباسات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چار پرندوں کے معجزے اور حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ پہاڑوں کی تسبیح جیسی آیات کی تعبیرات شامل تھیں۔
مولانا مودودی ان مبینہ "فتنہ انگیز" تعبیرات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے یہ طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آیا ان میں واقعی کوئی چیز کفر یا الحاد کے درجے کو پہنچتی ہے، اور اس ضمن میں بلاجواز تکفیر کے رجحان پر بھی تنبیہ کرتے ہیں۔
بے اصل فتنے
کلکتہ سے ایک صاحب لکھتے ہیں:
’’چند امور متعلقہ تفسیر قرآن نے بکثرت لوگوں کو خلفشار میں ڈال رکھا ہے۔ ایک تفسیر لکھی گئی ہے۔ اس پر یہ اعتراض کیا جا رہا ہے کہ وہ اسلام کے عقائد کے خلاف ہے اور الحاد و دہریت کی موجب ہے۔ چند آیات کی تفسیر بطور نمونہ اس کتاب سے نقل کرتا ہوں اور اس پر جو اعتراضات کیے گئے ہیں، وہ بھی مختصراً بیان کیے دیتا ہوں۔ معترضین اس کتاب کے مصنف کی تکفیر کرتے ہیں۔ مہربانی فرما کر آپ ایک فیصلہ کن بحث کر کے بتائیں کہ آیا ان میں کوئی چیز موجب کفر ہے، یا الحاد و دہریت ہے؟‘‘
اس کے بعد مستفسر نے جو اقتباسات نقل کیے ہیں، وہ حسب ذیل ہیں:
(۱) <<وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْکَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰی کُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَکَ سَعْیًا>> البقره 2: 260
تفسیر: ’’خط کشیدہ فقرے کا مطلب یہ ہے کہ چار پرندے لے لو اور ان کو اپنی طرف مائل کر لو، یعنی اپنے سے اس طرح مانوس کر لو کہ جب تم انھیں چھوڑ دو تو تمھاری طرف پلٹ کر آئیں۔ پھر ان کا ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دو‘‘۔
اعتراض: مفسر نے مندرجہ بالا الفاظ میں معجزۂ ابراہیمی کا انکار کیا ہے۔
(۲) <<اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ یُسَبِّحْنَ بِالْعَشِیِّ وَالْاِشْرَاقِ ہ وَالطَّیْرَ مَحْشُوْرَةً کُلٌّ لَّهٗ اَوَّابٌ>> ص 38: 18-19
تفسیر: ’’حضرت داؤد علیہ السلام جب پہاڑوں اور پرندوں کو دیکھتے تو ان کو خدا یاد آتا‘‘۔
اعتراض: اس تفسیر میں نیچریت کا رنگ غالب ہے، متعدد آیات قرآنی کا مندرجہ بالا معانی سے انکار لازم آتا ہے۔ قرآن کا سیاق و سباق بتلاتا ہے کہ پہاڑ اور پرندے حضرت داؤد کے ساتھ مشغول تسبیح ہوا کرتے تھے۔
<< (۳) وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَهٗ وَالطَّیْرَ وَاَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَ >> سبا 10:34
تفسیر: ’’اَلَنَّا لَهُ الْحَدِیْدَ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد کو لوہا نرم کرنے کا طریقہ سکھا دیا تھا۔
اعتراض: سلف کی تفسیر کے خلاف ہے۔ سلف کا قول یہ ہے کہ لوہا حضرت داؤدؑ کے ہاتھ میں آٹے کی طرح نرم ہو جاتا تھا۔
<< (۴) كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَکَرِیَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰی لَکِ ھٰذَا قَالَتْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ >> آل عمران 37:3
تفسیر: ’’مطلب یہ ہے کہ حضرت مریم اس رزق کو اللہ کی بخشش کی طرف منسوب کرتی تھیں۔ اس آیت میں کوئی دلیل اس پر نہیں ہے کہ حضرت مریم کو گرمی کا میوہ جاڑے میں اور جاڑے کا گرمی میں ملتا تھا‘‘۔
اعتراض: یہ سلف کی تفسیر کے خلاف ہے۔
<< (۵) وَ کَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ >> الاعراف 145:7
تفسیر: مطلب یہ ہے کہ ’’ہم نے ان احکام کو الواح میں لکھنے کا حکم دیا‘‘۔
اعتراض: بخاری کی روایت وخط لک التوراۃ بیدہ کی تکذیب ہوتی ہے۔
<< (۶) وَشَھِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَھْلِهَا >> یوسف 26:12
تفسیر: ’’یعنی اس نے اپنی رائے کا اظہار کیا‘‘۔
اعتراض: حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر کہ وہ شاہد بچہ تھا کی تکذیب ہے۔
<< (۷) یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَکُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ >> الانعام 158:6
تفسیر: ’’یعنی جب موت کا دن آئے گا‘‘۔
اعتراض: امام احمد، بخاری اور مسلم کی روایات سے ثابت ہے کہ اس سے وہ دن مراد ہے جب سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ تفسیر اس روایت کے خلاف ہے۔
(۸) <<يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِى الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِى الْاٰخِرَةِ>> ابراھیم 14: 27
تفسیر: ”اللہ توحید کی برکت سے دنیا اور آخرت کی زندگی میں مومنوں کو ثبات بخشے گا“۔
اعتراض: یہ حدیث صحیح کے خلاف ہے جس میں ”ثابت“ سے مراد یہ بتائی گئی ہے کہ قبر میں جب مومن سے سوال ہوگا تو وہ <<اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ>> کہے گا۔
(۹) <<وَالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ>> الطور 52: 4
تفسیر: ”بیت معمور سے مراد مساجد ہیں“۔
اعتراض: یہ اس حدیث کے خلاف ہے جس میں تصریح کی گئی ہے کہ البیت المعمور ساتویں آسمان پر ہے۔
یہ ایک نمونہ ہے، ان فضول، لایعنی اور لا طائل جھگڑوں کا جن میں ہمارے بہت سے علمائے دین اور بہت سے دین دار لوگ نہ صرف خود اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں بلکہ عام مسلمانوں کے ذہن کو بھی اس بُری طرح الجھا رہے ہیں کہ ان غریبوں کو دین کی حقیقت اور اپنے زندگی کے مقصد پر غور کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ ان لوگوں کی دنیا تنگ اور محدود ہے، اور اس تنگ دنیا میں بیٹھے ہوئے یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کی اور ساری دنیا کی فلاح کا مدار بس اسی قسم کے سوالات پر ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کو گرمی کا میوہ جاڑے میں ملتا تھا یا نہیں، اور لوہا حضرت داؤد علیہ السلام کے ہاتھ میں آتے ہی موم بن جاتا تھا یا نہیں۔ کاش کوئی صورت ایسی ہوتی کہ انھیں ان کے حجروں کی تنگ دنیا سے نکال کر اللہ کی وسیع دنیا کا مشاہدہ کرایا جاتا اور یہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے کہ وہ حقیقی مسائل کون سے ہیں جن پر نوعِ انسانی کی فلاح و سعادت کا انحصار ہے، اور وہ مہمات اُمور کون سے ہیں جن پر قوموں کی قسمتیں بنتی اور بگڑتی ہیں۔
سب سے بڑھ کر افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان مسائل میں مغز پاشی کرنے والے ایسے لوگ ہیں جو ہمارے دین کے عالم اور مِلّتِ اسلامیہ کے علمبردار کہلاتے ہیں۔ مسلمان ان کی طرف اس لیے رجوع کرتے ہیں کہ ان کے پاس سے دین کا علم ملے گا۔ دنیا ان کو اس نظر سے دیکھتی ہے کہ یہ اس دین کے نمائندے ہیں جسے محمدؐ لے کر آئے تھے، مگر اس اہم ذمہ دارانہ منصب پر متمکن ہو کر وہ اس قسم کے مسائل پر زبان و قلم کا زور صرف کر رہے ہیں جن کا ایک چھوٹا سا نمونہ اوپر کے سوال میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ باتیں دیکھ کر مسلمان اور غیر مسلم سب اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ شاید اسلام کے مہمات مسائل یہی کچھ ہوں گے، اللہ تعالیٰ نے محمدؐ کو عالمگیر دائمی نبوت کے اتنے عظیم الشان منصب پر مقرر کر کے اسی لیے بھیجا ہوگا کہ آپ ان مسائل کا تصفیہ فرمائیں، اور یہ اسلام جو ساری دنیا کو راہِ راست دکھانے اور دین و دنیا کی سعادت سے بہرہ ور کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے، اس کے اہم ترین مسائل...... ایسے اہم جن پر مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا مدار ہے....... بس یہی ہوں گے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اور مرأۃ العزیز کے قضیہ میں فیصلہ کرنے والا بچہ تھا یا جوان، اور حضرت موسیٰ کو اللہ میاں نے اپنے ہاتھ سے تورات لکھ کر دی تھی یا نہیں۔ نعوذ باللہ من ذلک! اگر یہی اسلام ہے جس کی نمائندگی اس طرح کی جا رہی ہے تو دنیا کا دائرۂ اسلام میں آنا تو درکنار، خود مسلمانوں کا بھی اس دائرے میں رہنا مشکل ہے، کیونکہ ایک چھوٹے سے جاہل طبقے کے سوا عامۃ الناس کو ان مسائل میں کیا دلچسپی ہو سکتی ہے کہ وہ ان کی تحقیق میں اپنا وقت صرف کریں اور ان کے لیے لڑیں جھگڑیں۔
میں سائل کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے کتاب کے مصنف اور معترض گروہ کے نام ظاہر نہیں کیے۔ فریقین کی شخصیت سے بے خبر ہو کر جو رائے ظاہر کی جائے گی اس پر کسی کو یہ شبہ کرنے کا موقع نہیں مل سکتا کہ اس میں کسی کی جانب داری یا مخالفت کی گئی ہے۔ میں صاف صاف کہنا چاہتا ہوں کہ جس طرح کے اعتراضات اوپر کے سوال میں درج کیے گئے ہیں، ایسے اعتراضات کی بنیاد پر کسی مسلمان کی تکفیر کرنا یا اس کو ملحد اور دہریہ ٹھیرانا قطعاً ناجائز ہے، اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ دین کے علم سے بے بہرہ ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو کفر، الحاد اور دہریت کے معنی بھی معلوم نہیں، ورنہ وہ ان الفاظ کو اس طرح بے جا استعمال نہ کرتے۔ کفر سے مراد یہ ہے کہ جو تعلیم و ہدایت محمدؐ سے ثابت ہو اس کا انکار، یا اس سے معارضہ کیا جائے۔ الحاد یہ ہے کہ آدمی حق سے روگردانی کر کے باطل کی طرف مائل ہو (اور حق و باطل کا معیار پھر وہی علم ہے جو نبیؐ سے ثابت ہو)۔ دہریت یہ ہے کہ انسان خدا کا منکر ہو یا کائنات کے نظم و نسق میں خدا کی خدائی کو غیر مؤثر مانتا ہو۔ اب غور کیجیے کہ بعض آیات کی جو تفسیریں اوپر نقل کی گئی ہیں، ان میں سے کس میں کفر یا الحاد یا دہریت ہے؟
(۱) پہلی آیت کی تفسیر صحیح ہے یا غلط، اس سے یہاں کچھ بحث نہیں۔ مان لیجیے کہ غلط ہے، مگر کیا ہر غلطی کفر یا الحاد یا دہریت ہوتی ہے؟ صُرْهُنَّ إِلَيْكَ کا جو مطلب مصنف نے بیان کیا ہے، وہ لغت کے اعتبار سے درست ہے۔ بعض مفسرین نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے۔ پھر وہ دوسرے فقرے (ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا) کا وہی مفہوم بیان کر رہا ہے جو آیت کے الفاظ سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے بعد وہ کس طرح معجزۂ ابراہیمی کا منکر قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر مان لیا جائے کہ وہ اس آیت کی ایسی تاویل کرتا ہے جو اس خاص واقعہ کے معجزہ ہونے کو تسلیم نہیں کرتی تب بھی الحاد کا الزام ثابت نہیں ہوتا...... الحاد صرف اس صورت میں ہوگا جب کہ نفس معجزہ کی حقیقت سے انکار کیا جائے۔ رہا فرداً فرداً ایک ایک معجزہ تو قرآن میں متعدد مقامات ایسے ہیں جہاں اس امر میں اختلاف کی گنجائش ہے، اور اختلاف کیا بھی گیا ہے کہ آیا انھیں معجزہ قرار دیا جائے یا معمولی فطری واقعات۔ لہٰذا اگر ایسے کسی موقع پر کوئی شخص آیات کی تاویل اس طرح کرتا ہو کہ ایک واقعہ معجزے کے بجائے محض فطری واقعہ قرار پائے تو الحاد کا الزام لگانا درست نہیں، اسے محض غلطی کہا جا سکتا ہے۔
(۲) دوسری آیت کی تفسیر بلاشبہ الفاظِ قرآنی سے ہٹی ہوئی ہے، مگر اس کو بھی کفر کہنے کے بجائے غلطی کہنا چاہیے۔ کفر اس وقت ہوتا ہے جب قرآن کے علی الرغم مصنف یہ کہتا کہ پہاڑ اور پرندے تسبیح نہیں کہتے یا نہیں کر سکتے۔ ایسی کسی بات کا ارتکاب مصنف نے نہیں کیا ہے، بلکہ اس نے اپنی عقل کے مطابق آیت کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس نوع کی تاویلات پر اگر لوگوں کی تکفیر کی جانے لگے تو کسی شخص کا بھی کفر کے الزام سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ کیونکہ قرآن میں بہت سی ایسی آیات متشابہات ہیں جن کا مفہوم مختلف لوگ اپنی اپنی عقل کے مطابق مختلف طور پر متعین کرتے ہیں۔ پہاڑوں اور پرندوں کا تسبیح کرنا ایک ایسا امر ہے جس کی کیفیت خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اگر کوئی اس کا مطلب یہ لیتا ہے کہ پہاڑوں اور پرندوں کے پاس بھی ویسی ہی دانہ دار تسبیحیں ہوتی ہیں جیسی ہمارے زاہد پھیرا کرتے ہیں، تو میں اس کی رائے کو غلط کہہ سکتا ہوں مگر اس کی تکفیر نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی دوسرا شخص اس کا یہ مطلب لیتا ہے کہ حکم الٰہی کے آگے اُن کا مسخر ہونا ہی اس کی تسبیح ہے اور اس تسبیح کے عالم میں ان کو دیکھ کر حضرت داؤدؑ پر یاد الٰہی کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی (جیسا کہ اس تفسیر کے مصنف کا خیال ہے) تو میں اس کی رائے سے بھی اختلاف کر سکتا ہوں، مگر اس کی تکفیر نہیں کر سکتا۔ میں خود اس آیت کی تاویل یوں کرتا ہوں کہ حضرت داؤدؑ کو اللہ نے بہترین سریلی اور بلند آواز عطا فرمائی تھی۔ اس آواز کے ساتھ جب وہ زبور پڑھتے تو وادیاں گونج اٹھتیں، چرند و پرند جمع ہو جاتے اور تمام گرد و پیش کی چیزوں پر ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ اس تفسیر کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے، جس میں بیان ہوا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابو موسیٰ اشعری [حضرت ابو موسیٰؓ بڑے خوش آواز شخص تھے۔ ابو عثمان نہدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بھر کوئی آواز ابو موسیٰؓ کی آواز سے اچھی نہیں سنی۔] قرآن پڑھ رہے تھے، رسول اللہؐ راستہ چلتے چلتے ان کی آواز سن کر ٹھیر گئے اور کچھ دیر لطف لینے کے بعد فرمایا: <<لقد اوتی ھذا مزمارًا من مزامیر آل داؤد>>۔ (اس شخص کو لحنِ داؤدی میں سے ایک حصہ ملا ہے) یہ تاویل میرے ذوق اور بصیرت سے مطابقت رکھتی ہے۔ اگر کوئی شخص اس کو پسند نہیں کرتا تو اسے غلط کہہ سکتا ہے، مگر میری تکفیر نہیں کر سکتا۔
(۳) تیسری آیت کا جو مفہوم مصنف نے بیان کیا ہے، وہ الفاظِ قرآنی کے خلاف نہیں ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں کہ ”ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا“۔ رہا سلف کا یہ قول کہ ”حضرت داؤدؑ کے ہاتھ میں آتے ہی لوہا آٹے کی طرح نرم ہو جاتا تھا“ تو بلاشبہ یہ قول حسن بصری اور قتادہ اور اعمش وغیرہم سے منقول ہے، مگر یہ لوگ خدا کی طرف سے کب مبعوث ہوئے تھے کہ ان کے اقوال کو ترک کر دینے سے انسان کافر ہو جائے؟ قرآن میں کہیں اس مفہوم کی تصریح نہیں کی گئی ہے، نہ رسولؐ اللہ سے کوئی حدیث اس معنی میں مروی ہے۔ پھر یہ کیا غضب ہے کہ لوگوں کو قرآن اور رسولؐ اللہ کے ساتھ حسن اور قتادہ اور اعمش پر بھی ایمان لانے کے لیے پابند کیا جاتا ہے اور جو شخص ان کے اقوال کو چھوڑتا ہے، اسے بھی ویسا ہی کافر ٹھیرایا جاتا ہے جیسا اس شخص کو جو قرآن اور نبی کے ارشاد سے انحراف کرے۔
(۴) اس آیت کی تفسیر پر جو اعتراض کیا گیا ہے وہ بھی اتنا ہی لغو ہے جتنا آیت نمبر ۳ کی تفسیر پر ہے۔ آیت کے الفاظ صرف یہ کہتے ہیں کہ ”حضرت زکریا علیہ السلام جب کبھی حضرت مریم علیہا السلام کے پاس محراب میں جاتے تو ان کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے کا سامان موجود پاتے۔ اور جب حضرت مریم علیہا السلام سے پوچھتے کہ یہ کہاں سے آیا؟ تو وہ جواب دیتیں کہ ”خدا کے پاس سے“۔ اب رہا یہ امر کہ وہ کھانے کا سامان دراصل گرمی کا میوہ جاڑے میں اور جاڑے کا گرمی میں ہوتا تھا، تو یہ نہ قرآن میں مذکور ہے اور نہ کسی حدیث صحیح میں، بلکہ یہ قتادہ اور عکرمہ اور سعید بن جبیر اور ضحاک وغیرہم کا بیان ہے۔ تو اب ان لوگوں کی رائے سے اختلاف کرنے والے بھی کافر بنائے جائیں گے؟ اگر ایسا ہے تو آپ امام مجاہد کے حق میں کیا فرمائیں گے جنھوں نے مذکورہ بالا بزرگوں سے اختلاف کر کے ”رزق“ کی تاویل علم سے کی اور کہا کہ حضرت مریم علیہا السلام کے پاس صحیفے پائے جاتے تھے جن میں علم ہوتا تھا؟ اور اس حدیث کے متعلق کیا ارشاد ہے جو جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبیؐ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بھوک میں تشریف لے گئے اور کچھ کھانے کو طلب کیا۔ انھوں نے کہا کہ واللہ! میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ حضورؐ واپس تشریف لے گئے۔ اتنے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ایک ہمسائی نے دو روٹیاں اور کچھ گوشت بھیج دیا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فوراً اپنے بچوں میں سے ایک کو دوڑایا کہ حضورؐ کو واپس بلا لائیں۔ جب حضورؐ تشریف لائے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کھانا پیش کیا۔ آپؐ نے پوچھا کہ بیٹی! یہ کہاں سے آیا؟ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: يَا اَبَتِ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ۔ (ابا جان! یہ اللہ کے ہاں سے آیا ہے) اس پر حضورؐ نے فرمایا: ’’بیٹی خدا کا شکر ہے جس نے تجھے سیدۃ النساء نسائے بنی اسرائیل (مریم علیہا السلام) کے مشابہ بنایا۔ ان کے پاس بھی جب خدا کی طرف سے رزق آتا اور ان سے پوچھا جاتا کہ یہ کہاں سے آیا ہے تو وہ کہتی تھیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے‘‘۔ اس حدیث کو حجت بنا کر اگر کوئی کہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کے پاس پردۂ غیب سے رزق نہیں اترتا تھا، بلکہ اللہ نے ان کے لیے ایسا سامان کر دیا تھا کہ وہ بے سہارے اور بے وسیلہ ایک محراب میں بیٹھی ہوئی تھیں اور وقت پر کوئی نہ کوئی شخص ان کو کھانا پہنچا دیا کرتا تھا تو کیا ایسی تاویل کرنے والے کو کافر ٹھہرایا جائے گا؟ پھر یہ امر بھی غور طلب ہے کہ گرمی کا میوہ جاڑے میں اور جاڑے کا گرمی میں ملنا بجز خرقِ عادت کے اور کون سی خوبی اپنے اندر رکھتا ہے؟ اللہ نے جو میوہ جس موسم میں پیدا کیا ہے، وہ اسی موسم کے لیے نعمت ہے، کیونکہ وہ اس موسم کی طبیعت کے لحاظ سے پیدا کیا گیا ہے۔ دوسرے موسم میں اس میوے کا ملنا عجوبہ تو ہو سکتا ہے مگر نعمت نہیں۔
(۵) اس آیت کی تاویل میں امام رازی فرماتے ہیں:
<<واعلم انه ليس فى لفظ الآية ما يدل على كيفية تلك الالواح وعلى كيفية تلك الكتابة فان ثبت ذالك التفصيل بدليل منفصل قوى وجب القول به والا وجب السكوت عنه.>>
معلوم ہونا چاہیے کہ اس آیت کے الفاظ سے واضح طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ لوحیں کیسی تھیں اور اس کتابت کی کیفیت کیا تھی۔ اب اگر کسی دوسری قوی دلیل سے یہ تفصیل ثابت ہو، تب تو اس کا قائل ہو جانا چاہیے، ورنہ اس باب میں سکوت ہی مناسب ہے۔
کیا امام رازی کی بھی تکفیر کی جائے گی کہ انھوں نے بخاری کی حدیث مذکور ہوتے ہوئے کیفیتِ کتابت کی تفصیل کو غیر ثابت سمجھا ہے؟ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظلم ہوسکتا ہے کہ اگر کسی شخص کے نزدیک کسی حدیث کے الفاظ یا اسناد مشتبہ ہوں اور اس بنا پر وہ اس کا قائل نہ ہو تو اسے قولِ رسولؐ کا منکر ٹھہرا دیا جائے؟ اس نوعیت کے کفر سے علمائے سلف میں سے کون سا عالم اور امام بچ سکتا ہے؟ چھوٹے لوگوں کو چھوڑیے بڑے بڑے ائمہ سے جن کی امامت صدیوں سے دنیائے اسلام میں مسلّم ہے، ایسے اقوال منقول ہیں جو بعض روایات کے خلاف پڑتے ہیں۔ کیا ان سب کو منکرِ فرمانِ رسولؐ قرار دیا جائے گا؟
وہ حدیث جس سے معترضین نے استدلال کیا ہے، بخاری میں چار جگہ آئی ہے اور چاروں جگہ اس کے الفاظ مختلف ہیں:
کتاب القدر میں طاؤس ، ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں: <<اصطفك الله بكلامه وخط لك بيده>> ۔ اللہ کا اپنے ہاتھ سے تورات لکھنا صرف اسی روایت میں بیان ہوا ہے۔
کتاب التوحید اور احادیث الانبیا میں حمید بن عبدالرحمن، ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں: <<اصطفاك الله برسالته وبكلامه>> یا <<(برسالاته وبكلامه)>> اس روایت میں ہاتھ سے تورات لکھنے کا مضمون نہیں ہے۔
کتاب التفسیر میں محمد بن سیرین ، ابو ہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں: <<إصطفاك الله برسالته واصطفاك لنفسه وانزل عليك التوراة>> ۔ یہاں بھی ہاتھ سے تورات لکھنے کا مضمون نہیں ہے۔
امام مسلم نے کتاب القدر میں چار حدیثیں نقل کی ہیں جو سب حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہیں اور ان میں سے تین اس مضمون سے خالی ہیں۔ دوسری معتبر کتب حدیث میں بھی یہی حال ہے کہ اکثر روایت میں ایسی کوئی عبارت نہیں جو ہاتھ سے تورات لکھنے کی تصریح کرتی ہو۔ اس تقابل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اوّل تو یہ حدیث باللفظ نہیں، بلکہ بالمعنی روایت ہوئی ہے۔ دوسرے یہ امر مشکوک ہے کہ آیا رسول اللہ نے خَطَّ لَكَ بِيَدِهِ ۔ (یعنی اللہ نے تورات اپنے ہاتھ سے آپ کو لکھ کر دی تھی) کے الفاظ فرمائے تھے یا نہیں۔ پس یہ انتہا درجے کی بے احتیاطی بلکہ جرم ہے کہ ایسے ایک مشتبہ امر کی بنیاد پر کسی مسلمان کی تکفیر کی جائے۔
(۶) اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابن عباسؓ کے قول کو حجت بنا کر مصنف کی تکفیر کی گئی ہے۔ حالانکہ خود حضرت ابن عباسؓ سے تین مختلف قول منقول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ شاہد جس نے حضرت یوسف علیہ السلام اور امراۃ العزیز کے معاملے میں فیصلہ دیا تھا، ذُوْ لِحْيَةِ ( ڈاڑھی والا تھا) ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ شاہِ مصر کے مصاحبوں میں سے تھا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ ”ایک بچہ تھا گہوارے میں“ اب کیوں نہ معترضین جرات کر کے خود حضرت ابن عباسؓ ہی کی تکفیر کر دیں؟ اور کیوں نہ ساتھ ہی مجاہد، عکرمہ، حسن، قتادہ، محمد ابن اسحاق، سدّی اور زید بن اسلم کو بھی لپیٹ لیں کیونکہ یہ سب بالاتفاق کہتے ہیں کہ وہ بچہ نہ تھا بلکہ مرد تھا؟
کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس بات کو قطعاً اہمیت نہیں دی حتیٰ کہ جس کا ذکر تک ضروری نہ سمجھا اس کو اتنی اہمیت دی جائے کہ اگر کوئی شخص اسے نظر انداز کر دے تو اسے کافر ٹھیرایا جائے ۔ قرآن واقعات کی غیر ضروری تفصیلات کو عموماً چھوڑ دیتا ہے، اور صرف اُن اہم اجزا کو بیان کرتا ہے جو نفس مقصود سے تعلق رکھتے ہیں، مگر بعض مفسرین کا ذوق اس طرح ہے کہ وہ اُن غیر ضروری تفصیلات کا کھوج لگاتے ہیں جنھیں قرآن نے نظر انداز کر دیا ہے۔ مثلاً قرآن کہتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چار پرندے لینے کا حکم دیا گیا۔ یہ واقعہ جس غرض کے لیے بیان کیا گیا ہے، اس میں یہ تفصیل غیر ضروری تھی کہ وہ پرندے کون کون سے تھے، مگر بعض مفسرین نے معلوم نہیں کس جگہ سے پتا چلایا کہ وہ پرندے مور اور کوّا اور کبوتر تھے۔ اسی طرح قرآن حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ میں صرف اتنا بیان کرتا ہے کہ ایک شاہد نے قرائن کی شہادت سے حضرت یوسف علیہ السلام کی برأت ثابت کی۔ اس میں یہ سوال کہ شاہد کی عمر کیا تھی بالکل غیر اہم تھا، اس لیے قرآن نے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا، مگر بعض مفسرین نے شاہد کی عمر کا کھوج لگانا بھی ضروری سمجھا۔ ایسی باتوں سے جس شخص کو دلچسپی ہو، وہ مفسرین کے اقوال کو قبول کرنے کا اختیار رکھتا ہے، لیکن یہ کیا ظلم کہ جو لوگ ان اقوال کو نظر انداز کر دیں اور صرف انھی اُمور تک تفسیر کو محدود رکھیں جنھیں قرآن نے بیان کیا ہے تو ان کی تکفیر کی جائے۔ اور پھر تکفیر بھی اس بنیاد پر کہ تم نے سلف کے قول سے انحراف کیا ہے؟ آخر معلوم تو ہو کہ یہ ”سلف“ کون سے انبیا تھے جن پر ایمان لانے کی مسلمانوں کو تکلیف دی گئی ہے؟
(۷) ساتویں آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے:
”کیا یہ لوگ اس کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس ملائکہ آئیں یا تیرا ربّ (خود) آ جائے یا تیرے ربّ کی بعض کھلی نشانیاں آ جائیں؟ جس روز تیرے ربّ کی کھلی نشانیاں آ جائیں گی اس روز تو کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لا چکا ہو۔ جس نے اپنے ایمان میں کسی بھلائی (عمل صالح) کا اکتساب نہ کیا ہو“۔
خط کشیدہ فقرے میں جس دن کا ذکر کیا گیا ہے، اس سے مراد وہ دن بھی ہو سکتا ہے جب اللہ کا عذاب سر پر آ جائے، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: <<فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ اِيْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا>> (المؤمن 85:40) اور اس سے مراد موت کا وقت بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ <<ان الله تعالى يقبل توبة العبد ما لم يغرغر>>۔ یعنی جب جان کنی شروع ہو جائے اور حلق میں گھونگرو بولنے لگے اس وقت اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول نہیں کرتا۔ اور اس سے مراد وہ وقت بھی ہو سکتا ہے جب قیامت کی کھلی ہوئی علامات ظاہر ہونے لگیں، جیسا کہ اُس حدیث میں مذکور ہوا ہے جس کا حوالہ معترضین نے دیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص ان معانی میں سے ایک معنی بیان کرتا ہے اور دوسرے معنی کی تکذیب نہیں کرتا تو آخر اس کی تکفیر کس بنا پر کی جاتی ہے۔ جبکہ قرآن کے الفاظ تینوں معنوں کے محتمل ہیں اور ہر معنی کی تائید قرآن یا حدیث سے ہوتی ہے تو ان تینوں میں سے ایک معنی بیان کرنے والا آخر کس جرم کی پاداش میں کافر ہوجائے گا؟
(۸) آٹھویں آیت کے جو معنی مصنف نے بیان کیے ہیں وہ الفاظِ قرآنی کے بالکل مطابق ہیں، اور اس حدیث کے بھی خلاف نہیں ہیں جس کا حوالہ معترضین نے دیا ہے۔ وہ اس آیت کے صرف ایک پہلو پر روشنی ڈالتی ہے، یعنی یہ کہ حیاتِ اُخروی کے دروازے میں قدم رکھتے ہی اللہ تعالیٰ مومن کو کلمۂ توحید سے کس طرح ثبات بخشے گا۔ سو مصنف اس کا منکر نہیں ہے۔ وہ بھی آخرت میں ثبات بخشے جانے کا قائل ہے۔ البتہ اگر معترضین اس حدیث کو حجت بنا کر دنیا کی زندگی میں کلمۂ توحید سے ثبات حاصل ہونے کا انکار کرتے ہیں تو وہ خود قرآن کی تکذیب کے مجرم ہیں، کیونکہ قرآن فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ کہہ رہا ہے، اور حدیث میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا کی تردید کرتا ہو۔
یہ سخت جہالت کی بات ہے کہ بعض آیات کی تفسیر میں جو احادیث یا آثار منقول ہیں ان کو حصر کے معنی میں لے لیا جائے اور یہ گمان کر لیا جائے کہ ان آیات کا کوئی مفہوم اُس مفہوم کے سوا یا اس مفہوم سے زائد نہیں ہے، جو ان احادیث یا آثار میں بیان ہوا ہے۔ جو لوگ تفسیر کی کتابوں میں کوئی حدیث یا اثر دیکھ کر سمجھ لیتے ہیں کہ آیت کا مفہوم صرف اسی قدر ہے، اور اس سے زائد یا اس سے مختلف مفہوم بیان کرنے والے کو حدیث یا اثر کا منکر قرار دیتے ہیں، وہ دراصل سلف کے طریقے سے ناواقف ہیں اور اپنے جہل کی کند چھری سے بندگانِ خدا کے ایمان کو ذبح کرتے ہیں۔ انھیں علامہ ابن القیم کے ان الفاظ کو غور سے پڑھنا چاہیے:
’’ابن عباس اور دوسرے بندگانِ سلف کا طریقہ یہ ہے کہ بسا اوقات وہ آیت کے معنی اور دلالات میں سے کسی ایک چیز کی طرف اشارہ کر دیتے ہیں، مگر ناواقف لوگ اس غلط فہمی میں پڑ جاتے ہیں کہ آیت کا کوئی اور مفہوم اس معنی کے سوا نہیں ہے‘‘
(اعلام الموقعین، جلد ۱ ص ۵۸)
(۹) البیت المعمور کی تفسیر پر جو اعتراض کیا گیا ہے وہ بھی اسی نوعیت کا ہے جیسا نمبر ۸ میں مذکور ہوا۔ حدیث میں جو ارشاد ہوا ہے کہ بیت المعمور آسمان میں ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بیت المعمور زمین میں نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آسمان میں بھی ہے۔ حصر کا پہلو اختیار کرنا محض ناواقفیت کی دلیل ہے۔ آیت کے الفاظ عام ہیں اور دوسرے معانی کا بھی احتمال رکھتے ہیں۔ ایک شخص بیت المعمور سے مراد بیت اللہ بھی لے سکتا ہے۔ پوری زمین کو بھی بیت المعمور قرار دے سکتا ہے۔ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ البیت کا الف لام تعریف جنس کے لیے ہے اور اس سے مراد ہر آباد جگہ ہے۔ یہ سب معانی اس مقصود سے مطابقت رکھتے ہیں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے البیت المعمور کی قسم کھائی ہے۔ پھر آخر کس دلیل سے انسان کے فہم پر دوسرے تمام معانی کا دروازہ بند کیا جاسکتا ہے؟
مزید برآں یہ کتنی زیادتی ہے کہ جو شخص کسی حدیث کے بارے میں ساکت ہو، اسے حدیث کا منکر یا مکذب ٹھہرا دیا جائے۔ کیا سکوت کے معنی صرف انکار اور تکذیب ہی کے ہیں؟ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ اسے اس حدیث کا علم نہ ہو؟ اگر بالفرض وہ اسی لیے سکوت اختیار کرتا ہے کہ وہ اس حدیث کا قائل نہیں ہے، تب بھی اس کی تکفیر کیسے کی جا سکتی ہے؟ تکفیر صرف اُسی صورت میں ممکن ہے جبکہ ایک شخص حدیث کو صحیح مانے اور پھر یہ کہے کہ جو بات رسول اللہ سے ثابت ہے اس کو میں تسلیم نہیں کرتا، لیکن اگر وہ اس امر میں شک رکھتا ہو کہ یہ حدیث نبی سے ثابت ہے یا نہیں، اور اس بنا پر حدیث کو ردّ کرتا ہو تو اسے کفر یا الحاد کا الزام کیسے دیا جاسکتا ہے؟
اس بحث سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ کفر، الحاد اور دہریت جن چیزوں کا نام ہے، ان میں سے کوئی بھی اُن عبارات میں نہیں پائی جاتی جو زیر بحث تفسیر سے سائل نے نقل کی ہیں۔ اس کے مصنف کی بعض باتوں کو غلط کہا جاسکتا ہے، مگر کسی چیز کا غلط ہونا اور چیز ہے اور اس کا کفر یا دہریت یا الحاد ہونا اور چیز۔ جو شخص قواعد شرعیہ سے واقف ہو اور یہ جانتا ہو کہ ثبوت کفر کے لیے کن چیزوں کا تحقق ہونا ضروری ہے، وہ ہرگز یہ جسارت نہیں کر سکتا کہ جہاں اپنے نزدیک کوئی بات غلط پائے وہاں کفر کا حکم لگا دے، مگر یہ مسلمانوں کی سخت بدقسمتی ہے کہ جو لوگ ان کے مقتدا بنے ہوئے ہیں، ان میں سے بعض تو حقیقتاً قواعدِ شرعیہ سے ناواقف ہیں اور صرف حملِ اسفار کی حد تک علم رکھتے ہیں، اور بعض ذی علم تو ہیں مگر خدا کے سامنے اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں رکھتے، اس لیے انھوں نے اپنا یہ شیوہ بنالیا ہے کہ جہاں کسی سے ناراض ہوئے، بلا تامل اس کے خلاف کفر کا حکم صادر کر دیا۔ یہ لوگ بے تکلف کفر و الحاد کے الفاظ کو ’غلط‘ کے معنی میں بولتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو ان کی رائے میں غلط ہے، وہ یا تو کفر ہے یا الحاد یا دہریت۔ بہت رعایت کریں گے تو فسق اور گمراہی کا حکم لگا دیں گے۔ اس سے کم وزن کا لفظ ان کی لغت میں ہے ہی نہیں۔
جو لوگ میری روش سے واقف ہیں، وہ جانتے ہیں کہ میں اس قسم کے جھگڑوں سے ہمیشہ الگ رہتا ہوں، حتیٰ کہ اگر کوئی مناظرے کے شوقین جھگڑے پر اُتر آئیں تو باوّل و ہلہ ہی ان سے ہار مان کر پیچھا چھڑا لیتا ہوں۔ اب اگر آج اپنے طریقے سے ہٹ کر اس بحث میں چند صفحے سیاہ کر رہا ہوں تو اس سے میرا مقصد اُس خاص مقدمے میں دخل دینا ہرگز نہیں ہے جسے سائل نے اپنے سوال میں پیش کیا ہے۔ ایسے مقدمات تو ہماری قوم میں اس کثرت سے چھڑے ہوئے ہیں کہ ان کا تصفیہ کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔ میرا مقصد اس بحث سے صرف یہ ہے کہ اوّل تو اُن علما کے ضمیر سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ جو اس قسم کے جھگڑے مسلمانوں میں برپا کر کے اسلام کی طاقت کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دنیا کی نگاہوں میں اپنے ساتھ اپنے دین کو بھی مضحکہ بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ میں عام مسلمانوں کو بھی بتانا چاہتا ہوں کہ ان کے مذہبی پیشوا عام طور پر جن مسائل کو چھیڑ کر انھیں آپس میں لڑا رہے ہیں، وہ کس قدر بے حقیقت ہیں اور ان میں اُلجھ کر اپنا وقت اور روپیہ برباد کرنا اور اپنی قومی طاقت کو ضائع کرنا کیسی حماقت ہے کہ دنیا میں بھی اس سے رُسوائی ہو اور خدا بھی خوش نہ ہو۔
ترجمان القرآن
(ربیع الثانی ۱۳۵۸ھ مطابق جون ۱۹۳۹ء)