صحیح مسلم #6901
مسلسل نمبر: 6901 · کتاب 48، حدیث 94
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ كَانَ يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جِدِّي وَهَزْلِي وَخَطَئِي وَعَمْدِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ " .
اردو ترجمہ
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابواسحٰق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ یہ دعا فرمایا کرتے تھے : " اے اللہ! میری خطاء میری لا علمی ، اپنے ( کسی ) معاملے میں میرا حد سے آگے یا پیچھے رہ جانا اور وہ سب کچھ جو میری نسبت تو زیادہ جانتا ہے سب معاف فرما دے ۔ اے اللہ! میرے وہ سب کام جو ( تجھے پسند نہ آئے ہوں ) میں نے سنجیدگی سے کیے ہوں یا مزاحا کیے ہوں ، بھول چوک کر کیے ہوں یا جان بوجھ کر کیے ہوں اور یہ سب مجھ سے ہوئے ہوں ، ان کو بخش دے ۔ اے اللہ! میری وہ باتیں ( جو تجھے پسند نہیں آئیں ) بخش دے جو میں نے پہلے کیں یا جو میں نے بعد میں کیں ، اکیلے میں کیں یا جو میں نے سب کے سامنے کیں اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جاننے والا ہے ، تو ہی ( جسے چاہے اپنی رحمت کی طرف ) آگے بڑھانے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے ۔
انگریزی ترجمہ
Abu Musa Ash'ari reported on the authority of his father that Allahs Apostle (ﷺ) used to supplicate in these words:" O Allah, forgive me my faults, my ignorance, my immoderation in my concerns. And Thou art better aware (of my affairs) than myself. O Allah, grant me forgiveness (of the faults which I committed) seriously or otherwise (and which I committed inadvertently and de- liberately. All these (failings) are in me. O Allah, grant me forgiveness from the fault which I did in haste or deferred, which I committed in privacy or in public and Thou art better aware of (them) than myself. Thou art the First and the Last and over all things Thou art Omnipotent
سند دیکھیں
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔