جامع ترمذی #3918
مسلسل نمبر: 3918 · کتاب 49، حدیث 318
مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلأْوَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ وَسُبَيْعَةَ الأَسْلَمِيَّةِ .هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ .
اردو ترجمہ
ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا: تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، ( آپ نے کہا ) «اصبري لكاع» ! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اس کی ( مدینہ کی ) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
انگریزی ترجمہ
Times have become hard on me and I want to go to Al-'Iraq." He said: "Why not to Ash-Sham the land of the resurrection? Have patience you foolish lady; I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever endures its hardships and difficulties (Al-Madinah) then I will be a witness, or an intercessor for him on the Day of Judgement." [He said:] There are narrations on this topic from Abu Sa'eed, Sufyan bin Abi Zuhair, and Subai'ah Al-Aslamiyyah
سند دیکھیں (1 راوی)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ ابْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رضى الله عنهما أَنَّ مَوْلاَةً، لَهُ أَتَتْهُ فَقَالَتِ اشْتَدَّ عَلَىَّ الزَّمَانُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الْعِرَاقِ . قَالَ فَهَلاَّ إِلَى الشَّأْمِ أَرْضِ الْمَنْشَرِ اصْبِرِي لَكَاعِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
- 1صحابی (راویِ اول)