مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #6196

مسلسل نمبر: 6196 · کتاب 44، حدیث 27

100%
زیرِ جائزہ

‏ أُرِيتُ كَأَنِّي أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيبٍ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فَنَزَعَ نَزْعًا ضَعِيفًا وَاللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَاسْتَقَى فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرْيَهُ حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوا الْعَطَنَ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

ابو بکر بن سالم نے سالم بن عبد اللہ سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے ( خواب میں دیکھا ) کہ جیسے میں ایک کنویں پر چرخی والے ڈول سے پانی نکا ل رہا ہوں ، پھر ابو بکر آگئے ، انھوں نے ایک یا دوڈول نکا لے اللہ تبارک وتعا لیٰ ان کی مغفرت فرما ئے ، انھوں نے کچھ کمزوری سے ڈول نکالے ۔ پھر عمر آئے انھوں نے پانی نکا لا تو وہ بہت بڑا ڈول بن گیا ، میں نے لوگوں میں کو ئی غیر معمولی آدمی بھی ایسا نہیں دیکھا جوان جیسی طاقت کا مظاہرہ کرسکتا ہو یہاں تک کہ لو گ سیراب ہو گئے اور انھوں نے جانوروں کو سیراب کرکے ) آرام کرنے کی جگہ پہنچادیا ۔

انگریزی ترجمہ

Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:I saw (in a dream) as if I was drawing water with a leathern bucket on a wooden pulley. There came Abu Bakr and he drew out a bucketful or two and as he drew out, some weakness (was perceived in it) (may Allah, the Exalted and Glorious, forgive him). Then Umar came in order to serve water -and the bucket was changed into a large leather bucket and I did not see such a wonderful man amongst persons (drawing water) and he went on serving water to the people until they were fully satisfied and then went to their resting places

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، - وَاللَّفْظُ لأَبِي بَكْرٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ سَالِمٍ، عَنْ سَالِمِ، بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔