صحیح مسلم #5886
مسلسل نمبر: 5886 · کتاب 0، حدیث 0
هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْئًا " . قُلْتُ نَعَمْ قَالَ " هِيهِ " . فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ " هِيهِ " . ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ " هِيهِ " . حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ . وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ عَنِ الشَّرِيدِ، قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَلْفَهُ . فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .
اردو ترجمہ
عمرو ناقد اور ابن ابی عمر ، دونوں نے ابن عیینہ سے روایت کی ۔ ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، ابرا ہیم بن میسرہ سے روایت ہے ، انھوں نے عمرو بن شرید سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا : ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہوا تو آپ نے فرما یا : " کیا تمھیں امیہ بن ابی صلت کے شعروں میں سے کچھ یاد ہے؟ " میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ آپ نے فرما یا : " تو لا ؤ ( سناؤ ۔ ) میں نے آپ کو ایک شعر سنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنا یا ۔ آپ نے فر ما یا : " اور سناؤ ۔ " میں نے ایک اور شعر سنایا ۔ آپ نے فر ما یا : " اورسناؤ ۔ " یہاں تک کہ میں نے آپ کو ایک سواشعار سنا ئے ۔
انگریزی ترجمہ
Amr b. Sharid reported his father as saying:One day when I rode behind Allah's Messenger (ﷺ), he said (to me): Do you remember any poetry of Umayya b. Abu Salt. I said: Yes. He said: Then go on. I recited a couplet, and he said: Go on. Then I again recited a couplet and he said: Go on. I recited one hundred couplets (of his poetry). This hadith has been reported on the authority of Sharid through another chain of transmitters but with a slight variation of wording
سند دیکھیں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا فَقَالَ
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔