مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #501

مسلسل نمبر: 501 · کتاب 1، حدیث 407

100%
زیرِ جائزہ

‏ يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَىٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي هَاشِمٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ يَا فَاطِمَةُ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي لاَ أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلاَلِهَا ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

جریر نےعبد الملک بن عمیر سے حدیث سنائی ، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ جب یہ آیت اتری : ’’اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈائیے ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا ۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ نے عمومی حیثیت سے ( سب کو ) اور خاص کر کے ( الگ خاندانوں اور لوگوں کے ان کے نام لے لے کر ) فرمایا : ’’اے کعب بن لؤی کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے مرہ بن کعب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے عبدمناف کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے بنو ہاشم کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے عبد المطلب کی اولاد! اپنےآپ کو آگ سے بچالو ، اے فاطمہ ( ینت رسول اللہﷺ ) ! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ( کسی مؤاخذے کی صورت میں ) تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، تم لوگوں کے ساتھ رشتہ ہے ، اسے میں اسی طرح جوڑتا رہوں گا جس طرح جوڑنا چاہیے ۔ ‘ ‘

انگریزی ترجمہ

Abu Huraira reported:When this verse was revealed:" And warn thy nearest kindred (al-Qur'an, xxvi. 214), the Messenger of Allah (ﷺ) called the Quraish; so they gathered and he gave them a general warning. Then he made a particular (reference to certain tribes) and said: O sons of Ka'b b. Luwayy, rescue yourselves from the Fire; O sons of Murra b. Ka'b, rescue yourselves from the Fire: O sons of Abd Shams, rescue yourselves from the Fire; 0 sons of Abd Manaf rescue yourselves from the Fire; O sons of Hashim, rescue yourselves from the Fire; 0 sons of Abd al-Muttalib, rescue yourselves from the Fire; O Fatimah, rescue thyself from the Fire, for I have no power (to protect you) from Allah in anything except this that I would sustain relationship with you

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ ‏{‏ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ‏}‏ دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُرَيْشًا فَاجْتَمَعُوا فَعَمَّ وَخَصَّ فَقَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔