مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #3548

مسلسل نمبر: 3548 · کتاب 27، حدیث 162

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مَاهَانَ، - بَصْرِيٌّ - عَنْ هُشَيْمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، وَحُصَيْنٌ، وَمُغِيرَةُ، وَدَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَذَكَرَ، آخَرِينَ عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَضَاءِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهَا فَقَالَتْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ فَخَاصَمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي السُّكْنَى وَالنَّفَقَةِ قَالَتْ فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلاَ نَفَقَةً وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ‏.‏

اردو ترجمہ

شعبی کہتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے ان کے معاملہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پوچھا؟ انہوں نے کہا: میرے شوہر نے مجھے طلاق بتہ ( تین طلاق قطعی ) دی تو میں ان سے نفقہ و سکنیٰ حاصل کرنے کا اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی تو آپ نے مجھے نفقہ و سکنیٰ پانے کا حقدار نہ ٹھہرایا اور مجھے حکم دیا کہ میں اب ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت کے دن گزاروں۔

انگریزی ترجمہ

I came to Fatimah bint Qais and asked her about the ruling of the Messenger of Allah concerning her. She said that her husband divorced her irrevocably, and she referred her dispute with him, concerning accommodation and maintenance, to the Messenger of Allah. She said: 'He did not give me (the right to) accommodation and maintenance, and he told me to observe my 'Iddah in the house of Ibn Umm Maktum

سند دیکھیں

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔