مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #5069

مسلسل نمبر: 5069 · کتاب 35، حدیث 6

100%
زیرِ جائزہ

‏ تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً مِنَ الْمَعْزِ فَقَالَ ‏"‏ ضَحِّ بِهَا وَلاَ تَصْلُحُ لِغَيْرِكَ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَنْ ضَحَّى قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

مطرف نے عامر ( شعبی ) سے ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میرے ماموں حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز سے پہلے قربانی کردی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ گوشت کی ایک ( عام ) بکری ہے ( قربانی کی نہیں ۔ ) " انھوں ( حضرت ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم اس کی قربانی کردو اور یہ تمہارے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے نماز سے پہلے ذبح کیا اس نے اپنے ( کھانے کے ) لئے ذبح کیا ہے اور جس نے نماز کے بعد ذبح کیا تو اس کی قر بانی مکمل ہوگئی اوراس نے مسلمانوں کے طریقے کو پا لیا ہے ۔

انگریزی ترجمہ

Al-Bara' reported:My maternal uncle Abu Burda sacrificed his animal before ('Id) prayer. Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: That is a goat (slaughtered for the sake of) flesh (and not as a sacrifice on the day of Adha). He said: I have a lamb of six months. Thereupon he said: Offer it as a sacrifice, but it will not justify for anyone except you, and then said: He who sacrificed (the animal) before ('Id) prayer, he in fact slaughtered it for his own self, and he who slaughtered after prayer, his ritual of sacrifice became complete and he in fact observed the religious practice of the Muslims

سند دیکھیں

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ ضَحَّى خَالِي أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔