مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #3476

مسلسل نمبر: 3476 · کتاب 27، حدیث 88

100%
زیرِ جائزہ
صحیحSahih (Al-Albani)

‏ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ وَلاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ ‏"‏ لاَ مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والوں سے کہا: تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ تم میں سے کوئی ایک ضرور جھوٹا ہے، ( مرد سے کہا: ) تمہارا اب اس ( عورت ) پر کچھ حق و اختیار نہیں ہے ۱؎، مرد نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”تمہارا کوئی مال نہیں ہے۔ اگر تم نے اس پر صحیح تہمت لگائی ہے تو تم نے اب تک اس کی شرمگاہ سے حلت کا جو فائدہ حاصل کیا ہے وہ مال اس کا بدل ہو گیا اور اگر تم نے اس عورت پر جھوٹا الزام لگایا ہے تو یہ تو تمہارے لیے اور بھی غیر مناسب ہے“ ۲؎۔

انگریزی ترجمہ

I heard Sa'eed bin Jubair say: 'I asked Ibn 'Umar about the two who engage in Li'an. He said: 'The Messenger of Allah said to the two who engaged in Li'an: Your reckoning will be with Allah. One of you is lying, and you cannot stay with her. He said: O Messenger of Allah, my wealth! He said: You are not entitled to any wealth. If you are telling the truth about her, then it is in return for having been allowed intimacy with her, and if you are lying then you are even less entitled to it

سند دیکھیں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔