مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #656

مسلسل نمبر: 656 · کتاب 7، حدیث 40

100%
زیرِ جائزہ
صحیحHasan Sahih (Al-Albani)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الضُّبَعِيُّ السَّدُوسِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ سَأَلَ ‏ "‏ أَصَدَقَةٌ هِيَ أَمْ هَدِيَّةٌ ‏"‏ ‏.‏ فَإِنْ قَالُوا صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ وَإِنْ قَالُوا هَدِيَّةٌ أَكَلَ ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَلْمَانَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسٍ وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَأَبِي عَمِيرَةَ جَدُّ مُعَرَّفِ بْنِ وَاصِلٍ وَاسْمُهُ رُشَيْدُ بْنُ مَالِكٍ وَمَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي رَافِعٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ ‏.‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ وَجَدُّ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَحَدِيثُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏

اردو ترجمہ

معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: ”صدقہ ہے یا ہدیہ؟“ اگر لوگ کہتے کہ صدقہ ہے تو آپ نہیں کھاتے اور اگر کہتے کہ ہدیہ ہے تو کھا لیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- بہز بن حکیم کی یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں سلمان، ابوہریرہ، انس، حسن بن علی، ابوعمیرہ ( معرف بن واصل کے دادا ہیں ان کا نام رشید بن مالک ہے ) ، میمون ( یا مہران ) ، ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، ابورافع اور عبدالرحمٰن بن علقمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نیز یہ حدیث عبدالرحمٰن بن علقمة، سے بھی مروی ہے انہوں نے اسے عبدالرحمٰن بن أبي عقيل سے اور عبدالرحمٰن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔

انگریزی ترجمہ

When something was brought to him, the Messenger of Allah would ask: 'Is this charity or a gift?' If they said: 'Charity.' He would not eat it, and if they said, 'A gift' he would eat it

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔