مرکزی مواد پر جائیں
جامع ترمذی کی طرف واپس

جامع ترمذی #630

مسلسل نمبر: 630 · کتاب 7، حدیث 14

100%
زیرِ جائزہ
صحیحIsnaad Sahih (Zubair Ali Zai)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ سَأَلَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ صَدَقَةِ الْعَسَلِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ مَا عِنْدَنَا عَسَلٌ نَتَصَدَّقُ مِنْهُ وَلَكِنْ أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ فِي الْعَسَلِ صَدَقَةٌ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ عَدْلٌ مَرْضِيٌّ ‏.‏ فَكَتَبَ إِلَى النَّاسِ أَنْ تُوضَعَ ‏.‏ يَعْنِي عَنْهُمْ ‏.‏

اردو ترجمہ

نافع کہتے ہیں کہ مجھ سے عمر بن عبدالعزیز نے شہد کی زکاۃ کے بارے میں پوچھا تو میں نے کہا کہ ہمارے پاس شہد نہیں کہ ہم اس کی زکاۃ دیں، لیکن ہمیں مغیرہ بن حکیم نے خبر دی ہے کہ شہد میں زکاۃ نہیں ہے۔ تو عمر بن عبدالعزیز نے کہا: یہ مبنی برعدل اور پسندیدہ بات ہے۔ چنانچہ انہوں نے لوگوں کو لکھا کہ ان سے شہد کی زکاۃ معاف کر دی جائے۔

انگریزی ترجمہ

Umar bin Adbul-Aziz asked me about charity due on honey, so I said to him: 'We do not have honey that we could give charity from, but Al-Mughirah bin Hakim informed us that he (pbuh) said: 'There is no charity due on honey.' So Umar said: 'That is fair enough for me.' So he wrote to the people that is be lifted, meaning (the duty of paying it) from them

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔