مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #5610

مسلسل نمبر: 5610 · کتاب 38، حدیث 25

100%
زیرِ جائزہ

‏ إِنَّ أَخْنَعَ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ رَجُلٌ تَسَمَّى مَلِكَ الأَمْلاَكِ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ ‏"‏ لاَ مَالِكَ إِلاَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ الأَشْعَثِيُّ قَالَ سُفْيَانُ مِثْلُ شَاهَانْ شَاهْ ‏.‏ وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو عَنْ أَخْنَعَ فَقَالَ أَوْضَعَ ‏.‏

اردو ترجمہ

سعید بن عمرو اشعشی ، احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اورابو بکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ امام احمد کے ہیں ، اشعشی نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے خبر دی جبکہ دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ابوزناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا؛ "" اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے قابل تحقیر نام اس شخص کا ہے جو شہنشاہ کہلائے ۔ "" اور ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : "" اللہ عزوجل کے سوا کوئی ( بادشاہت کا ) مالک نہیں ہے ۔ "" اشعشی کا قول ہے : سفیان نے کہا : جیسے شاہان شاہ ( شہنشاہ ) ہے ۔ اور احمد بن حنبل نے کہا : میں نے ابو عمرو ( اسحاق بن مرار شیبانی ، نحوی ، کوفی ) سے "" اخنع "" کے بارے میں پوچھا توانھوں نے کہا : ( اس کے معنی ہیں ) اوضع ( انتہائی حقیر)

انگریزی ترجمہ

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The vilest name in Allah's sight is Malik al-Amidh (King of Kings). The narration transmitted on the authority of Shaiba (contains these words): There is no king but Allah, the Exalted and Glorious. Sufyan said: Similarly, the word Shahinshah (is also the vilest appellation). Ahmad b. Hanbal said: I asked Abu 'Amr about the meaning of Akhna. He said: The vilest

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لأَحْمَدَ - قَالَ الأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔