مرکزی مواد پر جائیں
سنن نسائی کی طرف واپس

سنن نسائی #3410

مسلسل نمبر: 3410 · کتاب 27، حدیث 22

100%
زیرِ جائزہ
ضعیفDaif (Al-Albani)

‏ ثَلاَثٌ ‏"‏ ‏.‏ فَلَقِيتُ كَثِيرًا فَسَأَلْتُهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ فَرَجَعْتُ إِلَى قَتَادَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ نَسِيَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ ‏.‏

اردو ترجمہ

حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے کہا: کیا آپ حسن کے سوا کسی کو جانتے ہیں؟ جو «أمرک بیدک» کہنے سے تین طلاقیں لاگو کرتا ہو؟ انہوں نے کہا نہیں ( میں کسی کو بھی نہیں جانتا ) پھر انہوں نے کہا: اللہ انہیں بخش دے اب رہی قتادہ کی حدیث جو انہوں نے مجھ سے کثیر مولی ابن سمرۃ سے روایت کی ہے اور کثیر نے ابوسلمہ سے انہوں نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تین طلاقیں ہوتی ہیں“ تو ( اس کا حال یہ ہے کہ ) میری ملاقات کثیر سے ہوئی میں نے ان سے ( اس حدیث کے متعلق ) پوچھا تو انہوں نے اسے پہچانا ہی نہیں ( کہ میں نے ایسی کوئی روایت کی ہے ) میں لوٹ کر قتادہ کے پاس آیا اور انہیں یہ بات بتائی ( کہ وہ ایسا کہتے ہیں ) تو قتادہ نے کہا کہ وہ بھول گئے ( انہوں نے ایسی بات کہی ہے ) ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔

انگریزی ترجمہ

I said to Ayyub: 'Do you know anyone who said concerning the phrase 'It is up to you' that it is equivalent to three (divorces) except Al-Hasan?' He said: 'No.' Then he said: 'O Allah! Grant forgiveness, sorry.'" Qatadah narrated to me from Kathir the freed slave of Ibn Samurah, from Abu Salamah, from Abu Hurairah, that the Prophet said: "Three." I met Kathir and asked him, and he did not know of it. I went back to Qatadah and told him, and he said: "He forgot

سند دیکھیں

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لأَيُّوبَ هَلْ عَلِمْتَ أَحَدًا قَالَ فِي أَمْرِكِ بِيَدِكِ أَنَّهَا ثَلاَثٌ غَيْرَ الْحَسَنِ فَقَالَ لاَ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ غَفْرًا إِلاَّ مَا حَدَّثَنِي قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔