سنن نسائی #3538
مسلسل نمبر: 3538 · کتاب 27، حدیث 152
أَلاَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " . ثُمَّ قَالَتْ إِنِّي أَخَافُ عَلَى بَصَرِهَا فَقَالَ " لاَ إِلاَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَحِدُّ عَلَى زَوْجِهَا سَنَةً ثُمَّ تَرْمِي عَلَى رَأْسِ السَّنَةِ بِالْبَعْرَةِ " .
اردو ترجمہ
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ قریش کی ایک عورت آئی اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی آشوب چشم میں مبتلا ہے اور وہ اپنے شوہر کے مرنے کا سوگ منا رہی ہے تو کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا دوں؟ آپ نے فرمایا: ”کیا چار مہینے دس دن نہیں ٹھہر سکتی؟“ اس عورت نے پھر کہا: مجھے اس کی بینائی کے جانے کا خوف ہے۔ آپ نے فرمایا: ”نہیں، چار ماہ دس دن پورا ہونے سے پہلے نہیں لگا سکتی، زمانہ جاہلیت میں تمہاری ہر عورت اپنے شوہر کے مرنے پر سال بھر کا سوگ مناتی تھی پھر سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔
انگریزی ترجمہ
A woman from the Quraish came and said: 'O Messenger of Allah, my daughter's eyes are inflamed; shall I apply kohl to her?' (The daughter's) husband had died so (the Prophet) said: 'Not until four months and ten days (have passed).' Then she said: 'I fear for her sight.' He said: 'No, not until four months and ten days (have passed). During the Jahiliyyah one of you would mourn for her husband for a year, then when one year had passed she would throw a piece of dung
سند دیکھیں
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، - وَهُوَ ابْنُ مُوسَى - قَالَ حُمَيْدٌ وَحَدَّثَتْنِي زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنَتِي رَمِدَتْ أَفَأَكْحُلُهَا . وَكَانَتْ مُتَوَفًّى عَنْهَا . فَقَالَ
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔