مرکزی مواد پر جائیں
صحیح مسلم کی طرف واپس

صحیح مسلم #464

مسلسل نمبر: 464 · کتاب 1، حدیث 369

100%
زیرِ جائزہ

‏ إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً رَجُلٌ صَرَفَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ قِبَلَ الْجَنَّةِ وَمَثَّلَ لَهُ شَجَرَةً ذَاتَ ظِلٍّ فَقَالَ أَىْ رَبِّ قَدِّمْنِي إِلَى هَذِهِ الشَّجَرَةِ أَكُونُ فِي ظِلِّهَا ‏"‏ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ يُذْكُرْ ‏"‏ فَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ مَا يَصْرِينِي مِنْكَ ‏"‏ ‏.‏ إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ ‏"‏ وَيُذَكِّرُهُ اللَّهُ سَلْ كَذَا وَكَذَا فَإِذَا انْقَطَعَتْ بِهِ الأَمَانِيُّ قَالَ اللَّهُ هُوَ لَكَ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ - قَالَ - ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتَهُ فَتَدْخُلُ عَلَيْهِ زَوْجَتَاهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فَتَقُولاَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَاكَ لَنَا وَأَحْيَانَا لَكَ - قَالَ - فَيَقُولُ مَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُعْطِيتُ ‏"‏ ‏.‏

اردو ترجمہ

حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اہل جنت میں سب سے کم درجے پر وہ آدمی ہوگا جس کے چہرے کو اللہ تعالیٰ دوزخ کی طرف سے ہٹا کر جنت کی طرف کر دے گا اور اس کو ایک سایہ دار درخت کی صورت دکھائی جائے گی ، وہ کہے گا : اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں ہو جاؤں ..... ‘ ‘ آگے انہوں نے ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی طرح روایت بیان کی لیکن یہ الفاظ ذکر نہیں کیے : ’’اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم کے بیٹے! کیا چیز ہے جو تجھے راضی کر کے ہمارے درمیان سوالات کا سلسلہ ختم کر دے..... ’’ البتہ انہوں نے اس میں یہ اضافہ کیا : ’’اور ا للہ تعالیٰ اسے یاد دلاتا جائے گا : فلاں چیز مانگ ، فلاں چیزطلب کر ۔ اور جب اس کی آرزوئیں ختم ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ سب کچھ تمہارا ہے اور اس سے دس گناہ اور بھی ۔ ‘ ‘ آپﷺ نے فرمایا : ’’پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہو گا اور خوبصورت آنکھوں والی حوروں میں اس کی دو بیویاں اس کے پاس آئیں گی اور کہیں گی : اللہ کی حمد جس نے تمہیں ہمارے لیے زندہ کیا اور ہمیں تمہارے لیے زندگی دی ۔ آپ نے فرمایا : تو وہ کہے گا : جو کچھ مجھے عنایت کیا گیا ہے ایسا کسی کو نہیں دیا گیا ۔ ‘ ‘

انگریزی ترجمہ

He (Allah) would say: O son of Adam! what will bring an end to your making requests to Me" to the end of the tradition. In it, he added: Allah will remind him: Ask such and such, and when his expectations would be realised, Allah would say: That is for you, and ten times as much. He said that he would then enter his house and his two wives with large and dark eyes would enter after him. They will say: Praise be to Allah, Who has created you for us and us for you. He will say: No one has been given the like of what I have been given

سند دیکھیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏

اس حدیث کی سند ابھی درج نہیں کی گئی۔ متن میں مذکور راوی کا نام تحریر میں موجود ہے، لیکن اسے اسماء الرجال کے منسلک ریکارڈ سے جوڑا نہیں گیا — یہ کام ابھی جاری ہے۔