صحیح مسلم #4692
مسلسل نمبر: 4692 · کتاب 32، حدیث 174
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ اسْتَسْقَى قَالَ فَلَقِيتُ يَوْمَئِذٍ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ - وَقَالَ - لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُ رَجُلٍ أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَجُلٌ - قَالَ - فَقُلْتُ لَهُ كَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ فَقُلْتُ كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً - قَالَ - فَقُلْتُ فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَالَ ذَاتُ الْعُسَيْرِ أَوِ الْعُشَيْرِ .
اردو ترجمہ
شعبہ نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی کہ ( ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کے امیر ) عبداللہ بن یزید ( بن حصین ) لوگوں کے ساتھ بارش کی دعا مانگنے کے لیے نکلے تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھیں ، پھر بارش کی دعا کی ۔ کہا : اس دن میری ملاقات حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے ہوئی ۔ کہا : میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی کے سوا کوئی نہ تھا یا ( کہا : ) میرے اور ان کے درمیان ( بس ) ایک آدمی تھا تو میں نے ان سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی جنگیں کیں؟ انہوں نے کہا : انیس ( 19 ) ۔ تو میں نے پوچھا : آپ نے ان کے ساتھ کتنی جنگیں لڑیں؟ انہوں نے کہا : سترہ جنگیں ۔ میں نے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا غزوہ کون سا تھا؟ انہوں نے کہا : ذات العسیر یا ذات العشیر
انگریزی ترجمہ
It has been narrated on the authority of Abu Ishaq that 'Abdullah b. Yazid went (out of the city) with people for offering" Istisqa" ' prayer (for rainfall). He offered two rak'ahs. Then he prayed for rain. That day I met Zaid b. Arqam. There was only one man between me and him (at that time). I asked him:How many military expeditions did the Messenger of Allah (ﷺ) undertake? He said: Nineteen expeditions. I asked him: On how many expeditions did you accompany him? He said: On seventeen expeditions. I asked: Which was the first expedition he led? He answered: Dhat-ul-, Usair or 'Ushair
سند دیکھیں
اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔